نیلسن منڈیلاکے اقوال۔۔ محمد شاہد

نیلسن منڈیلا کے اقوال

نیلسن منڈیلا (1918–2013) جنوبی افریقہ کے سیاہ فام رہنما تھے جنہوں نے اپنے ملک میں نسلی امتیاز پر مبنی نظام کے خلاف جدوجہد کی، اور اس کی پاداش میں 27 برس جیل میں گزارے۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خاتمے کے لیے ان کی جدوجہد بالآخر رنگ لائی اور امتیازی نظام کا خاتمہ ہوا۔ ذیل میں ان کے چند شاندار اقوال پیش کیے جا رہے ہیں۔
٭ حقیقی رہنما کو اپنے عوام کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہنا چاہیے۔
٭ میں نے سیکھا ہے کہ بہادری خوف کی غیرموجودگی نہیں، بلکہ اس پر قابو پانا ہے۔ بہادر وہ نہیں جو خوف محسوس نہیں کرتا، بلکہ وہ ہے جو خوف پر قابو پاتا ہے۔ ٭ دنیا کو تبدیل کرنے کا سب سے طاقت ور ہتھیار تعلیم ہے۔
٭ ہر کوئی اپنے حالات سے نپٹ سکتا ہے اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ کہ وہ اس کے لیے خود کو وقف کرے اور اس کے بارے میں پُرجوش ہو۔
٭ مجھے آزاد ذہن دوست پسند ہیں کیونکہ وہ آپ کو مسائل تمام زاویوں سے دِکھانے میں مدد کرتے ہیں۔
٭ جب تک کوئی کام ہو نہیں جاتا ، ناممکن سمجھا جاتا ہے۔
٭ مجھے میری کامیابی سے مت جانچیں، مجھے جانچنا ہے تو یہ دیکھیں کہ میں کتنی بار گرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا۔
٭ تنوع، نسل، مذہب اور ثقافت ہماری تقسیم کا سبب نہیں۔ ٭ چونکہ ہم آزادی حاصل کر چکے ہیں اس لیے ہمارے درمیان صرف ایک تقسیم ہے: ایک طرف وہ ہیں جو جمہوریت کو عزیز جانتے ہیں اور دوسرے وہ جو نہیں۔
٭ آپ کے چناؤ آپ کی امیدوں کے عکاس ہوتے ہیں، خوف کے نہیں۔
٭ کسی عظیم پہاڑی پر چڑھنے کے بعد یہی پتا چلتا ہے کہ ابھی چڑھنے کے لیے بہت سی دوسری پہاڑیاں ہیں۔
٭ غربت حادثاتی نہیں ہوتی۔ غلامی اور نسلی امتیاز کی طرح اسے انسان نے تخلیق کیا اور اسے انسانی اعمال ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
٭ کسی توقع کے بغیر دوسروں کے لیے وقت اور توانائی صَرف کرنا سب سے بڑا تحفہ ہے۔
٭ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ فلسطین کی آزادی کے بغیر ہماری آزادی نامکمل ہے۔
٭ میں کبھی ہارتا نہیں۔ میں یا جیتتا ہوں یا سیکھتا ہوں۔ ٭ ہم دنیا بدل سکتے ہیں اور اسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ تبدیلی لانا ہمارے بس میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.