میڈیا کی جدید تعلیم اورجامعات کا کردار۔ کالم سلمان عابد

salman abid

پاکستانی تعلیمی اداروں اور جامعات میں میڈیا پر دی جانے والی تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔ آج کے جدید دور یا ابلاغ کی دنیا میں میڈیا ایک بنیادی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔ایک زمانے میں میڈیا کو پرنٹ میڈیا سے جوڑ کر ہی دیکھا جاتا تھا۔کیونکہ الیکٹرانک میڈیا ریاستی کنٹرول تک ہی محدود تھا۔ لیکن اب نجی شعبہ میں ہونے والی ترقی نے عملی طور پرملک میں الیکٹرانک، پرنٹ ، سوشل میڈیا سمیت متبادل میڈیا کی نئی جہتوں اور نئی نئی تبدیلیوں کو پیدا کرکے اس کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھادیا ہے ۔میڈیا عمومی طور پر رائے عامہ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے او راس کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ماضی میں پاکستان کے تعلیمی اداروں میں میڈیا سے جڑی ہوئی تعلیم کو شعبہ صحافت کے طور پر پڑھایاجاتا تھا ۔لیکن آج کی جدید دنیا میں اسے شعبہ صحافت کے مقابلے میں ماس کمیونیکیشن کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔کوشش کی جاتی ہے کہ پڑھنے والے لڑکوں او رلڑکیوں کو تھیوری اور عملی تربیت دونوں سے بہتر طورپر آگاہی دی جائے تاکہ نوجوان نسل میڈیا کے محاذ پر زیادہ بہتر اور موثر انداز میں اپنا علمی وفکری کردار ادا کرسکے ۔اگرچہ میڈیا سے جڑے ہوئے نصاب میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی نئی تبدیلیاں بھی لائی گئی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود آج بھی جو کچھ میڈیا میں پڑھایا جارہا ہے اس میں کافی خامیاں یا کمزوریاں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میڈیا کی تعلیم کے بعد جو نوجوان لڑکے او رلڑکیاں میڈیا کے محاذ پر کام کے لیے آتے ہیں ان کو عملی میدان میں صلاحیتوں کے تناظر میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جو عملا دی جانے والی تعلیمی ساکھ پر سوالات کو جنم دیتے ہیں ۔
ایک زمانے میں لوگ شعبہ صحافت کو ایک جنون، شوق او رلگن کے طور پر اختیار کرتے تھے ۔یہ لگن اور شوق ان میں بڑی حد تک مطالعہ اور زیادہ سے زیادہ سیکھنے کا عمل پیدا کرتا تھا ۔ دائیں بائیں بازو کی نظریاتی اور فکری جنگ نے بھی لوگوں میں موجود سیاسی شعور کو بہت آگے بڑھایا ، لیکن اب نئی نسل میں اس کا گہرا فقدان نظر آتا ہے ۔ آپ میڈیا سے جڑے ہوئے نئے طالب علموں سے گفتگو کریں تو بہت جلد ہی محسوس ہوگا کہ ان میں مطالعہ کی کمی غالب ہے ۔ یقینی طور پر میڈیا ایک پروفیشن کی حیثیت رکھتا ہے ۔لیکن مسئلہ علم اور صلاحیتوں کے بغیر آپ اس شعبہ میں کچھ نہیں کرسکیں گے ۔ بہت سے طلبہ و طالبات تو باقاعدگی سے اخبارات کا مطالعہ ہی نہیں کرتے۔ اداریہ نویسی ، کالم نگاری اورفیچر پر تو ان کو کوئی فہم بھی نہیں ہے . دلچسپ بات یہ کہ ہر لڑکا اور لڑکی بس کالم نگار، اینکر، رپورٹر یا نیوز کاسٹر بننا چاہتا ہے یعنی کیمرے کے سامنے آنے کی ان کی خواہش ہوتی ہے ۔
وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سطح پر ایک میڈیا نصاب کمیٹی بھی موجود ہے ۔ اس کمیٹی میںتمام جامعات کے شعبہ میڈیا سے جڑے ہوئے سربراہ اور استاد شامل ہیں۔معروف استاد اور پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اس کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں اور آج کل یہ کمیٹی کراچی یونیورسٹی میں میڈیا کی سربراہ ڈاکٹر سیمی طاہر کی سربراہی میں کام کررہی ہے ۔اس کمیٹی میں یہ بحث کچھ دوستوں کی جانب سے سامنے آئی کہ ہمیں میڈیا پروفیشنل ٹریک ایم فل کو ختم کردیا جائے ۔ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے بقول میڈیا میں دنیا آگے کی طرف جارہی ہے،جبکہ ہم پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ان کے بقول اس وقت دنیا میں کوئی 48کے قریب میڈیا ٹائپ یعنی Mass Communication میں تعلیم دی جارہی ہے جن میں پرنٹ ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا، فلم ، تھیٹر، ایڈورٹائزمنٹ،ڈیجیٹل کے شعبہ میں تعلیم دی جارہی ہے ۔ کوئی ایک ایسی درس گاہ نہیں جو بیک وقت سارے شعبوں میں تعلیم دے سکے ۔ہر ایک کے سامنے اپنی ترجیح اور معیارات ہیں جن میں وہ تعلیم دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

