کتاب سے پہلے ’تہلکہ‘عارف نظامی

ariz nizami sb

عمران خان کی مطلقہ ریحام خان کی کتاب ابھی مارکیٹ میں آئی بھی نہیں کہ اس نے تہلکہ مچادیا ہے ۔تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری سمیت پرائم ٹائم پر ٹی وی چینلز پر آنے والے پارٹی کے رہنما بس ریحام خان کی کتاب کی دہائی دے رہے ہیں۔ کتاب میں سنسنی خیز انکشافات کے حوالے سے طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں جن کالب لباب یہ ہے کہ یہ مسلم لیگ(ن) کی سازش ہے۔ یہ دور کی کوڑی بھی لائی گئی ہے کہ حمزہ شہبا ز شریف جو خود عائشہ احد جو دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ حمزہ کی منکوحہ ہیں، کی ایف آئی آر بھگت رہے ہیں ،کی لندن میں ریحام خان سے خفیہ ملاقات ہوئی ہے جس میں یہ سازش تیار کی گئی۔

جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے وہ ایسی صورتحال سے کیونکر فائدہ نہیں اٹھائے گی لیکن اس سارے معاملے کو سابق حکمران جماعت کے کورٹ میں ڈال دینا درست نہیں۔ اورتواور حسین حقانی کو بھی مبینہ طور پر عمران خان اور ان کے حواریوں کے بارے میں ذاتی الزامات اور رکیک حملوں میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔ حسین حقانی نے امریکہ سے مجھے فون کر کے بتایا کہ وہ لندن میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے، وہ اپنی بیگم کے لیے بیگ خریدنے کے لیے لندن کے مشہور سٹور ہاروے نکولس میں گئے تو وہاں دروازے پرہی ان کی ریحام خان سے ملاقات ہو گئی۔ حقانی کا کہنا تھا کہ ریحام خان کی طر ح ان کا بھی میڈیا سے تعلق رہا ہے لہٰذا ان سے کچھ دیر گپ شپ ہوئی۔ ان کا اس کتاب سے کو ئی تعلق ہے نہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سے ۔یقینا حسین حقانی واشنگٹن میں جلاوطنی کے دن گزار رہے ہیں۔ وہ وہاں پروفیسری کرتے ہیں اور تھنک ٹینک میں اپنی کتابوں کے لیے ریسرچ کرتے پائے جاتے ہیں۔ نہ جانے ہمارے میڈیا اور سکیورٹی اداروں نے حسین حقانی کو اتنا ہو اکیوں بنا دیا ہے؟۔

ریحام خان بطور صحافی اور عمران خان کی سابق اہلیہ ہونے کے حوالے سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے کلچر کو اندر باہر سے جانتی ہیں ۔تحریک انصاف کے کھلاڑی سوشل میڈیا اور میڈیا پرمخالفین کے خلاف غلط یا صحیح معلومات کی بنا پر پگڑی اچھا لنے کے آرٹ میں یکتا ہیں اور خود گریٹ خان اس معاملے میں پی ایچ ڈی سے کم نہیں ہیںلیکن لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما اور میڈیا پر ان کے حواری ریحام خان کے بچھائے گئے جال میں پھنس گئے ہیں ۔ وہ بڑی ہوشیاری سے کتاب کے بعض سنسنی خیز مندرجات لیک کر ارہی ہیں۔ اس ضمن میں عمران خان کی ذاتی زندگی ، ان کے دوست وسیم اکرم،عمران خان کی بہنوں کے معاملے میں الٹے سید ھے انکشافات کیے جا رہے ہیں اوراس حوالے سے چار شخصیات ذوالفقار بخاری ،ریحام خان کے سابق شوہر اعجاز رحمان ،وسیم اکر م اور انیلاخواجہ ریحام خان کو لیگل نوٹس بھی دے چکے ہیں۔ ایک کھلاڑی تو کتاب کی طباعت رکوانے کے لیے ملتان سول کورٹ سے حکم امتناعی بھی لے آیا ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما اور متنازعہ شخصیت حمزہ عباسی نے کتاب کے بارے میں انکشافات اور ریحام خان کے ساتھ تو تکار کر کے اپنے لیڈر کی خدمت نہیں کی۔ چندروز سے صورتحال یہ ہے کہ ریحام خان عمران خان کے حواریوں کے اعصاب پر سوار ہیں، میڈیا کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ بڑے بڑے ثقہ اور سنجیدہ تجزیہ کار اور اینکرزدنیا و ما فیہاکو چھوڑ کر اسی موضوع کو لئے بیٹھے ہیں کیونکہ مسئلہ ریٹنگ کا ہے اورچسکے بازی بکتی ہے ۔مجھے خاص طور پر حیرانی ہو تی ہے کہ ان میں اکثر اینکر خواتین وحضرات وہ ہیں جو عمران خان کی شادی کی خبر دینے،خاتون کا نام بتانے،ناچاقی اور پھر طلاق کی خبر دینے پرمجھ پر خوب برستے رہے۔

