پاکستان احتساب پارٹی۔۔۔۔۔ کالم جاوید چودھری

javed ch columns

ہم یونینسٹ پارٹی سے اسٹارٹ کرتے ہیں۔ یہ پارٹی انگریز گورنر سرایڈورڈ ڈگلس نے سرسکندر حیات کے ساتھ مل کر 1923ء میں بنائی ۔ سرفضل حسین اور چوہدری سر شہاب الدین جیسے جاگیردار الیکٹیبلز پارٹی میں شریک ہوئے۔
انگریز نے پنجاب ان کے حوالے کیا اور یہ لوگ جمہوریت کے نام پر پنجاب سے انگریز فوج کو فوجی‘ گھوڑے اور رقم اکٹھی کر کے دینے لگے‘ یہ لوگ برٹش آرمی کے اندھے سپورٹر تھے۔ پاکستان بنتا نظر آیا توسکندر حیات اور قائداعظم کے درمیان سکندر جناح پیکٹ ہوا اور یہ تمام الیکٹیبلز جاگیردار مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔
یہ الیکٹیبلز 1954ء تک مسلم لیگ میں جمہوریت جمہوریت کھیلتے رہے یہاں تک کہ گورنر جنرل سکندر مرزا نے نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا‘ ری پبلکن پارٹی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر خان صاحب پارٹی کے صدر بنے‘ سرفیروز خان نون سینٹرل پارلیمنٹری لیڈر ہوئے‘کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے اشارہ کیا اور پھر نوابزادہ مظفر علی قزلباش ہوں۔
چوہدری فضل الٰہی ہوں یا سید امجد علی‘ سردار عبدالحمید دستی‘ کرنل سید عابد حسین (عابدہ حسین کے والد)‘ سردار امیر اعظم خان‘ مخدوم زادہ سید حسن محمود‘ مہر محمد صادق‘ چوہدری عبدالغنی‘ قاضی فضل اللہ‘ میر علی احمد تالپور‘ جلال بابا‘ اکبر بگٹی‘ جام میر غلام قادر یا پھر سردار ولید عمر رند ہوں پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور صوبہ سرحد(موجودہ کے پی کے) کے تمام بڑے سیاسی الیکٹیبلز ری پبلکن پارٹی میں شامل ہو گئے‘ اسکندر مرزا ان لوگوں کی مدد سے1958ء تک جمہوریت جمہوریت کھیلتے رہے۔
حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں‘ یہ کھیل اس قدر گھناؤنا تھا کہ جواہر لال نہرو نے بھارت میں اعلان کر دیا‘ میں نے آج تک اتنی دھوتیاں نہیں بدلیں جتنی پاکستان میں حکومتیں بدل گئیں‘کھیل کے آخر میں اکتوبر 1958ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگا دیا‘ مسلم لیگ اور ری پبلکن پارٹی دونوں پر پابندی لگ گئی‘ دونوں ختم ہو گئیں‘ جنرل ایوب نے 1962ء میں کنونشنل مسلم لیگ کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنائی۔
یہ جماعت فوجی حکومت نے جی ایچ کیو میں تیار کی اور سندھ کے تالپوروں سے لے کر صوبہ سرحد کے خانوں تک ملک کے تمام الیکٹیبلز اس میں شامل ہو گئے‘ ذوالفقار علی بھٹو اس پارٹی کے جنرل سیکریٹری تھے‘ یہ پارٹی بھی بھرپور انداز سے چلتی رہی‘ 1966ء میں ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان سے الگ ہوئے اور30نومبر 1967ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے ملک کی پہلی عوامی جماعت بنالی‘ بھٹو صاحب طلسماتی شخصیت کے مالک تھے‘ یہ عوام میں اترے اور ان کے دلوں کی دھڑکن بن گئے‘ جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں صاف اور شفاف الیکشن کرائے‘ پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان کی 138میں سے 85سیٹیں حاصل کرلیں۔

یہ سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی‘ ملک ٹوٹا‘ بھٹو مغربی پاکستان کے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر‘ پھر صدر اور پھر وزیراعظم بنے‘ پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو کے وزیراعظم بننے تک عوامی رہی لیکن جوں ہی بھٹو کرسی اقتدار پر بیٹھے ملک بھر کے تمام اہم سیاسی خاندان‘ تمام وڈیرے‘ چوہدری اور الیکٹیبلز پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے‘ بھٹو صاحب مضبوط سیاسی اور بین الاقوامی فگر تھے۔