ڈاکٹر مغیث اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں میڈیا کی تعلیم میں جدید تقاضوں کے ساتھ ساتھ Diversityبھی پیدا کرنی ہوگی اور اداروں کو خود مختاری دینی ہوگی کہ وہ کن شعبہ جات میں تعلیم دینا چاہتے ہیں۔ان کے بقول ایم فل کی سطح پر پروفیشنل ٹریک کے خاتمہ کی بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔ جو لوگ اس پر تنقید کررہے ہیں اصل میں ان اداروں کے پاس وہ سہولتیں میسر نہیں جو آج کی ضرورت کے زمرے میں آتی ہے ۔بہت سے اداروں کے پاس نہ تو اعلی طرز کی میڈیا لیب ہے او رنہ ہی سٹوڈیوز اور پروڈکشن ہاوس، ایڈٹینگ لیب موجود ہیں جہاں بچوں کو عملی تربیت دی جاسکے ۔اصولی طو رپر جو ادارے ایم فل کی سطح پر پروفیشنل ٹریک کی تعلیم نہیں دے سکتے وہ نہ دیں ،لیکن جو دینا چاہتے ہیں ان پر پابندی نہیں ہونی چاہیے ۔کیونکہ آج آن لائن میڈیا کا دور ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے میڈیا کے دور میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس لمز میں میڈیا کا کوئی پروگرام نہیں ہے ۔
ڈاکٹر مغیث کے بقول اس وقت پاکستان میں مکمل اور خود مختار میڈیا یونیورسٹی کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ میڈیا کی سطح پر جو بڑے بڑے چیلنجز داخلی اور خارجی محاذ پر ہیں اس کا مقابلہ یونیورسٹی کو بنیاد بنا کر علمی اور فکری محاذ پر کیا جاسکتا ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں میڈیا یونیورسٹی کی بحث شروع ہوئی ۔ اس کا خیال پنجاب کے سابق گورنر جنرل ) ر( مقبول نے پیش کیا تھا ۔ سابق گورنر نے ہی ڈاکٹر مغیث الدین کو ذمہ داری دی کہ وہ سب ماہرین کے سامنے ایک علمی پریزنٹیشن دیں کہ میڈیا یونیورسٹی کیسے بننی چاہیے، کیا کام کرنا ہوگا او ربالخصوص اس کا Visionکیا ہوگا۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے یہ پریزنٹیشن دی تھی جس میں میڈیا کے ماہرین اور اہم بڑ ے صحافتی نام شامل تھے کی ہر سطح پر پزیرائی ملی ، لیکن بعد میں اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ۔یہ دلیل بھی دی گئی کہ میڈیا ایک نصاب ہونا چاہیے ، جس پر ڈاکٹر مغیث نے مخالفت کی او رکہا ایسا ممکن نہیں ہوگا او ردنیا میں ایسا ہوبھی نہیں رہا ۔اس پریزنٹیشن میں ڈاکٹڑ مغیث نے ماہرین نے سامنے عالمی دنیا اور ساوتھ ایشیا سمیت بھارت کی مثالیں دی کہ وہاں کیا کچھ پڑھایا جارہا ہے او رہمیں ان کے تجربات سے کیا کچھ سیکھنا چاہیے۔
ڈاکٹر مغیث یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ہم بہت زیادہ میڈیا پروفیشنل پیدا نہیں کررہے بلکہ ہم میڈیا Iternsپیدا کررہے ہیں اور ان کی پروفیشنل صلاحیتوں کو بڑھانے کی ذمہ داری میڈیا کے اپنے اداروں کی بھی ہونی چاہیے ۔ جب تک میڈیا ان ہاوس تربیت کاجامع پروگرام ترتیب نہیں دے گا ، یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔ساری ذمہ داری میڈیا سے جڑے تعلیمی اداروں پر نہیں ڈالنی چاہیے ، کچھ اعتراف میڈیا کے اداروں کو بھی کرنا ہوگا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ان کے بقول پوری دنیا میں میڈیا سے جڑے تعلیمی اداروں او رمیڈیا کے عملی اداروں میں خلا موجود ہوتا ہے ۔اس کی ایک وجہ میڈیا میں موجود Polarizationبھی ہے او ربہت سے مقامات پر غیر تربیت یافتہ لوگوں کے ہاتھوں میں میڈیا کی فیصلہ سازی بھی ہے۔

