پاکستان:98 فیصد آبادی ملیریا کا شکار:عالمی ادارہ صحت

malaria

اسلام آباد(ٹاپ نیوز)سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی اٹھانوے فیصد آبادی کو کسی نہ کسی صورت ملیریا کی بیماری کے خطرے کا سامنا ہے۔ پاکستان میں یہ مرض قبائلی علاقوں کے بعد خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی حکومت ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی مدد سے اس مرض پر قابو پانے کی بھرپور کوششیں تو کر رہی ہے مگر پاکستان کا شمار آج بھی ان ممالک میں ہوتا ہے، جنہیں شدید حد تک اس طبی مسئلے کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں، جہاں قریب200 ملین کی آبادی میں سے دو تہائی باشندے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، شماریاتی سطح پر ہر دوسرے شہری کو ملیریا کا شکار ہو جانے کا خطرہ ہے۔
ملیریا کے بارے میں پاکستانی حکومت کے تیار کردہ دو ہزار سولہ کے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کی آبادی پاکستان کی مجموعی آبادی کے نصف سے بھی زیادہ تو ہے لیکن وہاں ملیریا کے تصدیق شدہ کیسز کی سالانہ تعداد صرف ایک فیصد کے قریب ہے۔ اس کے برعکس اس مرض کے مریضوں کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ملکی قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ریکارڈ کی جاتی ہے۔

ان دونوں صوبوں اور قبائلی علاقوں کی مقابلتاً تھوڑی آبادی کے باوجود وہاں ملیریا کے سرکاری طور پر ریکارڈ کیے گئے کیسز کی شرح اس لیے بہت زیادہ ہوتی ہے کہ پاکستان کے ان کم ترقی یافتہ حصوں میں صحت عامہ کی سہولیات کی کمی ہے۔

اس کے علاوہ حکومتی کوششوں کے باوجود اس بارے میں عوامی شعور بھی کم ہے کہ ملیریا جیسی بیماری سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں برسوں سے سلامتی کی خراب صورت حال بھی ایک وجہ ہے۔ وہاں ملیریا کے خاتمے کی کوششیں اتنی کامیاب نہیں ہو سکیں جتنی ہو سکتی تھیں۔

سب سےزیادہ کیسز کس علاقے میں پائے گئے:
صوبہ سندھ میں ملیریا کے مصدقہ کیسز کی سالانہ تعداد اپنے تناسب کے لحاظ سے فاٹا یا خیبر پختونخوا سے تو کچھ کم ہے لیکن مجموعی طور پر یہ تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔ پنجاب میں اس بیماری کے بہت کم کیسز میں سے بہت بڑی تعداد ضلع ڈیرہ غازی خان میں دیکھنے میں آتی ہے۔

وزارت صحت کے زیر انتظام کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول یا ڈی ایم سی کی طرف سے تیار کردہ سالانہ ملیریا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پ پاکستان میں اس بیماری کے ہر سال قریب ایک ملین کیسز ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے اٹھائیس اضلاع ایسے ہیں، جو اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
ملیریا رپورٹ دو ہزار سولہ میں کہا گیا ہے کہ اصولی طور پر اٹھانوے فیصد پاکستانیوں کو ملیریا کا شکار ہو جانے کا خطرہ ہے۔ مجموعی طور پر تیس فیصد یا ساٹھ ملین کے قریب پاکستانیوں کو ملیریا کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔ یہ بیماری خاص طور پر ان اضلاع میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے، جو پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ قومی سرحدوں پر واقع ہیں۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.