نوجوان نسل،آرمی چیف اورانتشار پرمبنی سیاست:کالم سلمان عابد

Salman Abid

ہمیں اس فکری مغالطہ سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہماری نوجوان نسل میں کوئی انتہا پسندی نہیں ہے ۔ بہت سے اہل دانش اس کی تردید کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل میں انتہا پسندی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ یہ انتہا پسندی محض مذہبی نوعیت کی نہیں بلکہ سیاسی ، سماجی ،معاشی ، لسانی ، علاقائی ، فرقہ ورانہ اور عدم انصاف یا محرومی کی سیاست سے بھی جڑی نظر آتی ہے ۔لیکن کیونکہ ہم عملی طور پر حقایق کی دنیا سے زیادہ خوابوں ، خواہشوں اور حقیقتوں سے دور رہتے ہیں اس لیے اصل صورتحال کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔انتہا پسندی ایک ایسی بیماری بن گئی ہے جس سے نمٹنا محض کسی ایک ادارے یا کسی ایک فریق یا جماعت کا کام نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی عمل ہے ۔

پچھلے دنوں ایک بار پھر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ نے نوجوان نسل کے تناظر میں انتباہ کیا ہے کہ چند داخلی اور خارجی عناصر اپنے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت نوجوان نسل کے ذہنوں پر اثر انداز ہوکر انتشار پھیلاکر معاشرے میں ایک بڑا بگاڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔فوج کے سربراہ کے بقول انتہا پسندی کو معاشرہ اجتماعی طو رپر مسترد کرے او راس کے مقابلے میں امن ، رواداری اور اخوت کو بنیاد بنا کر ایک نئے بیانیہ کی تشکیل میں مدد کرے ۔ہمیں نئی نسل کو انتشار پر مبنی سیاست کے ایجنڈے میں الجھانے کی بجائے ملکی ترقی میں ان کے کردار کو مضبوط کرنا ہوگا۔

پشاور میں اے پی ایس سکول میں بچوں پر حملہ کے بعد جو قومی اتفاق رائے پر مبنی بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان کو حتمی شکل دی گئی تھی وہ کافی اہمیت کا حامل دستاویز تھی ۔ان نکات میں مجموعی طو رپر محض انتظامی بنیادوں پر انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی نہیں تھی ، بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر علمی اور فکری بنیادوں پر ذہن سازی اور نوجوان نسل میں رواداری پر مبنی سوچ ،فکر کو اجاگر کرنے کا ایجنڈا فوقیت رکھتا تھا ۔خاص طور پر تعلیمی اداروں ، نصاب ، اساتذہ ، اور طالب علموں کو فوقیت دے کر اس میدان میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں پر زور دیا گیا تھا ۔ اسی طرح رائے عامہ کی تشکیل میں میڈیا کے کردار کی اہمیت کے پیش نظر میڈیا ، سوشل میڈیا کو بھی بنیاد بناکر اصلاحات پر زور دیا گیا ۔

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاست میں موجود غیر یقینی کیفیت، عدم سیاسی ، سماجی او رمعاشی استحکام ،محاز آرائی ، الزام تراشی پر مبنی سیاست اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کی روش نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے تناظر میں وہ کچھ نہیں کیا جو قومی ضرورت کے زمرے میں آتا تھا ۔اسی طرح سول ملٹری بداعتمادی بھی معاملات کو بہتر انداز میں نمٹنے سے مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بنی ۔اصولی طو رپر اس انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے سیاسی حکومتوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو ایک بڑی قیادت کے طور پر ان معاملات میں برتری حاصل کرنی تھی ، جو یقینا ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ اور مربوط نگرانی کے نظام کے بغیر ممکن نہیں تھی ۔اس لیے اگر آج جو انتہاپسندی جیسا مرض موجود ہے او راس میں ہم بڑی تیزی سے مسئلہ کے حل کی جانب نہیں بڑھ رہے تو اس میں ریاستی اور حکومتی تضاد کا پہلو بھی نمایاں ہے جو ہمیں مطلوبہ نتائج دینے کی بجائے مزید نئی نسل کو فکری بنیادوں پر الجھا رہا ہے ۔

ماضی میں ہم یہ دلیل دیتے تھے کہ مذہبی انتہا پسندی دینی مدارس تک محدود ہے او ریہ مدارس انتہا پسندی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ۔لیکن اب یہ مسئلہ محض دینی مدارس تک محدود نہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر ہمارے رسمی تعلیمی ادارے بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں ۔حالیہ کچھ برسوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے معاملات میں جو کردار سامنے آئے ہیں ان میں اول زیادہ نوجوان نسل ہے اور دوئم ان کا تعلق اعلی تعلیمی اداروں سے ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پڑھی لکھی نسل بھی اس مرض کا حصہ بن گئی ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ جو نئی نسل میں انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اس کا کس حد تک ہم نے درست انداز میں تشخیص، ادرا ک اور فہم کو سمجھ کر وہ حکمت عملی اختیار کی ہے جو ہمیں درکار ہے ۔ یقینی طور پر جواب میں ہمیں بہت سے خلا یا مسائل نظر آتے ہیں ،کیونکہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم ان انتہا پسندی کے معاملات میں یکسو ہونے کی بجائے تقسیم نظر آتے ہیں ۔ہم اس کو محض مہذہبی مسئلہ سمجھ کر نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں ،جبکہ یہ مسئلہ مجموعی طور پر ریاستی ، حکومتی نظا م ،طرز حکمرانی ، فیصلہ سازی اور نئی نسل میں موجود محرومی کی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے ۔یہ واقعی سمجھنا ہوگا کہ جو انتہا پسندی موجود ہے یا بڑھ رہی ہے اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں کیا کچھ درکار ہے ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اجتماعیت پر مبنی اتفاق رائے اور فیصلہ کو اہمیت دیں گے ۔

