متحدہ پھر متحد :کالم نذیرناجی

nazir naji

چند روزہوئے افواہ پھیلی کہ دوستوں کا ایک گروپ ‘ جو سیر و تفریح کے لئے اٹلی جا رہا تھا۔ اس نے ہوائی سفر کے تمام تقاضے پورے کر کے جہاز کا رخ کیا۔ لڑتے بھڑتے جہاز کے اندر بیٹھے۔ پروازشروع ہوئی تو ان کے درمیان تیز و طرار جملوں کے تبادلے ہوئے۔ پھر انہیں نیند آنے لگی۔ کچھ پتہ نہیں تھا کہ جہاز کب تک اڑتا رہا؟ بہر حال وہ اپنے خوابوں میں اٹلی کے مناظر دیکھتے رہے۔ مناسب دیر کے بعد پائلٹ نے جہاز کی بلندی میں کمی شروع کی۔ ایک دوست جس کی آنکھ پہلے کھل گئی ‘ اس نے ساتھیوں کو بھی نیند سے جگایا ۔ انہیں اطلاع دی کہ” لاہور آگیا ہے‘‘۔ اور اس کے بعد ان کی لڑائی شروع ہو گئی کہ یہ لاہور ہے یا لالو کھیت؟ جب جہاز میں اعلان ہو گیا کہ ہم لاہور کے ہوائی اڈے پر اتر رہے ہیں تو لڑائی کا موضوع بدل گیا۔ اس میں تلخی کچھ زیادہ تھی۔ سب سیٹوں کے درمیان راستہ ڈھونڈتے ہوئے دوسرے مسافروں کے ساتھ کندھا بازی کرنے لگے۔ کچھ آگے نکلے۔ کچھ پیچھے رہ گئے۔ جہاز خالی ہو گیا۔ اور پھر یہ سیڑھی کے ذریعے زمین پر اترنے لگے۔ سیڑھیوں سے اترنے کے دوران بھی پرزور بحث ہوتی رہی۔ جب وہ گرما گرم باتیں کرتے ہوئے بس کے دروازے تک گئے تو بس دروازہ بند کر کے چلنے لگی۔ یہ حضرات وہیں کھڑے رہ گئے۔ نئی گفتگو شروع ہوئی اس کی آوازیں بہت تیز تھیں۔ انہوں نے اپنے اپنے ہینڈ بیگ زمین پر رکھے اوراتنی زور سے باتیں کرنے لگے‘ جیسے وہ کسی شورمیں کھڑے بات کررہے ہوں۔حالانکہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ ان کی سرگوشیوں میںچیخیں ہوتی ہیں جیسے کوئی مغنی پہلا سُر چھیڑ رہا ہو۔ابھی تک انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں نے اپنے اپنے انتخابی نکات تیار کئے ہیں۔ ایم کیو ایم اپنے منشور کی مجلد کاپیاں تیار کر چکی ہے۔ جیسے ہی مجلس عاملہ کے اجلاس میں منشور پیش کیا جاتا تو فوراً ہی اختلافی نکات پیش کئے جانے لگتے۔ سب سے پہلے تو اس پر بحث ہوئی کہ سارا منشورایک ہی نشست میں پڑھنا اور اس پر بحث کرنا بہت ناممکن تھا۔ابھی یہ حضرات دوسرے صفحے پر ہی پہنچے تھے کہ ایئر پورٹ کی بتیاں بجھنے لگیں۔پی آئی اے کا عملہ واپس گھروں کو روانہ ہو گیا۔ ایک چوکیدار قریب قریب ساتھیوں کے پاس آیا اور اس نے بڑی محبت سے التماس کی کہ ”یہ جہاز تو اٹلی نہیں گیا۔ واپس آچکا ہے اور اس کی پرواز کل شام آٹھ بجے روانہ ہو گی‘‘۔
”پوری کی پوری ایم کیو ایم سناٹے میں آگئی۔ ان کو پتہ ہی نہیں چلا تھا کہ جہاز اٹلی میں لینڈ نہیں کر سکا‘‘۔
”آج رات آپ لوگ آرام کریں۔ کل شام آٹھ بجے کے جہاز میں بیٹھنے کے لئے آپ ساڑھے پانچ بجے تشریف لے آئیں‘‘۔
