محترمہ کلثوم نواز کے نام نہاد ہمدردوں کی دعائیں۔اسداللہ غالب

asad ullah

لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج اور تین مرتبہ خاتون اول کاا عزاز حاصل کرنے والی بیگم کلثوم نواز کے لئے بہت سے لوگوںنے دعائیں کیں ۔ ان میں عمران خان، خورشید شاہ، چودھری شجاعت حسین اوردیگر سیاسی ا کابرین شامل ہیں۔ یہ زمانے کی ستم ظریفی ہے کہ جب کوئی تشویش ناک حالت کو پہنچتا ہے یا قضائے الٰہی سے دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو ہم لوگوں کو ساری بھولی ہوئی دعائیں یادآجاتی ہیں ورنہ عام حالات میں کونسی بد دعا ہے جس کا ہم اسے سزاوار نہیں سمجھتے۔

یہی کلثوم نواز جب ضمنی الیکشن میں کھڑی ہوئیں مگر انتخابی مہم چلانے کے بجائے وہ لندن علاج کے لئے چلی گئیں تو کون ہے جس نے یہ نہیں کہا کہ وہ شکست کے ڈر سے بیماری کے بہانے فرار ہو گئی ہیں۔بیگم صاحبہ ایک مدت سے زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں مگر ان کی بیماری کو نیب، عدلیہ اور میڈیا تک نے یہ کہہ کرتضحیک کا نشانہ بنایا کہ نواز شریف اور مریم نواز ان کی بیماری کو ملک سے باہر جانے کے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں یہ چاند رات تھی، ایک اینکر بیگم کلثوم نواز کے لئے بڑی دعائیں کر رہا تھا مگر نواز شریف اور مریم نواز کو کوسنے دے رہا تھا کہ وہ پاکستان میں جلسے جلوسوں سے خطاب کر رہے ہیں، نیب میں ہر پیشی کے بعد گلا پھاڑ کر نعرے لگاتے ہیںمگر انہیں اپنی بیوی اور ماں یاد نہیں جو لندن کے ہسپتال میں بے ہوش پڑی ہیں، ایک ا ور اینکر نے نواز شریف اور مریم نواز کو پہلے تو جی بھر کے صلواتیں سنائیں، پھر دعا کی کہ اللہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کوصحت کاملہ عطا فرمائے۔ پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر کو اچھی طرح پتہ تھا کہ لندن میں اپنی بیگم صاحبہ کے سرہانے کھڑے نواز شریف کے دل پہ کیا بیت رہی ہے مگر اس سنگ دل لیڈر نے کہا کہ اگر نواز شریف واپس ملک نہ آئے تو ان کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔
فرض کیجئے بیگم صاحبہ بیمار ہو کر لندن علاج کے لئے نہ جاتیں تو ملک میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہوتا، کہیں نیب ان کو گھسیٹ رہا ہوتا، کوئی جے آئی ٹی ان کے پسینے چھڑوانے کے لئے انتہائی غیر انسانی دبائو کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہوتی، کہیں کوئی عمران خان یا شیخ رشید یہ کہہ رہے ہوتے کہ ہم اقتدار میں آکر نواز، شہباز، مریم اور حمزہ کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کو بھی سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔

ذرا یاد کیجئے اسی خاتون کے ساتھ ہم نے ا س وقت کیا سلوک کیا تھا جب نواز شریف اور حسن، حسین کو گرفتار کر کے قلعوں میں بند کر دیا گیا تھا اور یہ ایک اکیلی جان فوجی آمر کے جبر کے خلاف ڈٹ گئی تھی، وہ احتجاج کے لئے ماڈل ٹائون گھر سے نکلیں تو کلمہ چوک پر ملک کی بہادر پولیس نے اس خاتون کی گاڑی کو رو ک لیااورا ٓگے بڑھنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ اس پر اس خاتون نے ہتھیار نہ ڈالے تو ایک دیو ہیکل کرین کی مدد سے گاڑی کو زنجیریں پہنا کر فضا میں لہرا دیا گیا۔ اور اسی کرین نے اس گاڑی کو جی او آر میں لے جا کر کہیں سڑک پر کھڑا کر دیا اور ملکی یا غیر ملکی میڈیا کو اس گاڑی کے قریب تک نہ پھٹکنے دیا۔ یہ تھا حسن سلوک اس بہادر خاتون سے جو ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی تھی۔

جنرل ضیا کے مارشل لا میں بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک روا رکھا گیا۔ وہ قذافی اسٹیڈیم میں تھیں کہ لاہور کی بہادر پولیس ڈنڈے لے کر ان پر پل پڑی۔ اسے چھوڑا تب جب یہ یقین ہو گیا کہ ماتھے کے زخموں سے خون کے فوارے چھوٹنے سے وہ ہوش و حواس کھو بیٹھی ہیں ۔

بیگم کلثوم نواز کی گاڑی کو جس کرین نے اٹھایا، اس میں کوئی ڈرائیور تو ہو گا، روبوٹ تو نہیں تھا، اگر وہ ڈرائیور آج زندہ ہے تو ا سکا ضمیر ضرور اسے لعنت ملامت کر رہا ہو گا کہ شاید اس کے جبر کے نتیجے میں بیگم صاحبہ کو وہ موذی سرطان لاحق ہو ا ہو جس نے لندن کے ہسپتال میں بیگم صاحبہ کے دل کی دھڑکن کو دس منٹ کے لئے بند کر دیا اور موقع پر موجود ڈاکٹروں کو ایک یقینی موت کے خلاف لڑنے کے لئے بیگم صاحبہ کو مصنوعی سانس دلوانے کے لئے انہیں ایک مشین پر منتقل کرنا پڑا ہو،ہو سکتا ہے قذافی اسٹیڈیم میں جن پولیس اہل کاروںنے بیگم نصرت بھٹو کے سر پہ ڈنڈے برسائے، وہ بھی آج زندہ ہوں اور ان کا ضمیر ان کو کچوکے لگا رہا ہو کہ ان کی لاٹھیوں کی ضرب سے بیگم صاحبہ عمر بھر کے لئے ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئیں اور بالآخر طویل بے ہوشی کی وجہ سے دبئی میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔

