ماں کا دودھ ۔۔۔ مصطفی ملک

ماں کا دودھ

بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو وہ کمزور اور بے یارومددگار ہوتا ہے۔ اسے سہارے، بیماریوں اور موسم سے تحفظ اور خوراک کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے میں ماں کی آغوش اسے تحفظ دیتی ہے اور ماں کے دودھ سے وہ غذا حاصل کرتا ہے۔ یوں تو آغاز زندگی سے ہی مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی آرہی ہیں مگر بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت اور اس کے پیچھے چھُپی حکمت آج سے چودہ سو سال قبل قرآن نے ہی بیان کی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے کہ تمام مائوں پر یہ لازم ہے کہ وہ دو سال تک بچوں کو اپنا دودھ پلائیں۔ اسلام نے ماں کے دودھ کی افادیت سے متعلق لوگوں کو اس وقت آگاہ کر دیا تھا جب اس پر کسی بھی قسم کی طبی تحقیق کا تصور تک نہیں تھا۔ بیسویں صدی کی مصروف زندگی اور مسابقت کی دوڑ میں مائوں کیلئے یہ مشکل ہو گیا کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلا سکیں یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعی دودھ کے استعمال میں اضافہ ہو گیا ۔ متبادل دودھ کے استعمال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ بآسانی دستیاب ہوتا ہے اور اسے بچوں کو پلانے کیلئے ماں کی موجودگی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ کچھ خواتین خود کو سمارٹ اور جاذب نظر رکھنے کیلئے بھی بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے پرہیز کرتی ہیں۔

کچھ خواتین کی نظر میں یہ ایک دقیانوسی طریقہ ہے جب متبادل ذریعہ موجود ہے تو خود کو کیوں ہلکان کریں۔ مگر روز مرہ کے مشاہدات، تجربات اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دنیا میں ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل موجود نہیں ہے۔ بچوں کیلئے متبادل مصنوعی دودھ میں بیماریوں سے محفوظ رکھنے والے مخصوص اجزا نہیں ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی دودھ کی تیاری میں غیر معیاری اجزا کے استعمال اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی عدم موجودگی کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ماں کے دودھ کی افادیت اور اس کے استعمال کی ترغیب میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت ( WHO) نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اب وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ماں کا دودھ بچوں کی شرح اموات کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی عمر اور صحت کیلئے نہایت مفید ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر بچے کو ماں کا دودھ پلانا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی دوسری غذا نہیں دینی چاہیے۔ چھ ماں کے بعد ہلکی پھلکی غذا کے ساتھ دو سال تک ماں کا دودھ جاری رکھا جائے۔ ماں کا دودھ ایک مکمل غذا ہے جس میں وہ تمام اجزا شامل ہوتے ہیں جن کی بچے کو ابتدائی نشوونما میں ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ نہ صرف بچے کی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ اسے مختلف بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

ماں کا دودھ بچے کے ابتدائی ایام میں اینٹی بائیوٹک کا کام کرتا ہے اور اسے ٹائپ وَن ذیابیطس سے محفوظ رکھتا ہے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے موٹے نہیں ہوتے اور مرحلہ وار ان کے جسم کی بڑھوتری ہوتی ہے۔ شیر خوار بچوں کو نمونیا اور نظام تنفس کی دیگر بیماریوں کا شدید خطرہ رہتا ہے مگر ایسے بچے جو ماں کا دودھ پیتے ہیں ان میں یہ خطرہ بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کو کھانسی اور زکام سے محفوظ رکھتا ہے۔ شیر خوار بچوں کا نظام انہضام بہت جلد خراب ہو جاتا ہے مگر ماں کے دودھ کے استعمال سے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کو قے، اسہال اور قبض سے بھی بچاتا ہے۔ ماں کے دودھ میں شامل اجزا بچوں کی پیشاب کی نالی میں انفیکشن نہیں ہونے دیتے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں سماعت کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے بچے جو ماں کا دودھ پیتے ہیں ان کو مرگی نہیں ہوتی اور نہ لیکومیا جیسا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جن بچوں نے ماں کا دودھ پیا ہوتا ہے بڑے ہونے پر ان میں دل اور جگر کی بیماریوں کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے ذہنی اور اعصابی لحاظ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کے دانت اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں اور ان میں قوت مدافعت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت اور افادیت پر زور دینے کیلئے سرکاری سطح پرپنجاب سمیت ملک بھر میں کاوشیں کی جا رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.