بعض یہ بھی کہتے رہے ارے صاحب صحافیوں کو سیاستدانوں کی ذاتی زندگیوں میں دخل در معقولات نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے ، مرکز میں نگران حکومت تشکیل پا چکی ہے جبکہ صو بوں میں یہ عمل جاری ہے ۔ ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کے حوالے سے تشویشناک خبریں آ رہی ہیں۔ بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال بھی اچھی نہیں ہے۔ ان موضوعات پر کہیں بات ہو رہی ہے نہ سنجیدہ تجزیے ۔ ریحام انتقام کی آگ میں جل رہی ہیں کیونکہ عمران خان کی دلہن بن کر سنہرے خواب جوانہوں نے دیکھے تھے وہ ایس ایم ایس کے ذریعے طلاق ملنے پر چکنا چور ہو گئے۔ وہ ہر طریقے سے عمران خان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں ریحام خان سخت نا پسند کرتی ہیں ،اس کے باوجود میری رائے یہ ہے کہ کتاب چھپنے دیں اور اس کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے بجائے تحریک انصاف اپنے اصل کام ٹکٹوں کی تقسیم ،الیکشن مہم اور اپنے پروگرام کی پبلسٹی پر بھر پور توجہ دے۔اس وقت تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے کھلاڑی متذ کر ہ کتاب کے پبلسٹی ایجنٹ بنے ہوئے ہیں ،اس طر ح یہ کتاب شائع ہونے سے پہلے ہی ’’بیسٹ سیلر‘‘ بن چکی ہے ۔ اس کتاب کے اصل مندرجات کیا ہیں یہ تو شائع ہونے کے بعد ہی پتہ لگے گا لیکن جو کچھ میڈ یا میں آ رہا ہے شاید وہ کتاب میں موجودنہ ہو اوراگرہوا تو اسے حذف کر دیا جائے کیونکہ برطانیہ میں ہتک عزت کے قانون بڑے سخت ہیںاور جیسی باتیں سوشل میڈیا کے ذریعے لیک کی جا رہی ہیں وہ اگر کتاب میں موجود ہوئیںتو ریحام خان کو دعوؤں کی صورت میں لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ایک اطلا ع یہ بھی ہے کہ متذکر ہ کتاب کی تیا ری میں ریحام خان کے دوست بھارتی نژاد بر طانوی بزنس مین سنجے کیتھوریا کی کاوش شامل ہے۔ میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز فلیٹیز ہوٹل میں ایک گرینڈ پریس کا نفرنس کا انعقاد کیا،گرینڈ اس لحا ظ سے کہ اس میں ایسے رپورٹروں کو بھی مدعوکیا گیا جو تیز وتند سوالات پوچھنے سے نہیں ہچکچاتے۔ شہبازشریف نے اپنی کا رکردگی کے حوالے سے یہ ثابت کر نے کی کوشش کی کہ انہوں نے اپنی محنت شاقہ کے ذریعے پنجاب میں کتنی ترقی کی اور قومی خزانے کو کتنا فائدہ پہنچایا اور بچت کی ۔لیکن حسب توقع کچھ صحافی مصر تھے کہ کتاب پر بات کی جائے۔ ایک صحافی نے مودبانہ انداز میں سوال کیا کہ جناب آج کل آپ کتابیں لکھوا رہے ہیں تومیاں صاحب برہم ہو گئے کہ میں اس سوال کا جواب دینا بھی توہین سمجھتا ہوں۔ تا ہم ایک اور رپورٹر نے براہ راست ہی یہ سوال کر دیا تو شہباز شریف نے واضح کیا کہ ان کی ریحام خان سے واحد ملاقات اس وقت ہوئی تھی.

