پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ۔۔۔ سلمان عابد

Salman Abid

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بہتری نہ صرف دونوں ملکوں کے لیے بلکہ جنوبی ایشیا یا خطہ کی سیاست او رامن کے تناظر میں ایک کلیدی کردار کی حیثیت رکھتا ہے ۔دونوں ملکوں کو عملی طور پر ایک دوسرے کی ضرورت ہے ۔بالخصوص اگر امریکہ افغانستان کا حل چاہتا ہے تو اس کا یہ حل پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ۔امریکہ کی اسٹیبلیشمنٹ میں یہ احساس موجود ہے کہ پاکستان کو نکال کر انہوں نے جو افغان حل تلاش کرنے کی کوشش کی تھی وہ ان کی بڑی سیاسی غلطی تھی ۔پچھلے کچھ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی کے سائے کافی گہرے نظر آئے ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے مسلسل پاکستان پر الزامات اور بالخصوص دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھنا تھا او راس کا ردعمل پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔

کچھ عرصہ قبل امریکی صدر کی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ او راس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کا سخت جوابی ٹویٹ کے بعد ایسا نظر آیا کہ فوری طور پر بہتری کا کوئی امکان موجود نہیں ۔بہت سے سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے متنازعہ اور الزام تراشیوں پر مبنی بیانات کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں اور زیادہ بگاڑ دیکھنے کو ملے گا۔وزیر اعظم عمران خان کے امریکہ کے بارے میں سخت موقف کو بہت سے لوگوں نے سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذپر سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا کہ ہمیں ایسے سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ان لوگوں کے بقول اس طرح کے سخت موقف کے بعد امریکہ سے تعلقات میں بہتری کا امکان کم اور بگاڑ کا زیادہ بڑھ جائے گا۔

لیکن لگتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سخت موقف کے بعد امریکہ کی سیاسی اور اسٹیبلیشمنٹ میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہمیں اپنے سخت موقف کی بنیاد پر پاکستان کو تنہا کرنے کی بجائے اس کو ساتھ لے کر ہی چلنا ہوگا۔یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے بداعتمادی کی فضا میں وزیر اعظم عمران خان کو حظ لکھ کر خطہ کی سیاست میں موثر کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے ۔ان کے بقول دونوں ملکوں کو محض ایک دوسرے کے ساتھ ہی نہیں بلکہ خطہ کی سیاست کو پرامن بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے ۔دوسری جانب امریکی نمائندے زلمے خلیل زادنے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرکے ان کو امریکی صدر کا خیر سگالی کا پیغام پہنچایا کہ امریکی قیادت افغانستان کے سیاسی تصفیے کے حل اور مشترکہ امن کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے ۔

یقینی طور پر امریکہ کی اسٹیبلیشمنٹ , امریکی صدر کی جانب سے حالیہ مثبت طرز عمل نے پاک امریکہ تعلقات کی بحالی میں ایک نیا موڑ دیا ہے اور امید پیدا کی ہے کہ معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں ۔بنیادی بات امریکہ نے یہ کہہ دی ہے کہ افغانستان میں امن یقینی طور پر پاکستان کی مدد اور تعاون کے ممکن نہیں ۔امریکہ نے پاکستان کو یہ بھی باور کروایا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان سے مشروط ہوگا ۔ امریکہ کا یہ طرز عمل یقینی طور پر حالیہ دنوں میں پاکستان کی سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے امریکہ کو سخت موقف کی بجائے بات چیت اور پاکستان سے تعاون کی طرف مائل کیا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کو اب اس بات کا کافی حد تک اندازہ ہوگیا تھا کہ پاکستان میں امریکی کردار کے حوالے سے کافی مایوسی پائی جاتی ہے او راسی تناظرمیں پاکستان امریکہ کے مقابلے میں متبادل آپشن کی جانب بڑھ رہا ہے ۔کیونکہ امریکہ میں وزیر اعظم عمران خان اور فوج کے سربراہ کی جانب سے اس پیغام کو کافی سنجیدہ لیا گیا ہے کہ اب امریکہ سے تعلقات کی بہتری میں اولین ترجیح قومی مفاد کو دی جائے گی ۔

وزیر اعظم عمران خان ان لوگوں میں سے ہیں جو کئی برسوں سے امریکہ کو یہ باور کروارہے تھے کہ افغانستان کا حل طاقت کے انداز سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔اب امریکہ نے افغان حل کے تناظر میں سیاسی تصفیہ کی بات کرکے عملی طو رپر وزیر اعظم عمران خان کے اس موقف کی تائد کی ہے جو وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔امریکہ کا اس وقت بڑا مسئلہ افغانستان ہے وہ پہلی فرصت میں افغان طالبان سے مزاکرات کا حامی ہے او ران مزاکرات کے لیے اس توجہ کا مرکز پاکستان ہے ۔ کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر عملی طور پر افغان طالبان افغان حکومت او رامریکہ سے مزاکرات کی طرف بڑھے تو یہ پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔یہ ہی وہ نکتہ ہے جو امریکہ کو باربار پاکستان کی طرف دکھیلتا ہے ۔امریکی اسٹیبلیشمنٹ میں یہ احساس موجود ہے کہ ا س وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیچ پر ہیں اور ان کی مدد کے بغیر ہم کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں گے ۔

