پنجاب کا بجٹ او رکمزور طبقات۔۔سلمان عابد

salman abid logo

عمومی طور پر بجٹ کے بارے میں ایک فکری مغالطہ یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ایک معاشی دستاویز ہے جو حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خدوخال کو نمایاں کرتا ہے ۔ جبکہ بجٹ محض ایک معاشی دستاویز کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس کی اصل حیثیت ایک سیاسی دستاویز کی ہوتی ہے ۔ ایک منتخب اور عوامی جمہوری حکومت کی سیاسی ترجیحات کو سمجھنے کے لیے ہمیں بجٹ سے جڑی سیاست کو سمجھنا ہوتاہے ۔ کیونکہ جو بھی حکومت اقتدار میں آتی ہے اس کو جانچے کے لیے ہمیں اس کے سیاسی منشور کا جائزہ لینا ہوتا ہے ۔جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ سیاست کی بنیاد عام او رکمزور سطح پر موجود لوگوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے تو اس میں بجٹ کی سیاست کا عمل دخل سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ہم صرف معاشی امو رکے ماہرین کی مدد سے معاشی میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتے بلکہ معاشی امور کا ماہر اگر سیاسی امور سے واقفیت نہیں رکھتا ہوگاتو سیاست او ر معیشت کا مربوط تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔

ہمارے معاشی امور کے ماہرین عمومی طور پر ہمیں معاشیات سے جڑے اعدادوشمار کے گورگھ دھندے میں الجھا کر بجٹ کی سیاست کو سب کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔جبکہ مسئلہ محض اعدادوشمار کا نہیں بلکہ وہ سیاسی ، سماجی ، معاشی او رانتظامی حقایق ہیں جو ہر صورت میں بجٹ سے جڑ ی سیاست میں بہتری کی صورت میں نظر آنے چاہیے ۔بجٹ کو عمومی طور پر سالانہ بجٹ کا نام دیا جاتا ہے ،لیکن اب ہویہ رہا ہے کہ سالانہ بجٹ کے نام پر منی بجٹ جیسے کھیل نے اس بجٹ کی اہم دستاویز کی شکل ہی بگاڑ دی ہے ۔یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ بجٹ سے جڑے معاشی ماہرین اعدادوشمار میں بھی ہیرا پھیری کرکے بھی لوگوں کو حقایق کے برعکس اندھیرے میں رکھ کر حکمرانی کے اصل بحران پر پردہ ڈالتے ہیں ۔

2010میں 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد عوامی مفادات سے جڑی سیاست او رطرز حکمرانی میں بہتری پیدا کرنے کی ایک ذمہ داری اب وفاق کے مقابلے میں صوبوں اور ان کے ماتحت ضلعی نظام یا مقامی حکومتوں کے گرد گھومتی ہے ۔ کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد وسائل کی جو تقسیم کا فارمولہ وفاق اور صوبو ں کے درمیان ہے اس میں اب اصل حیثیت صوبوں کی بڑھ گئی ہے ۔ یہ ہی جہ ہے کہ منطق دی جاتی ہے کہ اگر اب صوبوں میں ترقی ا ور خوشحالی نہیں ہورہی یا لوگوں کی بنیادی نوعیت کی ضروریات کو پورا نہیں کیا جارہا تو اس کی جوابدہی بھی صوبائی سطح پر موجود حکومتوں کی ہوگی ۔صوبوں کو اپنی ضروریات او رترجیحات کا وفاق کے مقابلے میں بہتر آگاہی ہوتی ہے او راسی منطق کی بنیاد وہ اپنی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم کو منصفانہ بنیادوں پر اختیار کرسکتے ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے ہم نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی حکمرانی میں جو بہتر کارکردگی دیکھنی تھی اس سے محروم ہیں ۔ ایسا کیوں ہے تو ہمیں اس کی تین بڑی وجوہات نظر آتی ہیں ۔ اول سیاسی ، سماجی او رمعاشی ترجیحات کے تعین میں عدم صلاحیت یا تفریق کا پہلو، دوئم صوبے ازخود عدم مرکزیت کی بجائے مرکزیت کی بنیاد پر اختیارات و وسائل اپنے ماتحت ضلعوں کو یا مقامی نظام حکومت کو دینے کے لیے تیار نہیں اور مربوط و مضبوط خود مختار مقامی نظام حکومت ان کی ترجیحات کا حصہ نہیں ۔ سوئم نگرانی ، جوابدہی ، شفافیت اور احتساب کا کمزور نظام جو عمومی طور پر کسی کی خواہش کے باوجود بہتر نتائج نہیں دے سکتا۔ چہارم کمزور طبقات کی بنیاد پراپنی حکمرانی یا گورننس کے نظام کو قائم کرنا جو حقیقی معنوں میں سماجی شعبوں کو بنیاد بنا کر کمزور طبقات کو طاقت ور بنائے ۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پر سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے او ران کو ایک کمزور او ربے بس وزیر اعلی کے طو رپر پیش کیا جاتا ہے ۔ مگر اگر ہم پنجاب کے بجٹ کو دیکھیں تو اس میں ہمیں کچھ ایسے پہلو نظر آتے ہیں جس پر وزیر اعلی او ران کی کابینہ کی تعریف کرنی ہوگی کہ ان کی ترجیحات میں محض انفراسٹکچرکی ترقی اہم نہیں بلکہ سماجی شعبے سمیت تعلیم ،صحت او ر کمزور طبقات سمیت بالخصوص جنوبی پنجاب کے پس ماندہ اضلاع کی ترقی پر ہمیں کچھ بہتری کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔وزیر اعلی عثمان بزدار کا تعلق کیونکہ جنوبی پنجاب اور ڈیڑہ غازی خان سے بھی ہے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اس علاقے کی پس ماندگی او رمحرومی کا خاتمہ ان کی سیاسی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے ۔پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 35فیصد بجٹ جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا گیا ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان عمومی طور پر محروم او رکمزور طبقات کی سیاست پر بہت زور دیتے ہیں او ران کے بقول انسانوں اور کمزور طبقات پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ اسی نکتہ کی بنیاد پر وزیر اعلی عثمان بزدار نے پانچ نئے منصوبوں کا بجٹ میں اعلان کیا ہے ۔ جن میں بیواوں اور یتیموں کی کفالت کے لیے ’’ سرپرست پروگرام ‘‘ جس کے تحت ان افراد کو ماہانہ وظیفہ،خواجہ سراوں کی معاونت کے لیے ’’ مساوات‘‘ جیسا پروگرام جس میں ان کی مالی مدد کی جائے گی ،معذور افراد کے لیے ’’ ہمقدم ‘‘ پروگرام جس میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کی مد دکی جائے گی ،اسی طرح بزرگوں کی حمایت میں ’’ پنجاب احساس پروگرام ‘‘ جس میں 65برس سے زیادہ عمر کے افراد کو وظیفہ کی سہولت،تیزاب گردی کا شکار عورتوں کی بحالی کے لیے ’’ نئی زندگی پروگرام ‘‘ پنجاب بھر میں شیلٹرز ہوم اور نئی پناہ گاہوں کا قیام ،بزرگ پنشنرز کے لیے تین ارب مختص کرنا جیسے اہم امور شامل ہیں ۔یہ سارے پروگرام یقینی طور پر کمزور طبقات کی سیاست کو نمایاں کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر اعظم اوروزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی ترجیحات کا بھی حصہ ہیں ۔