میں کیا کچھ یاد کرائوں، محترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کو ختم کر کے کراچی اتریں تو ایک جلو س کی شکل میں گھر کی طرف روانہ ہوئیں، رات کے اندھیرے میں سانحہ کارساز رونما ہوا، ایک ساتھ بے نظیر کے ٹرک کے ارد گرد کئی بم پھٹے۔ ٹرک میں سوار خواتین کے کپڑے جھلس گئے اور بے نظیر کو ٹرک کے نچلے خانے میں دبک کر جان بچانا پڑی مگر ان کی جان کے در پے عناصرہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑے رہے حتیٰ کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان پر ایک اور حملہ ہوا جس میں وہ شہید ہو گئیں اور پھر ہم نے مصنوعی ٹسوے بہانے شروع کر دیئے۔ مگرمچھ بھی شرما گیا ہو گا کہ حضرت انسان تو اس پر بازی لے گیا۔

بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کو انسانی منافقت کا پردہ چاک کرنے کا موقع نہ مل سکا مگر بیگم کلثوم صاحبہ نے کئی برس قبل کاغذ قلم پکڑا اور جبر اور جمہوریت کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں مسلم لیگی لیڈروں اور کارکنوں کی بے وفائی کا پردہ فاش کر دیا، وہ اپنی خود نوشت میں لکھتی ہیں کہ جو لوگ کئی برس تک ان کے گھر کے چکر کاٹتے نہیں تھکتے تھے، وہ اپنی ابتلا کے دنوں میں انہیں فون کرتی تھیں مگر کوئی فون اٹھانے کی زحمت نہیں کرتا تھا۔ اس کیفیت کو میاںنواز شریف نے یوں بیان کیا ہے کہ ان کے جاں نثار یہ نعرے لگایا کرتے تھے کہ قدم بڑھائو نوازشریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر آزمائش کاوقت آیاا ور نواز شریف نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی کارکن ، کوئی لیڈر، کوئی جاں نثار نظر نہ آ یا۔
کیا میں ہی یہ یاد دلانے کے لیے رہ گیا ہوں کہ اس قوم نے مادر ملت کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا، پاکستان کے پہلے چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر ایوب خان نے انہیں ایک صدارتی الیکشن کے دوران جعلی ووٹنگ کے ذریعے شکست سے دوچار کیا۔ اس سے بڑی بہادری ایک فیلڈ مارشل اور کیا کر سکتا تھا کہ بانی پاکستان کی بہن کی رسوائی کااہتمام کرے۔

اس وقت جو لوگ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کے لئے دعائیں کرتے نہیں تھکتے، وہ مہربانی فرمائیں، اپنی منافقت پر قابو پائیں اور اپنی دعائیں اپنی کسی حقیقی ماں بہن کے برے وقت کے لئے محفو ظ رکھیں ۔
آپ سب نے وہ تصویریں دیکھ لی ہوں گی جن میں نواز اور مریم ہسپتال کے آئی سی یو میں بیگم صاحبہ کے سرہانے کھڑے ہیں۔یہ تصویرمیں ساری کہانی بیان کر رہی ہیں۔ پھر بھی کسی پتھر دل کو اس بیماری کی سنگینی کا یقین نہ آئے تو اس کا کیا علاج۔

مجھے وہ تصویر یادا ٓ رہی ہے جو میںنے نواز شریف کے دل کے آپریشن کے بعد انٹرنیٹ پر جاری کی تھی اور جسے ٹی وی چینل نے بھی دکھایا اور اخبارات میں بھی اسے نمایاں شائع کیا گیا، اس تصویر میں ایک نحیف نواز شریف کسی پارک میں ٹہلنے کے لئے قدم آگے بڑھا رہے ہے اور بیگم کلثوم نواز انتہائی تشویش کے عالم میں اپنے زندگی کے ساتھی کے چہرے پر نظریں جمائے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، ان کی نمظروں میں گھبراہٹ کی کیفیت نمایاں ہے کہ کہیں نواز شریف کا چلتے چلتے سانس ہی نہ اکھڑ جائے، اس تصویر نے یہ بحث ختم کر دی تھی کیا نواز شریف کا دل کاآپریشن ہوا ہے یا نہیں۔ ہر ایک کو ان کا اترا ہوا مضمحل چہرہ صاف نظر آ رہا تھا۔مجھے یاد ہے کہ برادرم مجیب شامی جن کی دیانت پر شک نہیں کیا جاسکتا ، وہ لندن جا کر نواز شریف سے ملے، واپسی پر ان کے بقول وہ بارہ ا ٓدمیوں کو بتاتے تھے کہ انہوںنے چھاتی اور ٹانگوں کے سلے ہوئے زخم خود دیکھے ہیں مگر چھ آدمی ان پر یقین کرتے تھے اور چھ آدمی اسے سفید جھوٹ سمجھتے تھے۔ اس معاشرے میں شیطانوں کی کمی نہیں جو انسانوں کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں اور ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.