اس کے بعد پی آئی اے کا موضوع زیر بحث آگیا۔ سارے دوستوں نے پی آئی اے کی حالت زار پر تبادلہ خیال شروع کر دیا۔ جب بحث ذرا طویل ہو گئی تو چوکیدار ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا کہ” ابھی ایئرپورٹ کا سکیورٹی چیک‘ شروع ہونے والا ہے ۔اگر آپ لوگوں کا تبادلہ خیال مزیدجاری رہا تو پھر سکیورٹی سٹاف‘ کتے لے کر آجائے گا‘‘۔
” یہ حضرات چونکے اور گزشتہ روز جہاز نہ جانے کی وجوہ پر سوال جواب کرنے لگے‘‘۔
چوکیدار نے ہاتھ جوڑ کر استدعا کی کہ” حضور آپ یہ بات چیت گھر جا کر لیجئے گا۔کم از کم ایئرپورٹ پر سکیورٹی کی ڈیوٹی دینے والے‘ اپنے اپنے پوائنٹ پر پہنچ جائیں‘‘۔
وفد کے ایک صحت مند رکن نے چوکیدار کا کندھا زور سے پکڑ کر کہا” ارے بھئی!یہ کہاں کی شرافت ہے؟ آپ نے ہمیں جہاز میں بٹھایا۔ اٹلی پہنچایا۔ وہاں جا کر جہاز موڑا۔ یہاں آکر لینڈ کیا۔ جہاز سے اترے تو بس نکل گئی۔ ہم نے وقت گزارنے کے لئے آپس میں تبادلہ خیال شروع کیا اور ہمارے پلے کیا پڑا؟ سکیورٹی کا ایک بندہ؟‘‘
ابھی یہی بات ہو رہی تھی کہ سکیورٹی سٹاف ویگن لے کر اتنی تیزی سے قریب آیا کہ سارے مہمان جو دائرے میں کھڑے تبادلہ خیال کررہے تھے‘ ایک دم دائرہ چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگ نکلے اور پی آئی اے پر زہریلے جملے پھینکنے لگے۔ ڈرائیور نے ویگن کا ہارن بجایا تو یہ سارے حضرات جن میں کوئی خاتون نہیں تھی‘ لپک کر ویگن کے اندر پہنچ گئے اور بیٹھ جانے کے بعد‘ ڈرائیور کے کان میں ایک آواز گئی”ارے بھئی ڈرائیور صاحب!ایک تو آپ ہمیں اٹلی لے کر نہیں گئے۔ کم از کم فرانس ہی لے جاتے۔ اور کچھ نہیں تو کراچی ہی اتار دیتے‘‘۔
ڈرائیور نے بتایا ” حضور! آپ کراچی میں ہی کھڑے ہیں۔ آپ کے گھروں کو پہنچانے کا بندوبست بھی پی آئی اے کر دیتی‘‘۔
تو ایک دوسرے بھائی نے بتایا ” ہم پی آئی بی کالونی کے پاس کھڑے ہیں۔ بہتر ہو گا ہمیں پہلے اتاردیا جائے‘‘۔
اس پر پھر بحث مباحثہ شروع ہو گیا۔ایک مسافر جو سمجھ چکا تھا کہ ویگن پی آئی بی کالونی کے پاس کھڑی ہے تو اس نے ساتھیوں کو سمجھایا کہ ” ہم بالکل پی آئی بی کے پاس کھڑے ہیں۔ مناسب ہو گا کہ پہلے اپنے اپنے گھروں پر اتر جائیں‘‘۔
ساتھیوں کے گروپ میں سے ایک آواز آئی”پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کل کا جلسہ کہاں ہو گا؟‘‘
جلدی سے فاروق ستار بھائی کا فون لگایا۔ کالر نے سلام دعاکرنے کے بعدفاروق بھائی سے پوچھا” بھائی کل جلسہ کب اور کہاں ہو گا؟ ‘‘
ایک بھائی نے جواب دیا ” پی آئی بی کالونی‘‘۔
دوسرے نے چیخ کر کہا ”نہیں بہادر آباد‘‘۔
ابھی تک نہ تو بھائی گروپ اپنے اپنے گھر پہنچا ہے اور نہ ہی فاروق بھائی ابھی تک فیصلہ کر پائے ہیں کہ کل کا جلسہ کب اور کہاں ہو گا؟
”بہتر ہو گا کہ کل کے جلسے کی جگہ طے کر لیں ورنہ تو صبح اسی میں ہو جائے گی‘‘۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.