مسئلہ ۔۔ ڈاکٹر شاکرہ نندنی

Dr Shakira

آئن اسٹائن کا کہنا ہے کہ ایک ہی کام کو ایک ہی طریقے سے بار بار کرنے کے بعد مختلف نتیجے کی توقع رکھنا بیوقوفی ہے مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنے کمتر شعور سے پیدا کردہ مسائل سے نبرد آزما کیسے ہوسکتا ہے، شعور کی سطح کو کیسے بڑھایا جائے؟ وہ کیا محرکات ہیں جن پر عمل کر کے انسان اپنے شعور کو اس سطح پر لے آئے جہاں وہ مسائل کے انبار جو کہ کوہِ ہمالیہ کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں ان سے نمٹ سکے؟ ہر مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کے پاس ہر حل کے لئیے ایک مسئلہ ہوتا ہے، کوشش کریں ایسے لوگوں سے دور رہیں، حقیقت کی دنیا میں جینے کی کوشش کریں۔

بل گیٹس فکشن موویز نہیں دیکھتا نہ ہی فکشن پڑھتا ہے بقول بل گیٹس فکشن انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے، کوئی بھی بڑا فیصلہ کرتے وقت جن عوامل کو مدنظر رکھنے کی آپ فہرست بنائیں ان میں سب سے آخر میں کہیں اپنی خواہش کو رکھیں، اپنے فیصلے میں سب سے پہلے حقیقت پسندی کو جگہ دیں، دماغ کا کام دل سے مت لیں اور دل کا کام دماغ سے مت لیں، جب درزی کا کام داعی سے اور داعی کا کام درزی سے لیا جائے گا تو نتیجتاَ وہ ہی حال ہوگا جو حال اس وقت پاکستان کا ہے۔ اپنے فیصلوں کو لچکدار بنائیں، میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا بس بات ختم، یہ جہالت پر مبنی رویہ ہے اس سے جتنی جلد ممکن ہوسکے جان چھڑا لیں، زندگی میں کوئی بھی حرف حرفِ آخر نہیں ہوتا، انسان اپنے تئیں جتنے تیر چلا لے جتنے پہاڑ سر کرلے، مگر آخری فیصلہ قدرت کا ہی ہوتا ہے،

انجام طے کرتا ہے کہ آپ نے زندگی میں کیا غلط کیا اور کیا صحیح کیا، تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ انجام آپکے حق میں گواہی دے تو پھر اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے عمل کو تیز کیجئیے، عین فیصلے کے وقت اپنی خواہش کے تابع ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کو مد نظر رکھئیے، اکثر لوگ غلط فیصلہ بھی پوری نیک نیتی سے کر رہے ہوتے ہیں، با قاعدہ کہتے ہیں کہ میں نے تو پوری نیک نیتی سے کیا تھا اب نتیجہ غلط نکل آیا تو میں کیا کرسکتا ہوں؟ انسان پوری نیک نیتی کے ساتھ بسمِ اللہ پڑھ کر اگر زہر کا پیالہ پی لے اور کہے کہ میں نے تو نیک نیتی سے پیا تھا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ میری موت کا سبب بن جائے گا، تو خدارا اللہ پاک کا امتحان لینا بند کر دیں، اللہ نے عقل استعمال کے لئیے ہی دی ہے، مائنس ٹمپریچر میں اگر آپ برف بیچنے نکلیں گے تو برف نہ بکنے کا قصوروار آپکی قسمت نہیں بلکہ آپ کی عقل ہوگی۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.