کیا آئین تھک چکا ہے؟خورشید ندیم

khurshid nadeem

اہلِ دانش نے مان لیا مگر بہت دیر کے بعد!
دل کئی بار لہو ہوا اور انگلیاں فگار۔ کئی قافلہ ہائے سخت جاں کو غبارِ راہ بنتے دیکھا۔ ان کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے، بار بار یہ کہنے کی کوشش کی کہ انقلاب ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ایک واہمہ ہے کہ ‘تبدیلی اوپر سے آتی ہے‘۔ انسانی معاشرے کی ساکھ کچھ ایسی ہے کہ یہ ارتقا اور تدریج کے اصول پر قائم ہے۔ کوئی مان کر نہیں دیا۔ سب ایک مسیحا کو ڈھونڈتے رہے۔ جب مل گیا تو دنوں میں اکتا گئے۔ اب سرِ عام خود کو کوستے اور اپنی عقل کا ماتم کرتے ہیں۔ میں ایک کونے میں کھڑا غالب کو یاد کرتا ہوں؛
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

غلطی کا اعتراف اخلاقی جرات کی دلیل ہے۔ ہم سب خیال اور تجربات کے تاروں سے نظریات کے جال بنتے ہیں۔ وقت کی ایک بے مہار لہر ان تاروں کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ یہ ہماری فراست کا امتحان ہے کہ اگلی بار ہم جال بنتے وقت کیسا تار استعمال کرتے ہیں۔ انسانی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا نیا تجربہ کرتے ہیں۔

مجھے اندیشہ ہے کہ ہمارے اہلِ دانش ایک نئی غلطی کی تلاش میں ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ آئین تھک چکا۔ گویا مسائل کے حل کے لیے، وہ ہمارا ہم سفر نہیں بن سکا۔ تو کیا ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے اب کوئی غیر آئینی طریقہ اختیار کرنا ہو گا؟ اگر ہم ایسا سوچ رہے ہیں تو پھر ہم پرانی غلطی دھرانا چاہتے ہیں کہ آئین پر کئی بار یہ تہمت لگی اور اسے کئی بار سنگسار کیا جا چکا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اپنی عمر تجربات میں گنوانے کے بجائے، آخر ہم کامیاب دنیا کے تجربات سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟
انسان کی تاریخ چند نتائج کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک یہ کہ سماجی تبدیلی ہی ایک پائیدار اور ہمہ گیر تبدیلی کی اساس بن سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تبدیلی نیچے سے آتی ہے۔ ایک معاشرہ جب کسی قدر پر اتفاق کر لیتا ہے تو وہ تبدیلی کی بنیاد بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کسی معاشرے میں اختلاف رائے کے احترام کو بطور قدر قبول کر لیا جاتا ہے تو پھر ایک مستحکم جمہوری‘ سیاسی نظام کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ اگر کہیں یہ قدر مستحکم نہ ہو تو اوپر سے نافذ کیا گیا بالغ رائے دہی کا قانون، حقیقی جمہوریت کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
ہمارے ہاں اس رائے کا غلبہ رہا کہ تبدیلی اوپر سے آتی ہے۔ ہم نے ریاست کی سطح پر طے کر دیا کہ ملک کا سیاسی نظم پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد پر قائم ہو گا۔ اس قانون کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں‘ لیکن معاشرے کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ منتخب ہو کر بھی ہمارے رویّوں میں جمہوریت دکھائی نہیں دیتی۔ ہم احتساب اور انتقام میں فرق نہیں کر سکتے۔ ہم دوسروں کے وجود کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔

ہمارے مخلصین کی ایک بڑی تعداد بدستور اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ تبدیلی اوپر سے آتی ہے۔ کچھ تو اسلام بھی اسی طرح نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ نیک شگون ہے کہ بعض دانش ور اپنی اس غلطی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اس غلطی کی تلافی کی ایک صورت یہ ہے کہ ہم سماجی تبدیلی پر ساری توجہ مرتکز کر دیں۔ اہلِ دانش اس کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ سارا اصرار سماجی اداروں کی بحالی پر ہو۔ اس میں خاندان، مکتب، عبادت خانہ اور درس گاہ جیسے روایتی اور میڈیا جیسے جدید سماجی ادارے شامل ہیں۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما کام ہے۔ تبدیلی مگر اس کے بغیر نہیں آ سکتی۔