جب 2014میں ٹی وی کے لیے انٹرویو کرنے ان کے گھر تشریف لائی تھیں۔ کتاب کے لیک شدہ مواد میںبھی انٹرویوکے موقع پر اس ملاقات کا ذکر ہے ۔واضح رہے کہ عمران خان بھی 2014ء میں اپنے دھرنے کے دوران کنٹینر میں انٹرویو دیتے ہوئے ہی ریحام خان کی زلف کے اسیر ہو ئے تھے۔
،کتاب میں سنسنی خیز انکشافات کے حوالے سے طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں جن کالب لباب یہ ہے کہ یہ مسلم لیگ(ن) کی سازش ہے۔ یہ دور کی کوڑی بھی لائی گئی ہے کہ حمزہ شہبا ز شریف جو خود عائشہ احد جو دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ حمزہ کی منکوحہ ہیں کی ایف آئی آر بھگت رہے ہیں ،کی لندن میں ریحام خان سے خفیہ ملاقات ہوئی ہے جس میں یہ سازش تیار کی گئی۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے وہ ایسی صورتحال سے کیونکر فائدہ نہیں اٹھائے گی لیکن اس سارے معاملے کو سابق حکمران جماعت کے کورٹ میں ڈال دینا درست نہیں۔

اورتواور حسین حقانی کو بھی مبینہ طور پر عمران خان اور ان کے حواریوں کے بارے میں ذاتی الزامات اور رکیک حملوں میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔ حسین حقانی نے امریکہ سے مجھے فون کر کے بتایا کہ وہ لندن میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے، وہ اپنی بیگم کے لیے بیگ خریدنے کے لیے لندن کے مشہور سٹور ہاروے نکولس میں گئے تو وہاں دروازے پرہی ان کی ریحام خان سے ملاقات ہو گئی۔ حقانی کا کہنا تھا کہ ریحام خان کی طر ح ان کا بھی میڈیا سے تعلق رہا ہے لہٰذا ان سے کچھ دیر گپ شپ ہوئی۔ ان کا اس کتاب سے کو ئی تعلق ہے نہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سے ۔یقینا حسین حقانی واشنگٹن میں جلاوطنی کے دن گزار رہے ہیں۔ وہ وہاں پروفیسری کرتے ہیں اور تھنک ٹینک میں اپنی کتابوں کے لیے ریسرچ کرتے پائے جاتے ہیں۔ نہ جانے ہمارے میڈیا اور سکیورٹی اداروں نے حسین حقانی کو اتنا ہو اکیوں بنا دیا ہے؟۔ ریحام خان بطور صحافی اور عمران خان کی سابق اہلیہ ہونے کے حوالے سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے کلچر کو اندر باہر سے جانتی ہیں ۔