یہ کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے چنانچہ انھیں ائیرمارشل اصغر خان کی تحریک استقلال کے ذریعے قابو کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ تحریک استقلال دیکھتے ہی دیکھتے ملک کی طاقتور سیاسی قوت بن گئی‘ دائیں بازو کی نو سیاسی جماعتیں بھی میدان میں اتریں‘ جمہوری اتحاد بنا اور یہ اتحاد اس وقت تک میدان میں رہا جب تک بھٹو کال کوٹھڑی تک نہیں پہنچ گیا‘ بھٹو کے زوال کے ساتھ ہی تحریک استقلال اور جمہوری اتحاد بھی آہستہ آہستہ قصہ پارینہ بنتا چلا گیا۔

جنرل ضیاء الحق نے 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن کرائے‘ جرنیلوں نے پاکستان مسلم لیگ بنائی‘ محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے اور نوازشریف‘ غوث علی شاہ‘ ارباب جہانگیر خان اور جام غلام قادر خان کو صوبوں میں وزراء اعلیٰ بنا دیا گیا‘ جرنیل پاکستان مسلم لیگ کی طاقت تھے چنانچہ ملک کے تمام بڑے سیاسی خاندان‘ جاگیردار اور الیکٹیبلز پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو گئے‘ جنرل ضیاء الحق اور محمد خان جونیجو کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے‘ جرنیل پارٹی کے پیچھے سے ہٹے‘ جونیجوکی حکومت ختم ہوئی اور پاکستان مسلم لیگ بھی حکومت کے ساتھ ہی ختم ہو گئی‘ میاں نواز شریف نے 17 اگست 1988ء کو اپنی مسلم لیگ بنا لی‘ یہ ن لیگ کے نام سے مشہور ہوئی‘ جونیجو صاحب نے پاکستان مسلم لیگ ج بنا لی‘ 1988ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی‘ صدر غلام اسحاق خان اور جنرل اسلم بیگ بے نظیر سے مطمئن نہیں تھے۔
چنانچہ یہ میاں نواز شریف کو سپورٹ کرنے لگے‘ 1990ء کے الیکشن کے وقت جنرل اسددرانی ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ جنرل درانی نے بے نظیر بھٹو کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد بنایا‘ ملک بھر کے الیکٹیبلز میں رقمیں تقسیم کیں‘ الیکشن ہوئے اور میاں نواز شریف وزیراعظم بن گئے‘ ملک بھر کے الیکٹیبلز ن لیگ میں شامل ہو گئے‘ ملک میں یہاں سے دو جماعتی سیاست شروع ہوگئی‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن ‘ فوج بوقت ضرورت دونوںکو سپورٹ کرتی رہی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی باری آتی تو الیکٹیبلز پیپلز پارٹی میں آ جاتے‘ میاں نواز شریف اقتدار کے قریب پہنچتے تو وہ پرندے جن کے خاندانوں نے یونینسٹ اور ری پبلکن پارٹی سے اپنا سفر شروع کیا تھا وہ نواز شریف کی چھتری تلے جمع ہو جاتے‘ سیاسی خاندان یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں آتے جاتے رہے۔
یہ سلسلہ 2002ء تک چلتا رہا‘ جنرل پرویز مشرف نے تیسری پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا‘ میجر جنرل احتشام ضمیر کو حکم ہوا اور 20جولائی 2002ء کوپاکستان مسلم لیگ ق کے نام سے کنگز پارٹی تیار ہو گئی‘ پارٹی کاکھونٹا مضبوط تھا چنانچہ ملک کے تمام الیکٹیبلز دونوں بڑی جماعتوں سے نکل کر ق لیگ میں شامل ہو گئے‘ پیٹریاٹ کے نام سے الیکشن کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک نیا دھڑا بھی بن گیا‘ مسلم لیگ ق جنرل مشرف کے زوال تک ملک کے سیاہ و سفید کی مالک رہی‘ جنرل مشرف 2007ء میں بوجھ بن گئے‘ یہ بوجھ اتارنے کا فیصلہ ہوا۔
بے نظیر بھٹو واپس آئیں‘ شہید ہوئیں۔ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کو ملا‘ مئی 2011ء میں ق لیگ کے ساتھ اتحاد ہوا اور جنرل پاشا کی مہربانی سے حکومت نے پانچ سال پورے کر لیے‘ 2013ء میں میاں نواز شریف کی باری تھی‘ ق لیگ کے 200 الیکٹیبلز ن لیگ میں شامل ہو گئے‘ 102 ایم این ایز اور ایم پی ایز بنے‘ سات نے وفاقی وزارتوں کے حلف اٹھائے‘ میاں نواز شریف نے 2014ء میں بغاوت کر دی‘ میاں نواز شریف ’’بیڈ بک‘‘ میں شامل ہوئے اور عمران خان کی گڈی آسمان پر چڑھتی چلی گئی‘ یہ گڈی جتنی چڑھی اتنے ہی الیکٹیبلز پاکستان پیپلزپارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان مسلم لیگ ن سے ٹوٹ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ آج 2018ء کے الیکشنوں کے نتائج صاف دکھائی دے رہے ہیں۔
