پیدا ہونے والے بچے کی جنس جاننا انتہائی آسان

pregnancy

جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے قبل اپنے ہونے والے بچے کی جنس جاننے کی خواہشمند مائیں کچھ ایسے اشاروں پر بھروسہ کرتی تھیں جو کہ ممکنہ طور پر انہیں رحم میں موجود بچے کی جنس سے مطلع کرتے تھے۔

آج حاملہ خواتین جنس کی نشاندہی کے لیے الٹرا سائونڈ ٹیکنالوجی کا سہارا لیتی ہیں ہیں مگر اب بھی کچھ خواتین جنس کی پیش گوئی کے لیے کچھ قدیم طریقے آزمانا پسند کرتی ہیں۔

اگر آپ بھی اس حوالے سے متجسس ہیں تو جنس کی پیشگوئی کے لیے ان میں سے چند طریقے استعمال کریں اور دیکھیں کہ آپ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

پیٹ کے اوپر انگوٹھی لٹکا کر دیکھیں
کیا آپ کو معلوم ہے اس کام کے لیے شادی کی انگوٹھی بھی استعمال کی جاسکتی ہے؟ بچوں کی جنس معلوم کرنے کے سب سے پرانے طریقوں میں سے ایک شادی کی انگوٹھی کو ایک دھاگے سے باندھ کر ماں کے پیٹ پر لٹکانا ہے۔ اگر انگوٹھی دائرے میں گھومے تو آپ کو بیٹا ہوگا، اور اگر یہ دائیں بائیں گھومے تو بیٹی کی امید کی جا سکتی ہے۔

دل کی دھڑکن؟
دھڑکن کی رفتار جانچیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے بچے کے دل کی دھڑکن سست ہے اور 140 دھڑکن فی منٹ سے کم ہی رہتی ہے تو یہ لڑکا ہوگا۔ لیکن اگر دھڑکن 140 فی منٹ سے زیادہ ہو تو آپ ایک لڑکی کے والدین بننے والے ہیں۔

کس چیز کو دل چاہ رہا ہے؟
سوچیں کہ آپ کو کس چیز کی بھوک محسوس ہو رہی ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر رحم میں لڑکا ہے تو ماؤں کو پروٹین سے بھرپور غذاؤں مثلاً گوشت کی اشتہا محسوس ہوتی ہے۔ اسی دلیل کے تحت وہ خواتین جو کسی لڑکی کو جنم دینے والی ہوتی ہیں انہیں میٹھی چیزیں مثلاً پھل اور بسکٹس وغیرہ کھانے کا دل کرتا ہے۔

پیشاب کا کلر
اگر آپ کا پیشاب تیز پیلے رنگ کا ہے تو کچھ لوگوں کے مطابق یہ لڑکے کی علامت ہے، اور اگر آپ کا پیشاب پھیکے پیلے رنگ کا ہے تو یہ بیٹی ہونے کی علامت ہوسکتی ہے۔

بالوں کے بڑھنے کی رفتار
کچھ لوگوں کے مطابق وہ خواتین جن کو بیٹے کی پیدائش متوقع ہوتی ہے ان کی ٹانگوں کے بال تیزی سے بڑھتے ہیں جبکہ اگر خاتون کے رحم میں لڑکی ہو تو بالوں کے بڑھنے کی رفتار مناسب ہی رہتی ہے۔

مرد کے وزن کا بڑھنا
اپنے شوہر کے وزن پر نظر رکھیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ کے حمل کے دوران آپ کے شوہر کا وزن بڑھنا شروع ہوجائے تو آپ کے گھر جلد ہی ایک لڑکے کی آمد متوقع ہے۔ اگر شوہر اپنا وزن برقرار رکھیں تو یہ لڑکی ہونے کا اشارہ ہوسکتا ہے۔ کچھ معلومات آپ کو فراہم کی گئیں امید ہے آپ کو اس سے مدد ملے گی۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.