گیارہ نکاتی ایجنڈا۔۔۔۔کالم طیبہ ضیا چیمہ

tayeba zia

روحانیت میں گیارہ طاق نمبر متبرک اور اچھا شگون سمجھا جاتا ہے۔ پیرنی صاحبہ نے استخارہ میں گیارہ نمبر نکالاہوگااورخان صاحب نے گیارہ نکات پیش کر دئیے۔نیا پاکستان کا نعرہ بھی بدل گیا ؟ یہ بھی روحانی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ نیا پاکستان کا مطالبہ منحوس ہے لہذا “دو نہیں ایک پاکستان “کا نعرے متعارف کرایا جائے۔عمران خان نے دلچسپ بات کہی کہ “ میں چار بہنوں کااکلوتابھائی اور اپنی والدہ کابے حد لاڈلا تھا اور اب نون والوں کا بھی لاڈلا ہوں “۔۔۔۔ نواز شریف اور ہمنوا جب عمران خان کو لاڈلا کہتے ہیں تو جنرل ضیا الحق کا لاڈ پیارشفقت بھرے بوسے اور تھپکیاں یاد آنے لگتی ہیں جو وہ میاں صاحب پر نچھاور کیا کرتے تھے۔ سیاسی قیادتوں سے “لاڈ “اس ملک کی پیدائشی تاریخ ہے۔ سب اپنے اپنے وقت میں لاڈلے رہ چکے ہیں لیکن اپنی ماں کا لاڈلا عمران خان ہی تھا ، چار بہنوں کا اکلوتا بھاءاور تین بیویوں کا لاڈلا شوہر۔ پاکستان کے حقیقی لاڈلے اور پیارے لیڈر قائد آعظم نے قوم کے سامنے چودہ نکات رکھے تھے۔ بابائے قوم طاق نمبروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عملی فارمولہ پیش کر گئے۔ چودہ گو کہ طاق نہیں تھا لیکن کمال نمبر تھا۔ قائد آعظم محمد علی جناح نے مارچ 1929ءکو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں چودہ نکات میں پیش کیے جو تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔۔لیکن ستر سال میں کسی لاڈلے نے چودہ نکات کی قدر نہیں کی۔ پاکستان تھالی میں رکھا مل گیا تو اتنا کھایا کہ تھالی میں جگہ جگہ سوراخ کر دئیے۔ عمران خان نے سارے پاکستان سے کارکن اکٹھے کر کے مینار پاکستان تو بھر دیا لیکن فقط لاہور سے اتنا مجمع اکٹھا کیا ہوتا تو یقین سے کہا جا سکتا تھا کہ عمران خان اگلا وزیر آعظم ہو گا۔ لاہور کے جلسے کی بنیاد پرپیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔ملکی سیاست گومگو کا شکار ہے۔مسلم لیگ ن تقسیم ہونے جا رہی ہے۔ چودھری نثار احمد کا کردار ابھی مخفی ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت نا اہل ہوءہے لیکن ن ابھی موجود ہے۔چودھری نثار کی خاموشی مسلم لیگ میں اہم موڑ ثابت ہونے کا امکان ہے۔سیاسی بساط ابھی wait and see کی صورتحال سے دوچار ہے۔ الیکشن وقت پر ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اداروں کے خلاف محاذ آرائی کے ماحول کو زائل کرنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ مسلم لیگ ن میں مفاد پرست طبقہ بساط لپیٹے جانے تک سرگرم ہے۔ غبارے سے ہوا نکلنے میں دیر نہیں لگتی۔ پاکستان کی تاریخ میں پرانے لاڈلے جب منظر سے ہٹا دئیے جاتے ہیں تو نئے لاڈلے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ حقیقی لاڈلا فقط پاکستان ہے۔پاکستان کی ناموس و حفاظت اولین فریضہ ہے۔” اوپر والے “ اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں گے اور نیچے والے نیچے جاتے رہیں گے۔گریٹر اقبال پارک میں اپنے 11 نکات بتاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نئے پاکستان میں پہلے نمبر پر تعلیم ہو گی۔ ایسا تعلیمی نصاب متعارف کروائیں گے جو پورے ملک کے لیے یکساں ہو۔ عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی ملک ترقی نہیں کرسکا جس نے تعلیم پر زور نہیں دیا۔۔۔ بلا شبہ تعلیم ایک حقیقت ہے اور عمران خان کی سوچ ترقی یافتہ ممالک کی عکاسی کرتی ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کیا صوبہ کے پی کے میں یکساں معیاری تعلیم عام ہو چکی ؟پانچ سالوں میں کے پی کے صوبہ غریب امیر کو مساوی و معیاری یکساں تعلیم دینے کا بین الاقوامی ریکارڈ تو درکنار پاکستان میں بھی نام نہ بنا سکا۔پنجاب پر بجٹ زیادہ خرچ ہونے کا شکوہ بجا لیکن وفاق کی نالائقی کی فہرست طویل ہے۔2016میں امریکہ کی سابقہ خاتون اوّل مشعل اوبامہ سے پاکستان کی دو لاکھ طالبات کے لئے وصول کئے گئے ستر ملین ڈالروں کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا تو صوبائی حکومتوں سے کیا گلہ۔عمران خان عوام سے پیسہ اکٹھا کرنا جانتے ہیں لیکن شاید بھول رہے ہیں کہ جس زمانے میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے چندہ جمع کیا کرتے تھے موصوف سیاست میں نہیں تھے۔ پوری قوم نے بڑھ چڑھ کر عطیات دئیے۔ نواز شریف کی حکومت نے ہسپتال کے لئے زمین وقف کی۔ پہلے سب ایک تھے لیکن تحریک انصاف کے وجود کے بعدصورتحال بدل چکی ہے۔عوام اب تقسیم ہو چکے ہیں۔عمران خان اب ایک سیاسی متنازعہ شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کے علاوہ عوام سے رقم اکٹھا کرنا مشکل ہو چکا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا قرض پانچ سالوں میں دوگنا ہو گیا۔ ن لیگ کی حکومت میں قرضہ 2013 سے 2018 تک 13 ہزار سے بڑھ کر 27 ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔ ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم قرضے واپس کرنے کے لیے قرضے لے رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مقروض ملک آزادی کھو بیٹھتا ہے۔نائجیریا کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ بچے اسکول نہیں جاتے۔دوران تقریر عمران خان نے ایک ویڈیو بھی دکھائی کہ جب ایوب خان امریکہ گئے تھے تو ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا تھا جبکہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ گئے تو تلاشی کے نام پر ان کے کپڑے تک اتروائے گئے۔۔۔ عمران خان اس قسم کی ویڈیوز دکھانے اور تمسخر اڑانے کی بجائے کے پی کے میں پانچ سالہ کارکردگی اور منصوبوں کی ویڈیوز دکھاتے تو قوم کے علم میں اضافہ ہوتا۔عمران خان کا خطاب پرانا تھا البتہ نئی بات گیارہ نکاتی ایجنڈا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام پارٹیوں کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ کسی طریقے سے اقتدار تک پہنچ جائیں۔حکومت گھر جارہی ہے یا جیل جلد فیصلہ ہوجائے گا البتہ عمران خان کا گیارہ طاق نمبر مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.