اس کا یہ مفہوم قطعی نہیں کہ سیاسی عمل سے صرفِ نظر کر دیا جائے۔ معاشرے میں ایک سیاسی عمل مسلسل جاری ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔ ملک میں حکومت ہے۔ پارلیمان بھی موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے حزبِ اختلاف بھی ہے۔ جب یہ عمل جاری ہے تو اس سے بے نیازی ممکن نہیں۔ اس سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع وابستہ کیے بغیر ہم اس کو بہتر بنانے کی کوشش البتہ کر سکتے ہیں۔
سیاست میں بہتری کی ایک ہی صورت ہے: جمہوری عمل کا تسلسل۔ اگر ہم اسے یقینی بنا سکیں تو کم از کم مزید خرابیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اس کا یہ فائدہ کچھ کم نہیں کہ یہ تبدیلی اقتدار کا ایک پُرامن راستہ فراہم کرتی ہے۔ عوام جب اکتا جائیں تو ان کے پاس یہ راستہ ہوتا ہے کہ وہ نئے حکمرانوں کا انتخاب کر لیں۔ بصورتِ دیگر عوامی اضطراب سماجی امن کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

جمہوری تسلسل اور پُرامن تبدیلی کے لیے آئین ہی راستہ فراہم کرتا ہے۔ آئین کی تھکاوٹ کا مطلب یہ ہے کہ آئین کو کچھ دیر آرام کرنے دیا جائے۔ اسے کسی کونے میں سلا دیا جائے۔ آئین نہیں ہو گا تو جس کے پاس طاقت ہو گی، وہ اقتدار پر قبضہ کر لے گا۔ کوئی پی سی او آئین کی جگہ لے لے گا۔ یہ خیال ہی پریشان کن ہے لیکن اگر اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، محض تاریخی پہلو سے دیکھا جائے تو یہ فارمولہ کئی بار آزمایا جا چکا۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس سے مسائل حل نہیں ہوئے، ان میں اضافہ ہوا ہے۔

کچھ لوگ صدارتی نظام کو متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ ایک آئینی راستہ ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے بھی آئین ہی کی مدد چاہیے۔ پاکستان کا آئین پارلیمانی نظام کو قبول کیے ہوئے ہے۔ اس کی موجودگی میں تو یہ ممکن نہیں ہو گا۔ اب آئین کے بنیادی ڈھانچے ہی کو بدلنا ہے تو پہلا سوال یہ ہو گا کہ یہ حق کسے حاصل ہے؟ اس سوال کا جواب دیے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔
گویا پارلیمانی جمہوریت کو ناکام قرار دینے کا مطلب ملک کو ایک بار پھر نئے بحران میں مبتلا کرنا ہے۔ بحران سے بڑا بحران یہ ہوتا ہے کہ بحران سے نکلنے کا راستہ بند ہو جائے۔ آئین کو سلا دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے لیے تمام راستے بند کر لیے۔ میرے نزدیک حکومت کو اگر ناکام مان لیا جائے تو بھی اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ اس کا وجود باقی رہے‘ اور اسے اصلاح کا موقع ملے۔ اس حکومت کے اخلاقی جواز کے بارے میں میرے رائے وہی ہے کہ یہ مشتبہ ہے‘ مگر بالفعل ایک حکومت قائم ہے اور اسے مان لیا گیا ہے۔ اب اسے کسی آئینی طریقے ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

آج ہر طرف اضطراب ہے۔ اہل دانش کا اضطراب یہ ہے کہ کوئی حل نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہا۔ عوام کا اضطراب یہ ہے کہ ان کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اپنا ذہنی اور جذباتی توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ جب یہ راز جان لیا کہ تبدیلی اوپر سے نہیں آتی تو پھر اوپر والوں سے اظہارِ ناراضی کیسی؟ ان کو تو یہی کہنا چاہیے کہ وہ کسی ہمہ گیر تبدیلی کے بجائے گورننس کے مسائل پر توجہ دیں۔ ملک کو سیاسی و معاشی اضطراب سے نکال لیں۔ ایک ایسا ماحو ل فراہم کر دیں جس میں سماجی ادارے کام کر سکیں تاکہ سماج بہتر ہو سکے۔

ٹھہراؤ ضروری ہے۔ کاش یہ بات حکومت کی سمجھ میں بھی آ سکے۔ حکومت کا کام دوسروں کو نیچا دکھانا نہیں، انہیں ساتھ لے کر چلنا ہے۔ یہ خواہش کہ ہمارے سوا کسی کو زمین پر سر اٹھا کے چلنے کا اذن نہ ملے، پوری ہونے والی نہیں۔ اہلِ دانش مایوس ہونے کے بجائے، انسانی تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی پسندیدہ سیاسی شخصیات کو اسی کی نصیحت کریں۔
اسی بات کا مشورہ دوسرے ریاستی اداروں کو بھی دینا چاہیے۔ وہ کسی جماعت کے بجائے جمہوری عمل کا ساتھ دیں تاکہ ہم سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکیں۔ وقت کے ساتھ ہماری دفاعی ضروریات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی تکمیل کے لیے ایک مضبوط معیشت ضروری ہے اور وہ استحکام بڑی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر نہیں مل سکتا۔

اہلِ دانش کو اگرچہ دیر سے غلطی کا احساس ہوا لیکن اس احساس کو اب کسی نئی غلطی کی تمہید نہیں بننا چاہیے۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.