پارلیمنٹ،ارکان اسمبلی اورشفافیت کا مسئلہ ۔ سلمان عابد

salman abid

بنیادی طور پر کوئی بھی سیاسی نظام اخلاقی اور قانونی ساکھ کی بنیاد پر ہی اپنی سیاسی حیثیت کو منواتا ہے ۔کیونکہ سیاسی نظام میں اگر شفافیت اور جوابدہی کا تصور موجود نہ ہو تو اس طرز کا نظام نظام تو رہتا ہے مگر ا س کی افادیت غیر اہم ہوجاتی ہے ۔ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری نظام کا المیہ یہ ہے کہ اس میں سب کچھ ہے اگر کچھ نہیں تو شفافیت اور جوابدہی پر مبنی نظام کی کمی کا ہے ۔ ہمارے سیاسی نظام سے جڑے ہوئے افراد یا فریقین جمہوری پاسداری اور جمہوری اداروں کی بالادستی کی دہائی تو بہت دیتے ہیں ، مگر ان تمام سیاسی ، قانونی اور اخلاقی جمہوری اصولوں کو خود پر لاگو کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ان کو جمہوری نظام میں خطرات لاحق نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت سے جڑے ہوئے مسائل پر لاتعداد کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ، لیکن یہاں مسئلہ جو زیر بحث ہے وہ ارکان پارلیمنٹ کی شرائط کا ہے ۔ یعنی جو بھی جماعت کا فرد جماعتی یا افرادی حیثیت میں اسمبلی کا ممبر بننا چاہتا ہے اس کی شرائط کیا ہونی چاہیے ۔یاد رہے کہ ممبر پارلیمنٹ نہ صرف اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ وہ قومی سطح پر پارلیمنٹ یعنی قانون ساز اسمبلی کا ممبر بھی ہوتا ہے جو قوم کی نمائندگی کا حق رکھتا ہے ۔ ایسے افراد کے چناو میں اصولی طور پر دو ہی اہم نکتہ ہیں ۔ اول سیاسی جماعتیں پارٹی ٹکٹ دیتے وقت اپنے داخلی نظام میں ایسی نگرانی کا نظام وضع کریں جو شفافیت کے تمام معیارات کو برقرار رکھ سکے ۔ تاکہ کوئی بھی ایسا فرد اسمبلی کے انتخاب میں پارٹی ٹکٹ حاصل نہ کرسکے جو کسی بھی طرز کے جرائم کا مرتکب ہو۔ دوئم اگر سیاسی جماعتیں کمزوری دکھائیں تو الیکشن کمیشن کا سکروٹنی کا نظام مضبوط ہو کہ غلط افراد کو انتخاب لڑنے سے روکا جاسکے ۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن کے داخلی نظام میں موجود کمزوریوں کے باعث یہ ادار ے ادارے نہیں بن سکے ،جس سے شفافیت کا عمل متاثر ہوا۔یہ شکایت عام ہے کہ ہمارے ارکان اسمبلی اپنی اور اپنے خاندان یا بچوں سے متعلق ذاتی سماجی ، معاشی یا کاروباری معلومات چھپاکر خود کو قانون کے دائرہ کار میں لانے سے گریز کرتے ہیں ۔پچھلے دنوں پارلیمنٹ نے ارکان اسمبلی کے بطور امیدوار انتخاب لڑنے کے حوالے سے انتخابی اصلاحات 2017کے تحت ارکان اسمبلی کے لیے فارم کو ترتیب دیا تھا ۔لیکن لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے انتخابی اصلاحات 2017کے تحت پارلیمنٹ کے سفارش کردہ فارم کو کالعدم قراردیا او رکہا کہ پارلیمنٹ کو اگرچہ نامزدگی فارم ترتیب دینے کا اختیار ہے ، مگر آئین کی شق62-63کو نامزدگی فارم سے حذف نہیں کیا جاسکتا۔لہذا آئین کی شق یعنی 62-63کے تقاضے پورے کرکے دوبارہ فارم کا حصہ بنایا جائے ۔

