فاٹا کا انضمام ، اصلاحات اورامید کا پہلو ۔ سلمان عابد

Salman-Abid

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض فیصلے تاریخی اعتبار سے اپنی منفرد حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان فیصلوں میں ایک بڑا فیصلہ فاٹا اور قبائلی علاقہ جات کا صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کا ہے ۔قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخواہ سے اس آئینی ترمیم کی منظوری ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کی جانب امید کی ایک بڑی کرن کے طور پر دیکھا جائے گا ۔کیونکہ بنیادی طور پر اس آئینی ترمیم کے پیچھے اصل سوچ مقامی علاقوں کی پس ماندگی ، محرومی کا خاتمہ ، بنیادی عدم سہولیات کی فراہمی ، سمیت سیاسی ، سماجی اور معاشی انصاف کو یقینی بنا کر وہاں کے لوگوں کو قومی دھارے میں لاکر ان میں اس سوچ کو اجاگر کرنا ہے کہ ان کی اہمیت بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح ریاستی نکتہ نظر سے اہمیت رکھتی ہے ۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے فاٹا اصلاحات بل کے مطابق آئین کی شق246میں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات فاٹا کو خیبر پختونخواہ جبکہ صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں پاٹا کو متعلقہ صوبوں یعنی خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے ۔خیبر پختونخواہ کا حصہ بننے والے فاٹا کے علاقوں میں مہمند ایجنسی ، باضوڑ ایجنسی ، کرم ، شمالی ، اور جنوبی وزیرستان ،خیبر اورکزئی ایجنسیوں کے علاوہ ایف آر پشاور، ایف آر بنوں، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر ڈیڑہ اسماعیل خان ، اور ایف آر ٹانک شامل ہیں ۔جبکہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بننے والا پاٹا علاقوں میں چترال ، دیر ، سوات، کوہستان، مالا کنڈ اور مانسہرہ سے منسلک قبائلی علاقہ شامل ہے۔اسی طرح بلوچستان کا حصہ بننے والے پاٹا علاقوں میں ضلع زوب، دکی تحصیل کے علاوہ باقی ضلع لورالائی ، ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین، ضلع سبی کے مری اور بگتی علاقے شامل ہیں۔

حکومت پاکستان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات کا جو منصوبہ 2مارچ2017کو منظور کیا تھا اس میں ان قبائلی علاقوں کو پانچ طریقو ں سے قومی دھارے میں لانے کی تجویز پیش کی گئی تھی او را س پر عملدرآمد کے لیے پانچ برس کی مدت رکھی گئی تھی ۔ان پانچ تجاویز میں سیاسی اصلاحات، قانونی اصلاحات، انتظامی اصلاحات ،سیکورٹی اصلاحات، معاشی اصلاحات کو شامل کیا گیا تھا ۔سب سے اہم نکتہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو سیاسی قومی دھارے میں لانا ہے ۔قبائلی علاقوں میں سیاسی عمل کو طاقت دینے کے لیے2018کے عام انتخابات کے بعد فوری طور پر اکتوبر میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو جماعتی بنیادوں پر یقینی بنانا ہے ۔سیاسی تاریخ میں پہلی بار مقامی لوگ اپنی مرضی سے اپنے سیاسی نمائندوں کا انتخاب کریں گے ۔قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی اس کے بعد دی جائے گی اور20ارکان صوبائی اسمبلی ان علاقوں کی نمائندگی کریں گے ۔امکان ہے کہ ان صوبائی ارکاین کا انتخاب اپریل 2019میں ممکن ہوگا۔آئندہ پانچ برس تک فاٹا کی قومی اسمبلی میں 12نشستیں ہونگی جبکہ آئندہ پانچ سال سینٹ میں بھی اس کی آٹھ نشستیں برقرار رہیں گی ۔

صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے ۔فاٹا کو ایف ایف سی ایورڈ کے تحت سالانہ تین فیصد رقم ملے گی ۔فاٹا کے لیے آئندہ دس برس کے لیے ہر برس دس ارب جبکہ مجموعی طور پر سو ارب روپے ترقیاتی فنڈ میں دیے جائیں گے ۔فاٹا کے یہ ترقیاتی فنڈ کسی اور علاقے میں استعما ل نہیں ہونگے ۔فاٹا میں موجودہ قانونی ڈھانچے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کو ختم کرکے پشاور ہائی کورٹ او رپاکستان کی سپریم کورٹ کا دائرہ ان قبائلی علاقوں تک وسیع کردیا جائے گا۔عدالتوں کا دائرہ اختیار ان علاقوں تک پھیلانے کے سلسلے میں قانون سازی کی جاچکی ہے او رججوں کا انتخاب بھی ہوچکا ہے جو قبائلی علاقوں کے مقدمات سنیں گے۔اسی طرح انتظامی اقدامات کے پیش نظر نیا سول سروس کا ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا۔سیکورٹی اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کو جدید تربیت، اسلحہ کی فراہمی سمیت لیویز میں مزید بیس ہزار افراد کی نئی بھرتی کی جائے گی ۔