میڈیا کی تعلیم کو جدید تقاضوں او رآج کی ضرورتوں کے پیش نظر ہماری درس گاہوں او ربالخصوص ہائر ایجوکیشن کمیشن اور میڈیا کے یونیورسٹیوں کی سطح پر سربراہان کو روائتی طور طریقوں سے باہر نکل کر کچھ نیا پن دکھانا ہوگا ۔ یہ عمل یقینی طور پر میڈیا کے تعلیمی ماہرین اور عملی سطح پر کام کرنے والے میڈیا سے جڑے افراد کے درمیان باہمی مشاورت سے آگے بڑھنا چاہیے ۔کیونکہ آج جو میڈیا کی ضرورت ہے اگر اس کے مطابق نئے لڑکوں او رلڑکیوں کو تیار نہ کیا گیا تو محض ان کو دی جانے والی ڈگریاں ان کو بہتر مستقبل نہیں دیں سکیں گی ۔میڈیا کے تعلیمی اداروں کا کام علمی میڈیا پر ایک بڑے واچ مین کا بھی ہے ۔ میڈیامیں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کرنا بھی ان کا حق ہے ۔ یہ کام تحقیق کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے تاکہ داخلی کمزوریوں کو دور کیا جاسکے ۔

لیکن اصل کام یہ ہے کہ تھیور ی کے ساتھ عملی تربیت اور سیکھنے سکھانے کا ماحول مختلف سرگرمیوں جن میں سیمینارز، مکالمہ ، کانفرنسز، ورکشاپس، ڈاکو مینٹریز، بحث و مباحثہ، ماہرین سے آگاہی ، لیکچرز کی مدد سے آگے بڑھایا جائے ۔ اس پر واقعی سوچ بچار کی ضرورت ہے کہ آج کا میڈیا کا نصاب کس حد تک ہماری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ۔ نئی نسل میںیہ بات بھی سننے کو ملتی ہے کہ میڈیا میں موجود ماہرین نئی نسل کو سکھانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے جس سے ان کو آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ اسی طرح سے اب اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ میڈیا کے نصاب میں سوشل میڈیا کا استعمال سمیت سائبر کرائم بل بھی نئی نسل میں بطور مضمون متعارف کروایا جائے ۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.