اسی طرح صحت کے شعبہ میں 279ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو کہ پچھلے بر س سے 20 فیصد زیادہ ہے ۔ پنجاب کے نو شہروں میں جدید ہسپتال بنانے کا اعلان جن میں لیہ، ڈی جی خان، راجن پور، رحیم یار خان ، بہاولپورروالپنڈی ، لاہور، ملتان، میانوالی شامل ہیں ۔اسی طرح بے سہارا افراد کی رہائش ، میڈیکل او رکھانے کی فراہمی کے لیے 9پناہ گاہوں کا قیام ، بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کی تعمیر، انصاف ہیلتھ کارڈ انشورنس کا اجراجیسے اقدامات اس بجٹ کا حصہ ہیں ۔ جبکہ تعلیم میں 382.9ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں چھ بڑی نئی یونیورسٹیوں کا قیام اور انصاف سکولز کا قیام جیسے منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کا حالیہ بجٹ میں کمزور طبقات کی ترجیحات کو بنیاد بنایا گیا ہے او راس پر داد دینی چاہیے ۔لیکن اب اصل چیلنج اس بات کا ہے کہ جو کچھ بجٹ میں دکھایا گیا ہے اس کو سیاسی طور پر کیسے عملدرآمد میں لایا جاتا ہے ۔کیونکہ بجٹ میں چیزوں کو اجاگر کرنا اور اس پر داد تحسین حاصل کرنا ایک کام ہوتا ہے ،جبکہ اصل کام منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر عملدرآمد او رنگرانی کا موثر نظام ہوتا ہے جو حقیقی طور پر تبدیلی کے عمل کو مضبوط بناتا ہے ۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کافی متحرک ہیں اور کچھ کرنے کی لگن بھی رکھتے ہیں تاکہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ واقعی تبدیلی پیدا کرسکتے تھے ۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو چند بنیادی امور پر توجہ دینی چاہیے ۔ بجٹ کی سیاست کو عوامی مفاد کے تابع کرنے کے لیے ان کو صوبہ کا مجموعی حکمرانی کا نظام بدلنا ہوگا ۔ یہ نظام بنیادی طور پر صوبائی او رمقامی حکومتوں کے درمیان ایک مربوط نظام سے جڑا ہونا چاہیے ۔ وزیر اعلی پنجاب فوری طور پرمقامی حکومتوں کو آئین کی شق 140-Aکے تحت سیاسی ، انتظامی او رمالی اختیارات دے کر فوری انتخابات کی مدد سے صوبہ میں حکمرانی اور وسائل کی تقسیم کے نظام کو موثر،منصفانہ اور شفاف بنا کر اپنی حکمرانی کی ساکھ قائم کریں ۔اسی طرح وزیر اعلی پنجاب کو اپنے سمیت صوبائی حکومتوں کے غیر ترقیاتی اخراجات سمیت شاہانہ اخراجات کا زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر خاتمہ کرنا چاہیے ۔ ابھی بھی نظر آتا ہے کہ بہت سے امور میں جو کچھ کہا جارہا ہے یا دکھایا جارہا ہے اس میں کافی تضاد ہے ۔ بیوروکریسی ایک بڑا چیلنج ہے او راس میں بڑی اصلاحات کے بغیر حکمرانی کا نظام موثر اور شفاف نہیں ہوسکتا ۔تعلیم اور صحت کے شعبہ میں عملی طور پر بڑی ایمرجنسی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو لوگوں کو بنیادی طور پر ریلیف دے سکے ۔اصل چیلنج نگرانی او رجوابدہی کے نظام کا ہے جب تک ہم اس عمل میں عملی طور پر کچھ نہیں کریں گے ، تبدیلی ممکن نہیں۔خاص طو رپر مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور زخیرہ اندوزوں اور اپنی سطح پر مہنگائی کرنے والے مافیاز کے خلاف بھی ایک بڑے آپریشن کی ضرورت ہے ۔salmanabidpk@gmail.com۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.