کوئی ملک پاکستان کے خلاف سازش نہیں کرتا:اسامہ صدیق

usama logo

عام لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے خلاف بہت سارے ممالک سازش کرتے ہیں اور پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ ساری باتیں سیاسی پنڈتوں کی طرف سے کی جاتی ہیں جنہیں عوام اپنے دماغوں میں ذہن نشیں کر لیتے ہیں۔حکمران یہ ساری باتیں اورڈرعوام میں صرف ووٹ لینے کے لیے پیدا کرتے ہیں کہ انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا جائے اور ہم ان ممالک کے خلاف کھڑے ہونگے ۔ ہمارے بھولے بھالے عوام انکی باتیں سن کر انہیں بہادر سمجھنے لگتے ہیں اور اپنا محافظ جان کر اپنا قیمتی ووٹ دے دیتے ہیں ۔ پھرکیا ہوتا ہے۔ یہی حکمران اقتدار میں آکر انہی ممالک سے بھیک مانگتے ہیں اور آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہر پاکستانی پر تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار کا قرض ہے جو ماشااﷲ مسلم لیگ ن کی جانب سے پاکستانی عوام کو تحفہ ہے۔ اب کیا یہ بھی یہودیوں کی سازش ہے؟

سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہوا۔چودہ لوگ دن دہاڑے مار گرائے ۔ حاملہ عورت کے منہ میں گولی ماردی گئی ۔کیا یہ کسی اور ملک نے آکر پاکستان پر حملہ کیا تھا؟بہاولپور میں آئل ٹینکر الٹنے والا واقعہ تو یاد ہی ہوگا؟ جس عوام میں حکمرانوں نے اتنی بھوک ڈال دی کہ وہ گزر بسر کرنے کے لیے وہاں سے پٹرول اکٹھا کرنے لگے اور اچانک آگ لگنے سے 250 کے قریب زندہ انسان جل کر مر گئے۔یہ آئل ٹینکر بھی پاکستان میں کسی سازشی ملک کی طرف سے پاکستان میں بھیجا گیا تھا؟ نہیں بلکہ اپنی ہی سازش تھی۔ کیونکہ جہاں عوام کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو وہاں بھوک نہ ناچے تواور کیا ہو؟ ہاں مگر میں یاد کرواتا چلوں حکومت نے جل کر مرنے والوں کے لیے 20 لاکھ اور جھلس کر ساری عمر کے لیے معزور ہونے والے افراد کے لیے 10 لاکھ کا” انعام،، مقرر کیا تھا صاحب۔۔!

آج کل کے نوجوان حکومتی نمائندوں کے دفاتر میں نوکری کی غرض سے جاتے ہیں توپیسوں کی ڈیمانڈسن کر مایوسی میںواپس لوٹ آتے ہیں ۔ کیا یہ بھی دوسرے ممالک ہمارے ملک میں آکر ہمارے ہی نو جوانوں میں مایوسی کے ما ئنڈ سیٹ (Mindset) کو فروغ دے رہے ہیں ؟ اسپتالوں میں لوگ ادویات کی عدم فرہمی کی وجہ سے آئے روز مر رہے ہیں، کیا یہ بھی یہودی یا ہندو آکر ہمارے اسپتالوں سے ادویات چرا کر لے جاتے ہیں ؟ لاہور میں پاکستانی عوام اتنی دیر سے( ایک دوسرے) کو گدھے کا گوشت کھلاتے رہے ،کیا یہ بھی امریکہ کی سازش تھی کہ پاکستانیوں کو گدھے کھلاﺅ؟ یہ پچھلے سال جولائی 2017 کی بات ہے۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ قصور کے علاقہ میں ایکسپائر جوس کی دوبارہ پیکنگ کر کے مارکیٹ میں فروخت کرنے والی فیکٹری پکڑی گئی لیکن سنو جناب فیکٹری کا مالک پاکستانی تھا۔۔۔۔۔ انڈیا میں بیٹھ کر فیکٹری نہیں چلا رہا تھااور نہ ہی اسرائیل سے آکر سازش کر رہا تھا۔ لاہور داتا علیؒ ہجویری صاحب ©کے دربار کے سامنے سڑک کے فٹ پاتھ کا بدبو سے برا حال ہے، کیونکہ وہاں ہماری اپنی عوام پیشاب کرتی ہے۔ کیا یہ بھی اسرائیلی یا انڈیا والے آکر گند پھیلا کر چلے جاتے ہیں ؟ مشعال خان کو عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ اپنا انتقام لینے کے لیے برہنہ کرکے قتل کر دیتی ہے اور پھر لاش کو تیسرے فلور سے گھسیٹتے ہوئے نیچے گراﺅنڈ میں لاتی ہے اور اپنی حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاش کی بے حرمتی کرتی ہے، کیا یہ بھی اسرائیل ، انڈیا، یاامریکہ کی سازش تھی؟

پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنا یا مگر حال یہ ہے کہ آج تک ملک کی بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکے مگر ووٹ لینے لے لیے وعدے کرتے ہیں ۔کیا یہ بھی اسرائیل پاکستان کی بجلی پوری نہیں ہونے دیتا؟یا پھر امریکہ ،پاکستان کے بجلی گھروں اور ڈیمز پر ڈرون حملے کرتا ہے، جو آج تک بجلی بھی پوری نہیں کرسکے ہمارے حکمران۔۔۔!
آخر یہ سب معاملات تو پاکستان کے اداروں کے کنٹرول میں ہے یا نہیں؟ افسوس اس بات کا ہے کہ تعلیم اور شعور کی بے حد کمی ہے مگر تعلیم پر ہماری حکومت زور نہیں دیتی کیونکہ تعلیم فراہم کرنے کے لیے کتابیں ،مدارس یا جامعہ میں فری دینی پڑتی ہیں ہیں لیکن بات یہ ہے کہ حکومتی نمائندوں کے کتابیں چھاپنے والے کارخانے نہیں ہیں ۔۔ ہاں مگر لوہے بنانے کی ملز اور فیکٹریز موجود ہیں۔ اسی لیے زیادہ بجٹ سڑکوں اور پل بنانے پر صرف کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ شا ید نہیں دیکھتے انہیں پل اور سڑکوں پر آج بے تحاشہ گداگر بھیک مانگتے پھرتے ہیں ۔ اسی لیے میری نظر میں پاکستان کے خلاف کسی دوسرے ملک کو سازش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہمارے عوام اور ہمارے حکمران ہی ماشااﷲ اس کام کے لیے کافی ہیں۔آج سپریم کورٹ یہ حکم دے یا الیکشن کمیشن بیان جاری کردے کہ جس نے کم از کم میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے، صرف اسی کو ووٹ دینے کا حق ہے پھر آپ دیکھیے گا ان حکومتی پنڈتوں کی دوڑیں کیسی لگتیں ہیں؟ لیکن چھوڑیے صاحب ہمارے عوام پانچ سو یا ہزار روپے میں ووٹ دیتے ہیں۔ اسی لیے پھر جس سے پیسے لے کر کھائے ہوں اسکے سامنے کیا بولنا۔۔
وہ لوگ جو چنے تھے ہم نے اپنا ووٹ دے کر
زبان کھولنے کی پھر سامنے حضور کے ہمت نہ ہوسکی

نوٹ:ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.