اچھی بات یہ ہے کہ اس فاٹا یا قبائلی علاقوں کے انضمام پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا ۔ البتہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی جماعتوں نے کھل کر اس کی مخالفت کی ۔ حالانکہ حالانکہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک برس تک کام کرنے والی کمیٹی جس میں سب فریقین کو شامل کیا گیا تھا ان کی پیش کی گئی سفارشات پر آئینی ترمیم کی گئی ، قومی ، صوبائی اسمبلیوں سمیت سینٹ سے اس کی منظوری اس ترمیم کی سیاسی اور قانونی ساکھ کی اہمیت کو بڑھاکر اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ یہ ترمیم جبر کی بنیاد پر کئی گئی ہے ۔مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو سیاسی اور جمہوری انداز میں سب فریقین کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے او ربلاوجہ اس کی مخالفت سے اس اہم منصوبے کی افادیت کو سیاسی بحران کا حصہ نہیں بنانا چاہیے ۔

اصولی طور پر تو اس بل کی منظوری بہت پہلے سے ہوجانی چاہیے تھی ، لیکن حکومت اپنے اہم اتحادی مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی وجہ سے کابینہ کی منظوری کے باوجود اس مسئلہ میں تاخیری حربے اختیار کرتی رہی ۔جبکہ خود حکومتی اور دیگر کمیٹی کے ارکان کہہ چکے تھے کہ جو سفارشات پیش کی گئیں ہیں یہ سب فریقین کی متفقہ ہیں اور سب نے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی تجاویز کو مسترد کردیا تھا۔ امکان تھا فاٹا کے حوالے سے آئینی ترمیم نئی حکومت اور اسمبلی کے رحم وکرم پر چھوڑ دی جائے گی ، مگر نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں عسکری قیادت کے دباو کے پیش نظر حکومت کو قومی اسمبلی سمیت سینٹ اور صوبائی اسمبلی سے اس کو ہر صورت منظور کروایا گیا ۔ کیونکہ عسکری قیادت کو بھی اندازہ تھا کہ اگر یہ اس حکومت یا اسمبلی نے منظور نہ کیا تو نئے حالات میں یہ مزید تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت کو اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی ناراضگی کے باوجود بڑا فیصلہ کرنا پڑا۔مولانا فضل الرحمن اس علاقہ کو علیحدہ صوبہ بنانے کے حق میں تھے ، اس کے لیے انہوں نے ریفرنڈم کی بھی تجویز پیش کی تھی ، لیکن حکومتی کمیٹی اور دیگر ماہرین کی دلیل یہ تھی کہ فاٹا علاقہ ایک صوبہ کے طور پر انتظامی ، معاشی طور پر مستحکم اور خود مختار نہیں ہوسکے گا، اس لیے فوری طور پر اس کا صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کیا جائے ۔

پاکستان کی مجموعی طور پر سیاسی اور عسکری قیادت مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے قومی اتفاق رائے سے ستر برسوں سے موجود اس بنیادی نوعیت کے مسئلہ کا حل نکالا ہے ۔کیونکہ اس مسئلہ کے پیش نظر نہ صرف ان علاقوں میں محرومی اور ملک کی سیاسی رٹ کمزور تھی بلکہ اس سے وہاں کے مقامی نئی نسل میں غصہ، بغاوت او رنفرت سمیت انتہا پسندی اور دہشت کا عمل بھی بڑھ رہا تھا ۔یہ عمل یقینی طور پر ملک میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اختیار کیا جانے والا نیشنل ایکشن پلان سمیت قومی سیکورٹی پالیسی کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرسکے گا۔کیونکہ اگر واقعی ہم نے انتہا پسندی سے نمٹنا ہے تو اس کا علاج فاٹا کے ان علاقوں کو قومی دھارے میں لانا ، بنیادی حقوق کی فراہمی ، انصاف کا موثر او رمربوط نظام قائم کرنا ہے ۔

یہ جو تاثر ہے کہ قبائلی علاقہ جات انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نرسریاں ہیں ان کے خاتمہ میں بھی فاٹا کا صوبہ میں انضمام کلیدی کردار ادا کرے گا۔اچھی بات یہ ہے کہ ہماری عسکری قیادت نے پچھلے چند برسوں میں فاٹا کے ان قبائلی علاقوں میں تعلیم ، صحت، روزگار، کھیل او رفنی تعلیم کے حوالے سے کئی موثر اقدامات کیے ، بعض اقدامات کو ہمیں بھی براہ راست دیکھنے کا موقع ملا ،کیونکہ عسکری قیادت میں یہ بات مضبوط تھی کہ ان علاقوں کو اگر حکومت قومی دھارے میں لاتی ہے تو اس کا نتیجہ جہاں ان علاقوں میں امن کی صورت میں ہوگا وہیں قومی سطح پر بھی امن اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مد دملے گی ۔

اب سوال یہ ہے کہ فاٹا کا صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام تو ہوگیا ہے ، مگر کھیل تو ابھی شروع ہوا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے پاس اپنی اپنی جماعتوں کی سطح پر ایک واضح روڈ میپ ہونا چاہیے کہ وہ ان علاقوں کو کیسے قومی دھارے سمیت ترقی کے عمل میں لاسکیں گے ۔ صوبہ میں جو بھی نئی حکومت ہوگی اس کے پاس ایک مکمل خاکہ ہونا چاہیے ۔ پہلی تین ترجیحات میں فوری طور پر مقامی حکومتوں کے انتخابات، نوجوان نسل کو سیاسی دھارے میں لانا، بنیادی حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سمیت معاشی ترقی کو فوقیت دینی ہوگی ۔اگر یہ سب کچھ بروقت نہ کیا گیا تو جو اچھے کام کی ابتدا ہوئی ہے اس میں تاخیری حربے بہتر نتائج پر اثر انداز ہونگے ، جو فاٹاسمیت ملک کے مفاد میں نہیں۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.