اگرچہ اس عدالتی فیصلہ پر بہت زیادہ شور سننے کو ملا اور ہمارے جمہوری طبقہ کے بقول اس سے پارلیمنٹ کی حیثیت متاثر ہوئی ہے اور جمہوری نظام او رانتخابات کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ اسپیکر قومی اسمبلی سمیت نگران حکومت اور الیکشن کمیشن نے بھی اس عدالتی فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کردیا ہے ۔ خود سپریم کورٹ نے بھی لاہورہائی کورٹ کے فیصلہ کو معطل کرکے پرانے فارم کے تحت ہی الیکشن کمیشن کو پابند کیا کہ وہ انتخابات کو بروقت یقینی بنائیں ۔البتہ اعلی عدالت نے اس کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ بنچ تشکیل دے یا ہے او رآنے والے دنوں میں اس پر قانونی پہلو سے بحث ہوگی اور تفصیلی فیصلہ سامنے آجائے گا۔

اب ذرا ملاحظہ کیجیے کہ پارلیمنٹ نے کن بنیادی نکات جو انتخاب لڑنے والے کو فارم میں درج کرنی تھی سے حذف کیا ہے ۔پارلیمنٹ نے جو نکات حذف کیے ان میں نامزدگی فارم میں غیر ملکی آمدن، زیر کفالت افراد کی تفصیلات، ٹیکس یوٹیلیٹی بلز نادہندگی ،قرض نادہندگی ، دوہری شہریت، پاسپورٹ کی نوعیت،مقدمات کا ریکارڈ اور مجرمانہ سرگرمیوں کو چھپانے کا اقدام جیسے امور شامل ہیں۔ عدالتی حکم کے بعداب کوئی ٹیکس نادہندہ ، فوج داری مقدمات میں ملوث فرداور دوہری شہریت والا فرد انتخا ب میں حصہ نہیں لے سکے گا ۔اب اگر ان پر معلومات نہیں دینی تو پھر انتخاب لڑنے والی کی شفافیت کو کیسے جانچا جاسکے گا۔

سوال یہ ہے کہ جو لوگ اس عدالتی فیصلہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنا کر اسے جمہوری نظام کے خلاف قرار دے رہے ہیں کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایسے افراد کو بھی انتخاب لڑنے کا حق ہونا چاہیے جو آئین کی شق62اور 63سمیت ان بنیادی فراہم کردہ معلومات دینے سے انکار کرے ۔ اگر انتخاب لڑنے والا شفاف ہے او راس کے کوئی ایسے معاملات نہیں جو قانون شکنی کی ذد میں آتے ہیں تو اس کو ان معلومات کو پیش کرنے سے کیا ڈر ہے یا انکاری کیوں ہے ۔ یہ سوال بھی سمجھنا ہوگا کہ کیونکر ہماری پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کو اس فارم میں یہ تبدیلیاں کرنی پڑیں۔کیا عوام کویہ حق نہیں کہ وہ قوم کے اپنے منتخب نمائندوں کی شفافیت کے معیارات اور شواہد کو جان سکیں ۔

یہ کہہ دینا کہ صرف ووٹ کی اہمیت ہے اور اسے انتخاب لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا، اگر یہ منطق مان لی جائے توپھر ہمیں اصولی طور پر تمام قانونی اداروں کو بند کردینا چاہیے او رتمام معاملات کو محض ووٹ تک محدود کردینا چاہیے ۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی یہ بدنیتی موجود ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو ہتھیار بنا کر عوامی مفادات کے مقابلے میں ذاتی مفادات کو بالادست رکھ کر قانون بنانا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ اگر اس پر کوئی سوال اٹھائے تو اسے جمہوریت دشمن کا طعنہ سننا پڑتا ہے ۔

