کالم لکھواورنیب کا کیس بنواؤ۔ کالم ڈاکٹر اجمل نیازی

ajmal khan niazi

نواز شریف نے نیب کے چیئرمین (ریٹائرڈ) جسٹس جاوید اقبال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معافی مانگیں اور مستعفی ہوں۔ وہ اس منصب پر رہنے کے لئے جواز کھو بیٹھے ہیں۔ نیب نے کرپشن کے حوالے سے نواز شریف کے خلاف کچھ مقدمات کی تفتیش کا فیصلہ کیا ہے اور یہ الزام بھی لگا کہ نواز شریف نے اربوں روپے بھارت بھجوائے۔ چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ میری کسی سے دشمنی نہیں اور میرا کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں سے شاید کوئی بھی نہ ہو کہ جب وہ اقتدار سے ہٹتے ہیں تو ان کے خلاف کرپشن بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے مقدمات درج نہ ہوں اور وہ یہ نہ کہیں کہ ہمارے خلاف انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے کہا کہ کوئی نااہل شخص چیئرمین نیب سے جواب طلبی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بڑے یقین سے کہا کہ جنوبی پنجاب سے ہم جیتیں گے۔ علیم خان پی ٹی آئی میں وسطی پنجاب کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو کھوکھلے نعروں سے بہلانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ایک تصویر میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے متحدہ جنوبی محاذ کے صدر خسرو بختیار تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران خان کے جنوبی پنجاب کے دورے کے دوران کوئی معاہدہ ہو چکا ہے۔ پنجاب شریف برادران کا سیاسی قلعہ سمجھا جاتا ہے مگر 2018ء کے الیکشن میں صورتحال مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگ تو الیکشن کے بارے میں پریشان ہیں کہ الیکشن ہونا بھی ہے یا نہیں۔

اس دوران مریم نواز نے ٹویٹ کیا ہے۔ ’’کالم لکھو اور نیب کا کیس بنواؤ‘‘ یہ بات کالم کے مؤثر ہونے کا اعتراف ہے ۔ میں کالم نگاری کو مسالمہ نگاری ناری سمجھتا ہوں۔ اب کچھ اور بہت کم لکھایا ہے۔ بڑے بڑے ادیب کالم لکھ رہے ہیں۔ عنقریب کالم بھی ادبی صنف سخن ہو گی۔

ن لیگیوں کی طرف سے نیب کا محکمہ ختم کرنے کے بھی آواز سنی جا رہی ہے۔کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے والے خود بھی کرپشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نیب کے ذریعے صرف سیاستدانوں کا احتساب کیا جاتا ہے تو نیب والوں کا احتساب کون کرے گا۔

ن لیگ کے وفاقی وزیر مملکت عابد شیر علی صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے بیانات ایک جیسے متنازع اور مزیدار ہوتے ہیں۔ عابد شیر علی نے کہا کہ ہم پر ایسے الزامات کی بجائے پھانسی دے دی جائے۔ عابد صاحب کو پتہ ہونا چاہئے کہ پھانسی مقتدر اور محترم لوگوں کو دی جاتی ہے۔ ابھی وہ پوری طرح اس قابل نہیں کہ انہیں پھانسی دی جائے۔ شہید بھی وہی ہوتے ہیں جو حق کے لئے ڈٹ جاتے ہیں۔ موت کو قبول کرنے والے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
بے نظیر بھٹو کو گولی ماری گئی۔ مگر بھٹو صاحب کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل پر بھی ہم غم اور غصے میں ڈوب گئے تھے مگر بھٹو صاحب کی شہادت زیادہ تابدار ناقابل فراموش ہے۔
عراق کے ڈکٹیٹر صدر صدام کے ساتھ مجھے بڑے اختلاف ہیں۔ اسرائیل والے مشرق وسطیٰ میں صرف عراق سے ڈرتے تھے۔ اب عراق کہیں نہیں ہے۔ مگر میں نے انہیں تختۂ دار پر مطمئن طریقے سے اپنی آخری رسوم میں شامل دیکھا۔ امریکہ کے کچھ سیاستدان چاہتے تھے کہ صدام حسین کی بزدلی کا منظر سارے عالم اسلام کو دکھانا چاہئے مگر وہ بہت شرمندہ ہوئے۔ بڑے محترم دانشور محمد حسین اکبر کے ساتھ عراق جانے کا اتفاق ہوا۔ حبیب عرفانی خاور نعیم ہاشمی اور کئی دوست ساتھ تھے۔ ہم زیادہ دن کربلا میں ٹھہرے۔ نواسۂ رسولؐ کی قبر پر شہید اعظم کے سامنے ششدر کھڑے ہونے کا موقع ملا۔ یہاں بہت لوگ تھے مگر ایک عورت بھی نہ تھی۔ عورتوں کو بھی یہاں حاضر ہونے کا موقع دینا چاہئے۔
٭٭٭٭٭٭
برادرم عبدالستار عاصم ایک کتاب لائے جس کا نام ’’شمشیر بے نیاز‘‘ ہے۔ رائے امیر حبیب اللہ کی زندگی بیان کرتے ہوئے اپنے گھر کا احوال بیان کر دیا۔ اس اچھی کتاب کی مصنفہ فریدہ جبیں سعدی ہیں اور اسے قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل کے زیراہتمام چھاپا گیا ہے۔ اس طرح کاوش بہت عورتیں کر سکتی ہیں۔ اس کتاب کے پبلشر عاصم بھائی ہیں۔ وہ اچھی کتابیں چھاپتے ہیں۔ کتاب کے ساتھ ان کا تعلق بہت مضبوط ہے۔ میں ایسی منفرد اور دلفریب کتاب کے لئے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.