محمود غزنوی کا دور۔۔ ای-مارسڈن

شاہ محمود غزنوی

اب سے 900 برس پیشتر افغانی اور ترکستانی قومیں ہند میں اس طرح چلی آ رہی تھیں جس طرح کسی زمانے میں آرین یا یونانی یا ستھین آئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اہل عرب کو اپنے شمال اور شمال مشرق کے ملکوں کی فتح کے لیے نکلے ہوئے ساڑھے تین سو برس ہو چکے تھے۔ ترکستان، فارس اور افغانستان کے لوگ مسلمان ہو گئے تھے۔ کئی عرب قبیلے ان ملکوں میں آباد ہو چکے تھے۔ ان لوگوں کے دلوں میں بھی وہی جوش اور ولولہ بھرا ہوا تھا جو عرب میں موجود تھا۔ اس وقت افغانستان کا بڑا شہر غزنی تھا۔ یہاں کا بادشاہ محمود نامی ایک ترک تھا۔ اس کا باپ پنجاب کے برہمن راجہ جے پال سے کئی دفعہ لڑا، اور اس کو شکست دے کر غزنی اور سندھ کے درمیان کے علاقے پر قابض ہو گیا تھا۔ ہند اس وقت دنیا کے زرخیز اور زر دار ملکوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی تجارت کا سلسلہ اپنے شمال مغرب کے ملکوں سے ملتا ہوا ممالک فرنگ تک پہنچتا تھا۔

قیمتی سامانِ تجارت اونٹوں پر لاد کر افغانستان کے دروں کی راہ ہند سے دور دراز ملکوں میں جاتا تھا۔ محمود ابھی لڑکا ہی تھا کہ مندروں کی باتیں سن کر وہ کہتاتھا کہ میں بڑا ہو کر بادشاہ بنوں گا اور ہندو راجائوں سے لڑوں گا۔ تیس برس کی عمر میں محمود غزنوی تخت شاہی پر جلوہ گر ہوا۔ جو کچھ یہ کہا کرتا تھا وہ سب کر کے دکھا دیا۔ وہ اپنی فوج لے کر ہند پر چڑھ آیا۔ یہاں جے پال جو اس کے باپ سے لڑ چکا تھا اور خراج ادا کرنے سے انکار کرتا تھا۔محمودغزنوی نے جے پال کو شکست دے دی ۔ جے پال نے شرم کے مارے زمام سلطنت اپنے بیٹے انندپال کے ہاتھ میں دی اور آپ جیتے جی چتا میں جل کر مر گیا۔ انندپال نے اجین، گوالیار، قنوج، دہلی اور اجمیر کے راجائوں کو پیغام دیا کہ محمودغزنوی سال آئندہ میں ضرور حملہ کرے گا آپ میرے ہمراہ ہو کر اس کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے منظور کیا اور پنجاب میں داخل ہوئے، لیکن شمالی سرد ملکوں کے افغان ہند کے گرم میدانوں کے راجپوتوں سے زیادہ طاقتور تھے۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ راجپوت پسپا ہوئے۔ محمود غزنوی نے آگے بڑھ کر نگر کوٹ کو فتح کر لیا۔ مندروں کو نیست و نابود کیا۔ غزنی پہنچ کر انہوں نے ایک دعوت عام کا سامان کیا۔ کل افغانوں کو بلوایا۔ تین دن تک ان کی ضیافت کی۔ سرداروں اور امرا کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ ان کو تو نہایت قیمتی تحفے دیئے اور غریب سے غریب افغان بھی کوئی ایسا نہ تھا کہ دعوت سے خالی ہاتھ گیا ہو اور ایک معقول انعام نہ لے گیا ہو۔ محمود غزنوی افغانوں کو ہند پر چڑھا لاتا تھا اور ان تمام راجپوت راجائوں سے اپنا بدلہ لیتا تھا جو انندپال کے ساتھ مل کر اس کے مقابلے میں آئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی ہمت کا دریا طغیانی پر تھا۔ ہر بار جو قدم تھا، آگے ہی آگے پڑتا تھا۔ جہاں کہیں کوئی بڑا مندر نظر آیا وہیں جا کر حملہ کر دیا، مندر ڈھائے، بت توڑے۔جہاں اس نے ہند پر حملہ کرنے کے لیے فوج کو جمع ہونے کا حکم دیا وہیں یہ لوگ آندھی کی طرح اٹھے چلے آئے، پھر محمود غزنوی کے ہر حملے میں فوج کی افزدنی نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔ محمود غزنوی 1024ء میں آخری بار ہند پر حملہ آور ہوا اور سومناتھ کے مندر پر پہنچا۔ یہ علاقہ گجرات میں ایک بہت پرانا بڑا مندر تھا ۔

سندھ کے ریگستان میں ساڑھے تین سو میل کا دور دراز سفر طے کر کے وہ اس مندر کے سامنے آن موجود ہوا اور ہندوئوں کی بڑی فوج کو شکست دی ۔جب یہ مندر کے اندر داخل ہوا تو ڈرتے کانپتے پجاریوں نے التجا کی کہ اگر آپ ہمارے سومناتھ دیوتا کی مورت کو جوں کا توں چھوڑ دیں تو ہم اس کے عوض آپ کو بہت سا روپیہ دینے کو تیار ہیں لیکن انہوں نے کہا میں بت توڑنے آیا ہوں، بت بیچنے نہیں آیا۔ یہ کہہ کر بت پر اپنا آہنی گرز اس زور سے مارا کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔اس کے بعد وہ وہاں سے نکل گیا۔ ان کے دو دارالخلافے تھے، غزنی اور لاہور۔ محمودغزنوی بہادر سپاہی تھا وہ ظالم اور بے رحم ہرگزنہ تھا۔ جنگی قیدیوں کو قتل نہیں کرتا تھا، سلطنت افغانستان کا انتظام بڑی خوبی کے ساتھ چلایا،غزنی میں عالیشان عمارتیں بناکر اس کی رونق بڑھائی۔ بہت سے شاعر اور باکمال دور دراز کے ملکوں سے آ کر غزنی میں آباد ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.