یہ معاملہ شائد سامنے آتا او راسی ہی مسائل کے اندر انتخاب کا عمل بھی ہوجاتا ، لیکن ہمارے صحافی دوست حبیب اکرم نے اس مجوزہ فارم کو عدالت میں چیلنج کیاتھا ۔ اس کا مقصد بنیادی طو رپر پارلیمنٹ میں ایسے کرپٹ، بدعنوان، جھوٹے اور معاملات کو چھپانے والے افراد کا راستہ روکنا ہے جو سیاست، جمہوریت اور قانون سمیت پارلیمنٹ کی بالادستی اور شفاف ومنصفانہ سیاست میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ ہمارے کئی جرائم پیشہ اور کرپٹ افراد ووٹ کو ہتھیار بنا کر پارلیمنٹ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ نے بنیادی طو رپر مجوزہ فارم میں جو تبدیلی کی اس کا مقصد اسمبلی میں کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کا راستہ کھولنا ہے ۔یہ ٹھیک ہے کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے ، لیکن ان کی بنائی ہوئی قانون سازی بالخصوص جس کا بنیادی حقوق سے ہے پر نظرثانی کرنا عدلیہ کا حق ہے ۔

پاکستا ن میں جمہوری افراد یا فریقین جمہوریت پر باتیں تو بہت کرتے ہیں ، لیکن جو کام جمہوریت کے نام پر پارلیمنٹ کرتی ہے اس کا احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں۔یاد رکھیں پارلیمنٹ عوام کی منتخب کردہ ہوتی ہے او راس میں عوامی مفاد سے ٹکراو پر مبنی قانون سازی نہیں کی جاسکتی ۔خدارا اس لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو جو بعض لوگ پارلیمنٹ کی بالادستی کے ٹکراو سے تشبیہ دے رہے ہیں اس پر غور کیا جانا چاہیے ۔کیونکہ سیاسی قوتیں ایک خاص مفاد کے تحت پارلیمنٹ کی بالادستی کے غلط تصور کو پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ پاکستان کے جو معروضی حالات ہیں اس میںجو فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے دیا ہے وہ کافی حد تک ہمارے سیاسی نظام کی اصلاح میں اہم نکتہ ہے ، وگرنہ ہماری سیاست تماشہ ہی رہے گی۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اس جرم میں صرف مسلم لیگ ہی نہیں بلکہ دیگر بڑی اور چھوٹی جماعتیں سب شامل ہیں۔کیونکہ جس وقت سابق وزیر اعظم کو نااہل کیا گیا اور ان کوپارٹی سربراہی سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تو ان کو دوبارہ صدر بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات بل 2017منظور کیا گیا۔حکومتی جماعت نے بنیادی طور پر اپنی قیادت کے جرائم چھپانے کے لیے اس مجوذہ فارم میں تبدیلی کی اور دیگر جماعتوں نے بھی اس پر سمجھوتہ کیا۔یہ جو منطق دی جاتی ہے کہ ہمارے یہاں عدالتیں ہر امور میں مداخلت کرتی ہیں ، اس کی وجہ بھی کمزور اور عوامی مفادات کے برعکس قانون سازی ہے ۔

ووٹر کا یہ ایک بنیادی حق ہے جو شحض بھی عوام نمائندگی کے لیے انتخا ب لڑتا ہے اس کے بارے میں اسے پوری معلومات ہونی چاہیے ۔ لیکن ہم ان بنیادی نوعیت کی معلومات کو چھپا کر ووٹ ڈالنے والے کو بھی اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ شفافیت کے طو رپر انتخابی عمل میں بطور ووٹر حصہ نہ لے سکے ۔ لیکن اس عدالتی فیصلہ سے ہٹ کر پاکستان کے سنجیدہ افراد جو واقعی اس ملک میں حقیقی اور شفاف جمہوریت کے حامی ہیں ان کو اس مسئلہ پر خاموش بیٹھنے کی بجائے بھرپور مزاحمت کرنی چاہیے اور دباو ڈالنا چاہیے کہ کرپٹ، بدعنوان اور ایسے لوگ جو مالیاتی کرپشن یا حقایق چھپانے کے جرم میں شامل ہیں ان کو انتخاب لڑنے سے روکا جاسکے ، اسی میں جمہوریت کی مضبوطی اور شفاف حکمرانی کا نظام جڑا ہوا ہے۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.