امریکی صدر کے خط کو اب خطہ کی سیاست اور بالخصوص افغانستان کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے او را س کا عملا پاکستان میں بھی بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا ہے ۔ کیونکہ پاکستان بھی امریکہ سے تعلقات میں بگاڑ نہیں بلکہ بہتری کا خواہش مند ہے اور اس کی کوشش ہے کہ امریکہ ہماری ضرورتوں سمیت دہشت گردی کی جنگ میں کردار کو تسلیم کرے۔پاکستان کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ امریکہ کو باہر نکال کر یا تعلقات میں بگاڑ پیدا کرکے خطہ کی سیاست میں استحکام ممکن نہیں ۔ خاص طور پر بھارت او رافغان گٹھ جوڑ کے بعد پاکستان کو بھی امریکہ کی ضرورت ہے ۔امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر واقعی وہ افغان طالبان سے تصفیہ چاہتا ہے او را س میں پاکستان کے کردار کو دیکھ رہا ہے تو یہ پراعتماد رشتہ ہونا چاہیے ۔ یہ ممکن نہیں کہ ایک طرف امریکہ پاکستان سے تعاون چاہتا ہے تو دوسری طرف شک کی بنیاد پر پاکستان کی نیتوں پر سوالات اٹھائے جائیں ۔

امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ افغان طالبان پاکستان کی کٹھ پتلی نہیں بلکہ وہ اپنی آزاد سوچ او ررائے رکھتے ہیں ۔ اس لیے اگر امریکہ افغان طالبا ن سے مسائل کا حل چاہتا ہے تو اسے یہ باو رکروانا ہوگا کہ مزاکرات کی صورت میں افغان طالبان کو کیا ملے گا۔ یہ یقین دہانی افغان طالبان کو افغان حکومت سے نہیں امریکہ سے درکار ہے ۔کیونکہ افغان طالبان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ محض امریکہ کی کٹھ پتلی ہیں ۔پاکستان نے بھی اگر افغان طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانا ہے تو اسے بھی یہ باور کروانا ہے کہ امریکہ سے تعاون کی صورت میں افغان طالبان کو سیاسی طور پر فائدہ ہوگا۔یہ فائدہ کیا ہے کم ازکم امریکہ پاکستان کو اس پر اعتماد میں لے تاکہ پاکستان مثبت پیش رفت کرکے عملی نتائج کو سامنے لاسکے ۔

امریکہ کی یہ جو پالیسی ہے کہ وہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو خطہ کی سیاست میں ایک بڑے کردار کے طو رپر سامنے لانا چاہتا ہے اس میں بھی اس کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔ پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں جو اہم پیش رفت پاکستان نے کی ہے اس کا جو مثبت جواب بھارت سے نہیں مل رہا اس پر بھی امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ کیونکہ افغان حل کا ایک علاج پاک بھارت تعلقات میں بہتری سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ کیونکہ بھارت اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کا باہمی گٹھ جو ڑ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے اور اس کے کئی شواہد پاکستان کے پاس موجود ہیں ۔

پاکستان کا اپنا بڑا چیلنج دو محاذوں پر ہے ۔ اول امریکہ سمیت افغانستان سے تعلقا ت کی بہتری میں اس کی پہلی ترجیح ملک کا داخلی سیاسی اور معاشی استحکام ہونا چاہیے ۔ دوئم سیاسی، سفارتی او رڈپلومیسی کے محاذ پر ہمیں ایک سرگرم ملک کے طور پر جنگ لڑنی ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت ہمیں ماضی کے مقابلے میں سول ملٹری تعلقات میں کافی بہتری نظر آرہی ہے او راس کا فائدہ ہمیں مشترکہ آواز کی صورت میں ہوگا کہ ہم ایک پیچ پر دنیا سے بات کرسکیں گے ۔مسئلہ امریکہ سے جنگ کرنا نہیں اور نہ ہی ان سے اپنے تعلقات بگاڑنے کا ہے ۔ہمیں بس اپنے کردار کو ایک نئی شکل دینی ہوگی جس میں ہمیں دوسروں کی جنگوں میں الجھنے کی بجائے اپنے مفاد کو اولین ترجیح دینی ہوگی ۔ البتہ امریکہ کو یہ باور کروانا ہوگا کہ ہم دہشت گردی کی جنگ میں ایک بڑی فرنٹ لائن ملک کے طو رپر اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔اس جنگ کی ناکامی سے خود ہمارا داخلی استحکام متاثر ہوگا ۔اس لیے امریکہ دشمن بن کر یا شک کو بنیاد بنا کر ہم سے تعلقات بڑھانے کی بجائے ہم پر اعتماد کرے او راسی میں دونوں ملکوں سمیت خطہ کی پرامن سیاست کے مفادات وابستہ ہیں ۔salmanabidpk@gmail.com بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.