آرمی چیف نے جو اشارہ کیا ہے کہ کچھ عناصر داخلی اور خارجی سطح پر ایسے موجود ہیں جو نئی نسل کو بغاوت، انتہا پسندی اور انتشار پر اکسارہے ہیں ، وہ یقینا سچ ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے دشمن چاہے وہ ملک کے اندر ہیں یا باہر اس نوجوان نسل کو بنیاد بنا کر معاشرے میں فوج ، حکومت، ریاست اور اداروں میں ایک ایسی تقسیم پیدا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیںجو ہمیں داخلی سطح پر کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔یہ جو داخلی اور خارجی عوامل ہیں چاہے ان کا تعلق انفرادی یا ادارہ جاتی سطح سے ہو اس سے نمٹنے کے لیے بھی ہمیں ایک مربوط منصفانہ اور شفافیت پر مبنی سمیت جوابدہی ،احتساب اور نگرانی کا ایسا نظام درکار ہے جو ہمیں ان عناصر کی نشاندہی کرنے او رختم کرنے میں معاون ثابت ہو ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جو بھی داخلی یا خارجی عناصر ہماری نئی نسل کو بنیاد بنا کر ہمیں کمزور کرنے او رانتہا پسندی پھیلانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ان کو طاقت بھی ہمارا کمزور داخلی نظام دے رہا ہے ۔ کیونکہ داخلی سطح پر ہماری کمزوری ان قوتوں کو فائدہ یا طاقت ور بنارہی ہے جو ہمیں کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔جب داخلی کمزو ریوں کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد ہمیں معاملات کو سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہیے ۔ہمارا حکمرانی کا نظام نئی نسل میں بغاوت، غصہ، نفرت او رمحرومی کی سیاست کو طاقت فراہم کرکے ریاست اور نوجوان نسل کے درمیان ایک بڑی تفریق اور خلا پیدا کررہا ہے ۔اس لیے مسئلہ یہ نہیں کہ ہم سارا غصہ نئی نسل پر نکالیں کہ وہ انتہا پسند بنتی جارہی ہے ۔ بلکہ اصل مسئلہ ان محرکات کو سمجھ کر ایسی حکمت عملی کی طرف بڑھنا جو نئی نسل کو انتہا پسندی سے باہر نکالے۔

نئی نسل کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد محض پڑھی لکھی یا لڑکوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں وہ نسل بھی شامل ہے جو پڑھ نہیں سکی ، یا جن کا تعلق دہیاتوں سے ہے یا جو لڑکیاں ہیںیا جو معذور افراد ہیں سب کو بنیاد بنا کر معاملات کو آگے بڑھانا ہوگا او رسب کے لیے مختلف حکمت عملیاں درکار ہیں ۔ اسی طرح سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ اس پر نئی نسل کو آگاہ کرنا ، اس سے متعلق قوانین سے روشناس کروانا او رکس طرح سے نئی نسل اس میڈیا کو طاقت بنا کر دو کام کرے ۔ اول وہ اس سوشل میڈیا کو طاقت بنا کر سیاسی ، سماجی بنیادوں پر فکری اور علمی مباحث پیدا کریں اور دوئم علمی اور فکری بنیادوں پر ان مباحث کو چیلنج کرتے ہوئے ایک متبادل بیانیہ سامنے لائیں جو نئی نسل کو انتہا پسندی سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو۔

اسی طرح یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے نئی نسل کو انتہا پسندی سے باہر نکالنا ہے تو اس کا علاج ایک منصفانہ ، شفاف اور برابری کی بنیاد پر چلنے والے جمہوری نظام سے جڑا ہے جو لوگوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت کا سبب بن سکے ۔یہ تصور کہ ہم نئی نسل کو محروم رکھ کر انتہا پسندی سے نمٹ سکیں گے ، غلط ہے ۔اس لیے ہمیں اپنی مجموعی سیاست او راس کے فیصلوں کو بدلنا ہوگا۔ نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرکے تعلیمی اداروں ، گھروں محلوں اور کمیونٹی کی سطح پر زیادہ سے زیادہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔یہ غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے وسائل کو مختص کرنا ، کھیلوں کے میدان جہاں سب کی آسانی سے رسائی ہو اور کلچرل بنیادوں پر سرگرمیوں کی بنیاد کو طاقت دینی ہوگی ۔ہمیں نئی نسل میں ایک ایسا اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا کہ وہ مختلف سوچ او رفکر، مذہب، رنگ، نسل ، زبان کے باوجود اکھٹے رہ سکیں اور مل کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں تو انتہا پسندی سے نمٹنا جاسکتا ہے ۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

1 thought on “نوجوان نسل،آرمی چیف اورانتشار پرمبنی سیاست:کالم سلمان عابد

  1. شاندار اور جاندار کالم۔
    یقینا قومی سطح کی سوچ اور قیادت درکار ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.