پہلی مسلمان خاتون اول اوررونےرلانے کامزا:ڈاکٹراجمل نیازی

ajmal-khan-niazi

ام المومنین حضرت خدیجہؓ بہت یاد آئیں۔ میرا خیال ہے کہ کوئی مسلمان خاتون ان کے برابر نہیں ہو سکتی۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ کے لیے کہا کہ وہ میری محسنہ ہے۔ ان کو پہلی مسلمان خاتون اول کہا گیا ہے کہ ہمارے دل میں ام المومنین کے لیے احترام ہے۔
خدیجہؓ عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے 15 برس بڑی تھیں۔ جب تک وہ زندہ رہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری شادی نہ کی۔ آج کے جدید دور میں بھی جو عورت اپنے گھر والوں سے پوچھے بغیر کسی مرد کے ساتھ شادی کر لے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ خلاف سنت بات ہے۔ اور یہ کیسی غیرت ہے کہ لڑکی قتل کر دی جاتی ہے۔ لڑکے کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ مسلمان سیرت رسو ل سے آگہی حاصل کریں۔
٭٭٭٭٭٭٭
کلبھوشن کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا یہ تو بتایا جائے کہ اس کو سزائے موت کب ملے گی۔ بھارت میں اجمل قصاب کو کھلے عام سزائے موت دی گئی۔ کتاب میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ بھارت کے پسندیدہ صدر مشرف نے کہا کہ میں درانی صاحب کی کتاب کو مثبت انداز میں دیکھوں گا۔ دیکھیں مشرف کتاب کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ برادرم طلعت حسین کے پروگرام میں سینئر صحافی حامد میر کے علاوہ ارشاد بھٹی، قیوم سومرو فواد چودھری اور دیگر نے کہا کہ اس متنازع کتاب کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔

آخر ہمارے جرنیل جن سے بھارت والے ڈرتے ہیں وہ ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی اور امن کے پرچارک کیوں بن جاتے ہیں۔ مشرف نے یہ بھی کہا ہے کہ ”را“ نے میری جان نہیں بچائی تھی تو پھر کس نے بچائی؟ درانی صاحب نے فلاحی تنظیم اخوت کے سربراہ دردمند انسان ڈاکٹر امجد ثاقب سے بھی ملاقات کی۔ ڈاکٹر امجد مستحق لوگوں کو بغیر سود کے قرضے فراہم کرتے ہیں۔ درانی صاحب کو اس موقع پر کس کے لیے قرضے کی ضرورت پڑی گئی ہے۔
یہ بھی درانی صاحب کا کریڈٹ سمجھیں کہ ”را“ نے کتاب کی بھرپور حمایت کی ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ کلبھوشن کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ کلبھوشن کے لیے ہمیں بڑی پریشانی ہے۔ ہم کچھ نہ کچھ کریں گے جو بھارت کے لیے قابل قبول ہو۔

جنوبی پنجاب کے لیے ایک تحریک نے پھر سر اٹھایا ہے تو ڈاکٹر بابر اعوان کے بقول ن لیگ نے بہاولپور کو صوبہ بنانے کا شوشہ چھوڑا ہے تاکہ جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے لیے رکاوٹیں پیدا کی جائیں جبکہ تحریک انصاف کے منشور میں بھی یہ بات شامل ہے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جائے گا۔ ایک سابق وزیر اور سیاستدان محمد علی درانی نے بھی صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے حمایت کی ہے۔
عمران خان کی تصویریں تو شائع ہوتی رہتی ہیں۔ آج ریحام خان کی تصویر شائع ہوئی ہے۔ تصویر خوبصورت ہے۔ عمران خان نے بھی دیکھی ہو گی۔ جب آدمی پارٹی چھوڑ دیتا ہے تو سب سے اعلیٰ سیاسی پارٹی میں اچانک برائیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہی باتیں اس وقت کی ہوتیں جب وہ پارٹی میں تھے تو مزا آ جاتا۔ چودھری نثار ایسی باتیں کر دیتے ہیں تو نواز شریف بھی چودھری صاحب کو نظرانداز کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ اور ایک سرد جنگ جاری رہتی ہے۔ سارے سیاستدانوں میں صرف چودھری نثار ہی ہیں جو اجھے لگتے ہیں۔ اب تو مریم نواز شریف میدان میں اتر آئی ہیں جمہوریت کو اقتدار کے لیے استعمال کرنے والے اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں چاہتے۔
٭٭٭٭٭٭٭
حکومت پنجاب کے وزیر راجہ اشفاق سرور کی گاڑی ان کے حلقہ انتخاب میں داخل ہوئی تو بپھرے ہوئے ناراض غیرت مند لوگوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ پانچ برس کے بعد آج پہلی بار اشفاق سرور یہاں آئے تھے۔ ایک بار پانچ سال پہلے ووٹ مانگنے آئے تھے۔ یعنی حلقہ انتخاب کے لوگوں اور رکن اسمبلی کا یہی ایک رشتہ رہ گیا ہے۔ محرومیوں نے اب تو لوگوں کو احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔ بظاہر یہ رویہ ٹھیک نہیں سیاستدان ایسا نہ کریں۔ اشفاق سرور نے بات کو گھمانے کی کوشش کی ہے۔

ایم پی اے اور پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی بیٹے کی ماں بن گئی ہے۔ شرمیلا فاروقی، ان کے شوہر ہشام ریاض اور سسر شیخ ریاض کو مبارکباد ہو۔ مجھے اسلام آباد سے شاعرہ فوزیہ طاہرہ نے اپنا شعری مجموعہ ”پہلی چاہت کے نام“ بھجوایا ہے۔ یہ ایک مختلف اور ممتاز کتاب ہے۔ شاعروں کا محبوب چنگا بھلا جوان ہوتا ہے۔ اب خواتین کو بھی شاعری میں لایا جا رہا ہے۔ خواتین اچھی شاعری کر رہی ہیں۔ ان کی محبوب کوئی عورت نہیں ہو سکتی۔

فوزیہ طاہرہ کا محبوب ان کا اپنا بیٹا ہے۔ شعری مجموعے کا انتخاب دیکھیں ”میری پہلی چاہت اپنے لخت جگر کے نام جس کے جانے کے بعد یہ دل تو مر گیا لیکن جسد شاعری کو زندگی مل گئی۔“ جو یہ کتاب پڑھے گا روئے گا۔ فوزیہ نے اپنے پڑھنے والوں کو بہت رلایا ہے۔ وہ اوروں کے لیے اکائی تھا لیکن میری عمر بھر کی کمائی تھا۔ آنکھیں جیسی بھی ہوں ان کا رنگ جتنا بھی مختلف ہو مگر آنسو کا رنگ ایک سا ہوتا ہے۔ فوزیہ نے اپنے آنسوﺅں میں قلم ڈبو کے یہ دردناک اور زخمی نظمیں لکھی ہیں۔ ان کی نظم دیکھیے:
جب جب تیرے ہونٹوں پہ
بوسہ لینے کو دل مچلا
بے اختیار
تیرے مرقد کے سرخ پھولوں پہ
اپنے ہونٹ رکھ دیے میں نے
میری درخواست ہے کہ یہ کتاب پڑھیں۔ یہ شاعری فوزیہ نے اپنے محبوب کے لیے کی ہے یا اپنے بیٹے کے لیے۔ کسی کو ہنسانا آسان ہے مگر رلانا بہت مشکل ہے۔ ایک مشکل کو آسان بنانے کے لیے ہم فوزیہ کے شکر گزار ہیں۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.