فوج مخالف سازش۔۔۔ طیبہ ضیا

tayyiba zia cheema

فوج کو بدنام کرنے سے پاکستان کا نقصان ہو گا۔ دشمنوں کو فائدہ ہو گا۔ فوج مخالف پروپیگنڈہ ملک دشمنی ہے۔جمہوریت کی آڑ میں عوام کو فوج کے خلاف گمراہ کیا جارہا ہے۔ فوج کی قربانیوں جذبے اور حب الوطنی کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان کو چاروں اطراف سے بھوکے بھیڑیوں کا سامنا ہے جو پاکستان کو معذور ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا فقط پاک فوج سے ڈرتی ہے ورنہ ملک کی بشمول سیاستدانوں کے کب کی تکہ بوٹی کر چکی ہوتی۔ ملک ہے تو سیاست اور جمہوریت ہے۔ فوجی آمر نے بھٹو کو پھانسی دی تو فوج کے اندر اپنے ہی آرمی چیف آمر کے خلاف نفرت اور بھٹو کے لئے ہمدردی پائی جاتی تھی۔ لیکن آج صورتحال برعکس ہے۔ نواز شریف کے خلاف فوج کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

سابق جنرل ضیا الحق کی سیاست میں مداخلت اور روحانی بیٹوں الطاف حسین اور نواز شریف کی دریافت پر فوج کے اندر نا پسندیدگی پائی جاتی تھی۔ضیا دور کے بعد نام نہاد جمہوریت کا پہیہ ذرا آگے بڑھا تو جنرل ضیا کی روحانی دریافت نواز شریف نے حسب توقع اس وقت کے آرمی چیف سے پنگا لے لیا۔ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بھی سیاست کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور طیارہ کیس کی آڑ میں سیاست پر قبضہ کر لیا جسے عرف عام میں شب خون مارنا کہا جاتا ہے۔ دس برس اس ملک پر خوب عیاشی کی۔ لیکن 2008 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کے تعزیتی ووٹوں نے مشرف کو سیاست سے اٹھا باہر پھینکا اور زرداری کے شکل میں ایک جمہوری آمر آگیا۔

زرداری اور نواز شریف دونوں بھائیوں نے مل کر نام نہاد جمہوریت کی گاڑی کسی نہ کسی طرح پانچ سال گھسیٹ لی۔مشرف سے خفیہ ڈیلز بھی مددگار تھیں جن میں مشرف کو پروٹوکول کے ساتھ رخصت کرنا بھی شامل تھا۔ بڑے بھائی زرداری صاحب بھی پانچ سال بعد رخصت ہو گئے اور اب اگلی باری چھوٹے بھائی نواز شریف کی طے تھی۔اور یوں 2013 کے الیکشن سے چھوٹے بھائی صاحب برسراقتدار آگئے۔جنرل مشرف کی آمریت کے بعد فوج نے شب خون کی لعنت کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔ جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی سیاسی مداخلت کے بعد فوج کو سیاست سے الگ رکھنے پر فوج میں مکمل اتفاق و اتحاد قائم ہے۔اس کا ثبوت مشرف کے بعد آنے والے آرمی چیف صاحبان نے دیا ۔

2008 میں جنرل کیانی نے فوجی افسران کو حکم دیا کے وہ سیاست دانوں کے ساتھ رابطے نہ رکھیں۔ جنرل کیانی نے پاکستان کے تمام حکومتی اور سول محکموں میں سے فوجی افسران کی واپسی کا حکم دے دیا اور صدر مشرف کے ناقدین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جن کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ سیاست میں فوج کی دخل اندازی نہ ہو24 جولائی 2010 کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی۔

