مصطفی کمال پاشا۔۔۔ محمد ابراہیم

mustafa kamal

یورپ کی پہلی جنگِ عظم کے بعد ترک قوم کے دوبارہ زندہ ہونے کی امید ختم ہو چکی تھی لیکن دفعۃً اس قوم سے ایک ایسا جوان مرد اُٹھا جس نے دو برس کے اندر ترکوں کو از سرِ نو زندہ کر دیا اور آج ترک دنیا کی معزز ترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔ مصطفی کمال کا باپ سالونیکا میں چنگی کا محرر تھا۔ پھر لکڑی کا بیوپار کرنے لگا۔

1878ء میں اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مصطفی کمال رکھا گیا۔ ابھی بچہ ہی تھا کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔ ماں بہت دین دار لیکن نہایت غریب خاتون تھی، اُس نے مصطفی کو ایک دینی مدرسے میں داخل کردیا۔لیکن مصطفی کو بچپن ہی سے فوجی افسر بننے کا شوق تھا، چنانچہ وہ خود فوجی سکول میں داخل ہو گیا اور 1904ء میں فوجی کالج سے لیفٹیننٹ بن کر نکلا۔ نوجوان اور تعلیم یافتہ ترکوں نے سلطان عبدالحمید کے استبداد سے نجات حاصل کرنے کے لیے انجمن اتحاد و ترقی قائم کر رکھی تھی، مصطفی کمال بھی اس کا رکن بن گیا، لیکن جب سلطان تخت سے اُتار دیا گیا تو مصطفی نے اپنی پوری توجہ فوج کی طرف مبذول کر دی۔ طرابلس اور بلقان کی جنگوں میں دادِ شجاعت دی۔

1914ء میں یورپ کی پہلی جنگِ عظیم چھڑی جس میں مصطفی کمال کو گیلی پولی میں متعین کیا گیا۔ یہاں اس نے انگریزوں کو پے در پے شکستیں دیں، لیکن جنگ کے خاتمہ پر ترکوں اور ان کے ساتھیوں کو شکست ہو گئی۔ انگریز قسطنطنیہ پر قابض ہو گئے۔ مصطفی کمال قوم کی اس تباہی پر تڑپ اُٹھا۔ آخر قسطنطنیہ سے ایشیائے کو چک پہنچ گیا اور قوم کی رہی سہی فوجی طاقت کو انتہائی محنت اور جفاکشی سے منظم کیا۔ یونانیوں نے انگریزوں کے ایما پر حملہ کر دیا، لیکن غازی مصطفی کمال نے سمرنا کے مقام پر ان کو شکست دی۔ لائڈ جارج(سابق وزیراعظم برطانیہ) اس پالیسی کے ناکام ہو جانے پر مستعفی ہو گئے اور ترک قوم نے لوزان کے مقام پر نیا معاہدہ صلح کرکے اپنی آزادی محفوظ کر لی۔صلح کے بعد مصطفی کمال نے سلطانیت کو ختم کر کے جمہوریت قائم کی، قوم کو ترقی کے راستے پر لگایا۔

قوم نے ان کو ’’اتاترک‘‘ کا خطاب دیا یعنی ’’ترکوں کا باپ‘‘ اس عظیم انسان نے انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں ترکوں کی تنظیم کی اور ان کو فتح و کامرانی سے بہرہ ور کر دیا۔ ترک قوم اس رہنما پر جس قدر ناز کرے کم ہے۔ نومبر 1938ء میں غازی مصطفی کمال اتاترک کا انتقال ہو گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.