میرا خدشہ ہے میاں نواز شریف جیل کے دروازے پر بیٹھے ہیں‘ میاں شہباز شریف وعدہ معاف گواہ کے آسرے پر ہیں‘ احد چیمہ کے بولنے یا پھر پنجاب پولیس کے کسی افسر کی طرف سے یہ گواہی دینے کی دیر ہے ’’ہم نے وزیراعلیٰ کے حکم پر 17 جون 2014ء کو ماڈل ٹاؤن میں علامہ طاہر القادری کے ورکروں پر گولی چلائی تھی‘‘ اور میاں شہباز شریف بھی گرفتار ہو جائیں گے‘ حمزہ شہباز کی پاس دو آپشن ہوں گے‘ یہ ملک سے باہر چلے جائیں یا پھر ایل ڈی اے سٹی کرپشن کیس میں نیب کے ہاتھوں گرفتار ہو جائیں۔
چوہدری نثار‘ پرویز رشید‘ خواجہ آصف اور اسحاق ڈار رنگ سے باہر ہو چکے ہیں۔احسن اقبال‘ خواجہ سعد رفیق‘ شاہد خاقان عباسی‘ دانیال عزیز اور طلال چوہدری بچے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی زیادہ دنوں تک نہیں بچ سکیں گے‘ حکومت کے اتحادی میڈیا اور میڈیا پرسنز کے لیے ریلیف بھی عارضی ہے۔
حکومت ختم ہوتے ہی جنوبی پنجاب کے الیکٹیبلز ماضی کی روایات کے مطابق عمران خان کو جوائن کر لیں گے یوں 2018ء کے الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے لیکن حکومت عمران خان بنائیں گے ‘ حکومت سازی کے اس عمل میں آصف علی زرداری اسی طرح عمران خان کا ساتھ دیں گے جس طرح 2011ء میں پاکستان مسلم لیگ ق قاتل لیگ ہونے کے باوجود ملک کے وسیع تر مفاد میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں شامل ہو گئی تھی‘ میاں نواز شریف کے ساتھ وہ سلوک ہو گا جو 1947ء سے 2018ء تک ملک کے ہر جاتے ہوئے حکمران کے ساتھ ہوتا رہا۔
ہمیں آج ماننا ہو گا میاں نواز شریف اور میاں شہبازشریف نے ملک میں کام بہرحال کیا‘ جنرل ایوب خان کے بعد میاں برادران نے انفرااسٹرکچر کے لیے واقعی کام کیا اور اتنا کام شاید اگلی کوئی حکومت نہ کر سکے لیکن یہ بھی حقیقت ہے میاں نواز شریف خود کو حقیقی لیڈر سمجھ بیٹھے تھے اور یہ وہ غلطی ہے جو اسکندر مرزا سے یوسف رضا گیلانی تک لوگ کرتے رہے اور خوفناک انجام کا شکار ہوتے رہے۔
میری دعا ہے تاریخ کی ڈھلوان کا یہ سفر اب ختم ہو جانا چاہیے‘ کاش پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان دونوں ماضی سے مختلف ثابت ہو جائیں‘ یہ آنے والے دنوں میں حقیقی نکلیں اور یہ ملک میں وہ کام کر جائیں جو 70 سال میں نہیں ہو سکے‘ ہماری فیصلہ ساز قوتیں بھی اب کوئی حتمی فیصلہ کر لیں‘ یہ عمران خان کو کھل کر فیصلے کرنے دیں‘ یہ انھیں اپنے وعدے پورے کرنے دیں کیونکہ اگر یہ نہ ہوا۔
اگر عمران خان کو بھی کام کا موقع نہ ملا تو وہ دن دور نہیں جب عمران خان بھی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر ملک میں بحالی جمہوریت کی تحریک چلا رہے ہوں گے‘ ملک میں پاکستان احتساب پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنے گی اور یہ تمام الیکٹیبلز جو 29 اپریل کو مینار پاکستان پر لبیک لبیک کے نعرے لگا رہے تھے‘ یہ اس پارٹی کے نئے جھنڈے تلے اکٹھے ہو چکے ہوں گے۔
ہمیں آج ماننا ہوگا ہم انسان جھوٹ بول سکتے ہیں‘ ہم مغالطے کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن تاریخ مغالطہ کھاتی ہے اور نہ ہی جھوٹ بولتی ہے چنانچہ مجھے خطرہ ہے کہانی کا نتیجہ اس بار بھی وہی نکلے گاجو ستر برسوں میں نکلتا آیا ہے‘ عمران خان کے الیکٹیبلز بھی بہت جلد کسی نئی منڈیر پرجا بیٹھیں گے۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.