ٹائی ٹینک کا مددگار۔۔۔۔ وردہ بلوچ

ٹائی ٹینک جہاز

بحری جہاز کارپاتھیا، جس کا پورا نام رائل میل شپ کارپاتھیا تھا، برطانوی مسافر بحری جہاز تھا۔ اسے 1912ء میں بحری جہاز ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچانے کی وجہ سے شہرت ملی۔ یہ جہاز 1903ء سے 1918ء تک چلتا رہا۔ اسے جرمن آبدوز نے تباہ کیا۔ اس جہاز کی تعمیر 10 ستمبر 1901ء کو شروع ہوئی، رونمائی چھ اگست 1902ء کو ہوئی اور اگلے برس یہ مکمل ہوا۔ تکمیل پر اس کی لمبائی 558 فٹ تھی اور وزن ساڑھے 13 ہزار ٹن سے زیادہ تھا۔

یہ 17 سو مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ پانچ مئی 1903ء کو اس نے اپنا پہلا سفر برطانوی شہر لیور پول سے امریکی شہر نیویارک سٹی تک کیا۔ تب اس جہاز میں فرسٹ کلاس نہیں تھی۔ یہ سیاحوں اور تارکین وطن میں بہت مقبول ہوا۔ 1905ء میں کارپاتھیا میں تبدیلیاں لائی گئیں اور اس کی مسافروں کی صلاحیت 2550 کر دی گئی، نیز فرسٹ کلاس کا اہتمام بھی کیا گیا۔ چند برس بعد یہ نیویارک اور بحرروم کے ساحلی شہروں کے درمیان آنے جانے لگا۔ 11 اپریل 1912ء میں یہ نیویارک سٹی سے فیوم کے لیے روانہ ہوا جو اس زمانے میں ایک ریاست تھی۔ اس پر 740 مسافر سوار تھے۔ 15 اپریل تقریباً 12:20 بجے صبح جہاز کو ٹائی ٹینک سے تشویش ناک کال موصول ہوئی، جو ایک برفانی تودے سے ٹکرا گیا تھا اور ڈوب رہا تھا۔ کیپٹن آرتھر ہنری روسٹرون نے ٹائی ٹینک کی جانب رخ کرنے کا حکم دیا جو تقریباً 107 کلومیٹر دور تھا۔ اس نے ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچانے کے لیے تیاری کا حکم بھی دیا۔ برفانی تودوں کی موجودگی کے باوجود، جہاز انتہائی تیز رفتاری (تقریباً 17ناٹ) سے سفر کرنے لگا اور علی الصبح 3:30 بجے حادثے کے مقام پر پہنچ گیا۔ ٹائی ٹینک ایک گھنٹہ قبل ڈوب چکا تھا لیکن کارپاتھیا 705 افراد کی زندگیاں بچانے میں کامیاب رہا۔ جہاز 18 اپریل کو نیویارک واپس پہنچا۔

اس جہاز کے عملے کو انسانی جانیں بچانے پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا اور روسٹرون کو امریکی کانگرس کا گولڈ میڈل دیا گیا۔ پہلی عالمی جنگ میں یہ جہاز اتحادیوں کی افواج اور سامان کو پہنچانے کا کام کرتا رہا۔ 17 جولائی 1918ء کو یہ لیور پول سے بوسٹن جا رہا تھا۔ آئرلینڈ کے جنوبی ساحل پر جرمن آبدوز کے تین تارپیڈو اس سے ٹکرائے اور یہ ڈوب گیا۔ پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ باقی مسافروں اور عملے کو بچا لیا گیا۔ 1999ء میں اس جہاز کو سمندر میں پانچ سو فٹ کی گہرائی میں دریافت کر لیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.