تحریک انصاف کے کھلاڑی سوشل میڈیا اور میڈیا پرمخالفین کے خلاف غلط یا صحیح معلومات کی بنا پر پگڑی اچھا لنے کے آرٹ میں یکتا ہیں اور خود گریٹ خان اس معاملے میں پی ایچ ڈی سے کم نہیں ہیںلیکن لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما اور میڈیا پر ان کے حواری ریحام خان کے بچھائے گئے جال میں پھنس گئے ہیں ۔ وہ بڑی ہوشیاری سے کتاب کے بعض سنسنی خیز مندرجات لیک کر ارہی ہیں۔ اس ضمن میں عمران خان کی ذاتی زندگی ، ان کے دوست وسیم اکرم،عمران خان کی بہنوں کے معاملے میں الٹے سید ھے انکشافات کیے جا رہے ہیں اوراس حوالے سے چار شخصیات ذوالفقار بخاری ،ریحام خان کے سابق شوہر اعجاز رحمان ،وسیم اکر م اور انیلاخواجہ ریحام خان کو لیگل نوٹس بھی دے چکے ہیں۔ ایک کھلاڑی تو کتاب کی طباعت رکوانے کے لیے ملتان سول کورٹ سے حکم امتناعی بھی لے آیا ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما اور متنازعہ شخصیت حمزہ عباسی نے کتاب کے بارے میں انکشافات اور ریحام خان کے ساتھ تو تکار کر کے اپنے لیڈر کی خدمت نہیں کی۔ چندروز سے صورتحال یہ ہے کہ ریحام خان عمران خان کے حواریوں کے اعصاب پر سوار ہیں، میڈیا کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ بڑے بڑے ثقہ اور سنجیدہ تجزیہ کار اور اینکرزدنیا و ما فیہاکو چھوڑ کر اسی موضوع کو لئے بیٹھے ہیں کیونکہ مسئلہ ریٹنگ کا ہے اورچسکے بازی بکتی ہے ۔مجھے خاص طور پر حیرانی ہو تی ہے کہ ان میں اکثر اینکر خواتین وحضرات وہ ہیں جو عمران خان کی شادی کی خبر دینے،خاتون کا نام بتانے،ناچاقی اور پھر طلاق کی خبر دینے پرمجھ پر خوب برستے رہے۔ بعض یہ بھی کہتے رہے ارے صاحب صحافیوں کو سیاستدانوں کی ذاتی زندگیوں میں دخل در معقولات نہیں کرنا چاہیے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے ، مرکز میں نگران حکومت تشکیل پا چکی ہے جبکہ صو بوں میں یہ عمل جاری ہے ۔ ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کے حوالے سے تشویشناک خبریں آ رہی ہیں۔ بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال بھی اچھی نہیں ہے۔ ان موضوعات پر کہیں بات ہو رہی ہے نہ سنجیدہ تجزیے ۔ ریحام انتقام کی آگ میں جل رہی ہیں کیونکہ عمران خان کی دلہن بن کر سنہرے خواب جوانہوں نے دیکھے تھے وہ ایس ایم ایس کے ذریعے طلاق ملنے پر چکنا چور ہو گئے۔ وہ ہر طریقے سے عمران خان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں ریحام خان سخت نا پسند کرتی ہیں ،اس کے باوجود میری رائے یہ ہے کہ کتاب چھپنے دیں اور اس کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے بجائے تحریک انصاف اپنے اصل کام ٹکٹوں کی تقسیم ،الیکشن مہم اور اپنے پروگرام کی پبلسٹی پر بھر پور توجہ دے۔اس وقت تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے کھلاڑی متذ کر ہ کتاب کے پبلسٹی ایجنٹ بنے ہوئے ہیں ،اس طر ح یہ کتاب شائع ہونے سے پہلے ہی ’’بیسٹ سیلر‘‘ بن چکی ہے ۔ اس کتاب کے اصل مندرجات کیا ہیں یہ تو شائع ہونے کے بعد ہی پتہ لگے گا لیکن جو کچھ میڈ یا میں آ رہا ہے شاید وہ کتاب میں موجودنہ ہو اوراگرہوا تو اسے حذف کر دیا جائے کیونکہ برطانیہ میں ہتک عزت کے قانون بڑے سخت ہیںاور جیسی باتیں سوشل میڈیا کے ذریعے لیک کی جا رہی ہیں وہ اگر کتاب میں موجود ہوئیںتو ریحام خان کو دعوؤں کی صورت میں لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ایک اطلا ع یہ بھی ہے کہ متذکر ہ کتاب کی تیا ری میں ریحام خان کے دوست بھارتی نژاد بر طانوی بزنس مین سنجے کیتھوریا کی کاوش شامل ہے۔ میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز فلیٹیز ہوٹل میں ایک گرینڈ پریس کا نفرنس کا انعقاد کیا،گرینڈ اس لحا ظ سے کہ اس میں ایسے رپورٹروں کو بھی مدعوکیا گیا جو تیز وتند سوالات پوچھنے سے نہیں ہچکچاتے۔

شہبازشریف نے اپنی کا رکردگی کے حوالے سے یہ ثابت کر نے کی کوشش کی کہ انہوں نے اپنی محنت شاقہ کے ذریعے پنجاب میں کتنی ترقی کی اور قومی خزانے کو کتنا فائدہ پہنچایا اور بچت کی ۔لیکن حسب توقع کچھ صحافی مصر تھے کہ کتاب پر بات کی جائے۔ ایک صحافی نے مودبانہ انداز میں سوال کیا کہ جناب آج کل آپ کتابیں لکھوا رہے ہیں تومیاں صاحب برہم ہو گئے کہ میں اس سوال کا جواب دینا بھی توہین سمجھتا ہوں۔ تا ہم ایک اور رپورٹر نے براہ راست ہی یہ سوال کر دیا تو شہباز شریف نے واضح کیا کہ ان کی ریحام خان سے واحد ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب 2014میں ٹی وی کے لیے انٹرویو کرنے ان کے گھر تشریف لائی تھیں۔ کتاب کے لیک شدہ مواد میںبھی انٹرویوکے موقع پر اس ملاقات کا ذکر ہے ۔واضح رہے کہ عمران خان بھی 2014ء میں اپنے دھرنے کے دوران کنٹینر میں انٹرویو دیتے ہوئے ہی ریحام خان کی زلف کے اسیر ہو ئے تھے۔بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.