2013 کو وزیر اعظم نواز شریف نے راحیل شریف کو فوج کا سپاہ سالار مقرر کیا-راحیل شریف بھی سیاست میں عدم دلچسپی رکھتے تھے۔جنرل راحیل شریف کی پیشہ وارانہ صلاحیت اور قابلیت کی ساری دنیا معترف ہے اور دہشت گردی کے خلاف ان کی کوششیں انتہائی کامیاب رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ملکوں کی طرف سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے قائم کئے گئے اتحاد کی قیادت کے لئے ا ن کا انتخاب کیا گیا۔راحیل شریف نے جس وقت پاکستانی آرمی کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں امن و امان کی صورت حال انتہائی ابتر تھی۔ انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور سانحہ پشاور کے بعد پاکستان آرمی نے تمام تر ملک دشمن قوتوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کیں۔ اس سے امن و امان کی صورت حال میں بہتری ہونے لگی اور راحیل شریف ملک میں ایک مقبول آرمی چیف کی حیثیت سے ابھرے۔ حالیہ ایران سعودیہ کشیدگی میں وہ بھی ملکی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دورے پر تھے۔

راحیل شریف ایک آرمی چیف کی حیثیت سے 29 نومبر 2016ء تک خدمات انجام دے کرپاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے کر گئے۔ جنرل باجوہ کے ساتھیوں کایہ کہنا ہے کہ انہیں توجہ حاصل کرنے کا قطعی کوئی شوق نہیں اور وہ سیاست سے دور رہ کر اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق جنرل باجوہ انتہائی پیشہ ور افسر ہیں اورایک نرم دل رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی غیر جانبدار فوجی افسر ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی تو زرداری اور نواز شریف کی گڈ بک میں تھے تبھی توزرداری حکومت نے انہیں ایکس ٹینشن دی۔ نواز شریف جب وزیراعظم بنے تو کلثوم نواز نے بتایا کہ جنرل کیانی کی نواز سے اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے لیکن دوبارہ توسیع نہیں مل سکتی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری نے ایکس ٹینشن پر پابندی کا قانون پاس کر دیا۔ نواز شریف کو افتخار چوھدری پر یہ بھی غصہ تھا کہ اب جنرل کیانی کو مزید ایکس ٹینشن نہیں دے سکتے۔ جنرل راحیل شریف آرمی چیف بنا دئیے گئے لیکن مشرف کی اور دیگر جرنیلوں کی طرح وہ بھی نواز شریف کو پسند نہیں تھے۔ اگر فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے تو سیاستدان فوج میں مداخلت کرتے ہیں ؟ سیاستدان کیوں اپنی مرضی کی پالیسیاں فوج پر مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ نواز شریف نے فوج کے ساتھ آبیل مجھے مار کے مترادف والا رویہ رکھا۔ ڈانْ لیکس سے اپنی فوج کو دہشت گرد ثابت کرنے کی سازش کی؟ پھر اسی ڈان اخبار کو دوبارہ فوج مخالف انٹرویو دے دیا ؟بھارت کے ساتھ خفیہ تعلقات اور معاہدوں پر فوج کب تک خاموش رہتی ؟ تمام سازشوں‘ بغاوتوں‘ معاہدوں کے باوجود آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نواز حکومت کو سپورٹ کرتے رہے لیکن نواز شریف کو اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مارنے کا جنون ہے۔ مسلم لیگ نواز میں اکثریت اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ پاکستان اور فوج لازم و ملزوم ہیں۔ فوج مخالف بیانیہ پر مسلم لیگ ن تقسیم ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نواز شریف کی ہر کمزوری اور کوتاہی کو نظر انداز اور برداشت کرتے رہے لیکن اپوزیشن نے عدلیہ میں تمام خفیہ کھاتے کھول کر نواز شریف کو بالآخر جیل میں پہنچا کر دم لیا۔۔۔ نواز شریف مکافات عمل سے دوچار ہیں اور قیادت کے احمقانہ فیصلوں اور پالیسیوں کے سبب جماعت مشکلات سے دوچار ہے۔ فوج مخالف بیانیہ جماعت کی شکست کا سب بننے کا اندیشہ ہے۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.