ملیریا کی علامات اور بچائو۔۔ جان فرین

ملیریا بخار

ملیریا دنیا بھر میں تیزی سے پھلیتا ہوا مرض بنتا جا رہا ہے خاص کر پاکستان میں۔ اور ایک بڑی آبادی ملیریا کے خطرے سے دوچار رہتی ہے۔ عموماً ملیریا کی ایک قسم موسم بہار کے اختتام پر تیزی سے پھیلتی ہے جبکہ دوسری مون سون کی بارشوں کے بعد۔ ملیریا سے ہونے والی ہر موت ایک المیہ ہے۔ ملیریا بہت سی ملیریا انفیکشنز سے بچا جا سکتا ہے۔ وہ افراد یا خاندان جو ان علاقوں میں سفر کر رہے ہیں، کسی سے ملنے جا رہے ہیں، چھٹیاں منا رہے ہیں یا رہ رہے ہیں جہاں ملیریا ہے، بعض سادہ اصول اپنا کر اس مرض سے بچ سکتے ہیں۔ ملیریا ایک پیچیدہ مرض ہے لیکن اس سے بچاؤ اور اس کا علاج سادہ ہے۔

آگاہی ملیریا کی انفیکشن کا شکار ہونے میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں جان کر خطرے کو دور یا کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کسی ملیریا زدہ علاقے میں جا رہے ہیں، تو معلوم کریں کہ یہ مرض کتنا پھیلتا ہے اور کب؟ کچھ علاقوں میں یہ ایک موسمی مرض ہوتا ہے۔ ملیریا سے خاص طور پر بچوں، نوعمروں، حاملہ خواتین اور ان افراد کو بچنا چاہیے جن کی قوتِ مدافعت کم ہو چکی ہے۔ اگر ملیریا پھیلا ہوا ہے تو باہر رہنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اجتناب مچھر کے کاٹنے سے بچنا ملیریا سے بچاؤ کا سب سے اہم قدم ہے۔ اس لیے کہ مچھر کے کاٹنے ہی سے اس مرض کا طفیلی انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ مچھر اور انسان کا سامنا اکثر ہو جاتا ہے۔ مچھر تندہی سے انسانوں کو باہر تلاش کرتے ہیں۔ ان میں ایسے حسی اعضا ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ انسانوں کے جسم سے پیدا ہونے والی حدت، کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج اور پسینے کی بو پہچان لیتے ہیں۔ مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ ان میں شام سے صبح تک مکان کے اندر رہنا اور باہر نکلتے وقت پورے جسم کو ڈھانپ کر رکھنا شامل ہے۔ خیال رہے کہ مچھروں کو ٹخنے بہت پُرکشش لگتے ہیں۔ مچھروں کو دور رکھنے کے لیے بہت سے لوشن اور مچھر مار مادے دستیاب ہیں۔ مچھر بھگاؤ لوشن کو جلد پر لگایا جاتا ہے۔ دوسرے طریقوں میں مچھر بھگاؤ کوائل جلانا یا مچھر مار میٹس کو رہنے اور سونے کے کمروں میں رات کے وقت لگانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مچھر مار مادوں والی جالیاں بھی لگائی جاتی ہیں۔

چھت کے پنکھے اور ائیرکنڈیشنر سے مچھروں کی سرگرمی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اسی طرح کھڑکیوں پر بند جالیوں سے۔ اگر آپ کو مچھروں کی بھنبھناہٹ سنائی نہیں دے رہی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ محفوظ ہیں کیونکہ ملیریا کا مچھر خاموشی سے اڑتا ہے۔ تدارک اگر آپ اس علاقے میں جا رہے ہیں جہاں ملیریا پھیلا ہوا ہے تو اس ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو سفری ادویات کا ماہر ہو۔ اس مشاورت سے آپ بہتر طور پر جان پائیں گے کہ آیا آپ کو بچاؤ کی تدابیر کے علاوہ کیمیائی تدارک (انفیکشن روکنے کی ادویات) کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس فیصلے پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں ملیریا کے خطرے کی شدت، عمر، جاری ادویات یا مرض، ادویات کی دستیابی، قیمت اور منفی اثرات سب کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر نے دوا تجویز کر دی ہے تو اسے باقاعدگی سے اور مکمل استعمال کرنا چاہیے۔ تشخیص بعض اوقات ملیریا سے بچنے کی بہترین کوششیں بھی ناکام ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں ملیریا کی جلد از جلد تشخیص اہم ہوتی ہے۔ فرض کریں آپ ملیریا کے علاقے سے واپس آ گئے ہیں۔ اس دوران تین ماہ تک اگر آپ کو فلو جیسی علامات جیسے سر درد، سردی لگنا، جوڑوں اور پٹھوں میں درد ظاہر ہو تو ڈاکٹر کو پوری تفصیل بتائیں۔ صرف ایک ٹیسٹ سے ملیریا کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وہ علاقے جہاں ملیریا نہیں ہوتا، وہاں یہ مرض کاروں اور ٹیکسیوں وغیرہ میں چھپ جانے والی مچھروں سے پھیلتا ہے۔ چونکہ ملیریا اس علاقے میں نہیں ہوتا اس لیے بعض اوقات ڈاکٹر اسے زیرِ غور نہیں لاتے جس کا کبھی کبھی مہلک نتیجہ نکلتا ہے۔ ملیریا سے پلیٹ لٹس کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات کسی دوسری بیماری کے ٹیسٹ سے اس کا پتہ چلتا ہے۔ بحالی اس مرض سے جلد بحالی کے لیے بہت سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں بیماری کے بارے جلد مطلع اور تشخیص کرنا، اور جلد اور مؤثر علاج کرنا شامل ہیں۔ اگر مذکورہ اقدامات میں سے کسی ایک میں بھی تاخیر ہو جائے تو ملیریا سے پیچیدگی پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.