ہڈیوں کی کمزوری کا علاج۔۔۔ کیرن ہِنڈ/شارلوٹ رابرٹس

bones weak

وقت سے پہلے ہڈیاں کمزور ہوتی جا رہی ہیں، یہ وہ مسئلہ ہے جو ہر شخص کو درپیش ہے۔ زندگیوں کو آسان، مؤثر اور عمومی طور پر سست بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کی ترقی کا سفر جاری ہے۔ اس سب کا ہمارے جسم، خاص طور پر ہماری ہڈیوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ سست طرزِ زندگی سے ہڈیوں کی کم ہوتی مضبوطی وہ موضوع ہے جس پر سب سے کم بات کی جاتی ہے، لیکن شاید یہ اہم ترین موضوعات میں سے ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تین میں سے ایک عورت اور پانچ میں سے ایک مرد کو اوسٹیوپوروسس کی وجہ سے ہڈیوں کے ٹوٹنے کی شکایت ہوتی ہے۔ سن یاس کے بعد آسٹروجن ہارمون کی کمی اور اوسٹیوپوروسس کی شکایت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔

مجموعی طور پر ماضی کی نسبت ہمارا طرزِزندگی زیادہ سست ہے۔ ٹرانسپورٹ، بائیسکل کے بجائے موٹر سائیکل، پرچون کے سامان کی آن لائن خریداری اور گھر تک فراہمی ہمیں متحرک رکھنے میں مانع ہے۔ بالخصوص بچے کم متحرک ہو گئے ہیں۔ باہر کھیلنے کی جگہ کمپیوٹر گیمز نے لے لی ہے حالانکہ یہ ان کی نشوونما کا اہم ترین وقت ہوتا ہے اور ورزش (بالخصوص اُچھلنا) چھ ماہ میں ہڈیوں کو ساڑھے پانچ فیصد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ’’ماورائے جینز یادداشتیں‘‘ کئی نسلوں تک منتقل ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آج ہمارا طرزِ زندگی مستقبل کی نسلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر سست طرزِ زندگی یوں ہی جاری رہتا ہے تو نسلِ انسانی کے زیادہ کمزور اور منحصر ہونے کا خدشہ ہے۔ پہلے ہی فراہمی صحت کا نظام مشکل سے دوچار ہے اور یوں اس پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔ سائنس کیا کہتی ہے: ہمارا ہڈیوں کا ڈھانچہ بہت سے کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہمارے جسم کو سہارا دیتا ہے، اس سے عضلات، وتر (ٹینڈن) اور بافتیں جڑتی ہیں جن کی وجہ سے ہم حرکت کرنے کے قابل ہوتے ہیں، یہ کیلشیم اور فاسفورس جیسی معدنیات جمع کرنے کا ذریعہ ہے۔ تاہم جب بیرونی دباؤ یا محنت ختم ہو جاتی ہے تو ہمارے عضلات ضائع ہونے لگتے ہیں، ہڈیاں ہلکی، کم ٹھوس اور کم کارآمد ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے اوسٹیوپوروسس اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک ہفتہ بستر پر آرام کرنے سے ٹانگ کی ہڈی کی بیرونی سطح کا تین فیصد نقصان ہو جاتا ہے۔ 120 سے 180 روزہ خلائی مشن پر جانے والے خلابازوں کی ہڈیاں 10 فیصد کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ کم کشش ثقل میں ہڈیوں پر وزن نہ پڑنا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ درمیانی عمر میں بیٹھ کر گزارا گیا وقت ہڈیوں کی مضبوطی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سرگرمی میں کمی اور زیادہ وقت بیٹھے رہنے سے ہڈیوں کومہیج نہیں ملتا…روبوٹس اور مشینیں وہ کام کر رہے ہیں جو ہم خود کیا کرتے تھے۔ اس کے برعکس جب ہڈیوں سے کام لیا جاتا ہے تو ردعمل کے طور پر یہ مضبوط ہوتی ہیں۔ حالیہ اور گزشتہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ فٹ بال، ہاکی اور دوڑ کے کھلاڑیوں کی ہڈیاں 20 سے 30 فیصد زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ دورِ قدیم کے انسانی ڈھانچوں سے تقابل کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اپنے آباؤاجداد کی نسبت ہماری ہڈیاں زیادہ کمزور ہیں۔ جب انسان نے کاشت کاری کرنا اور جانور پالنا شروع کیے تو ان میں بہت فرق آ گیا۔ قدیم دور میں انسان خوراک کے لیے جنگلی پودوں اور شکار پر انحصار کرتا تھا۔ شکار اور پودوں سے خوراک حاصل کرنے والے قدیم انسان کاشتکاروں کی نسبت کہیں زیادہ متحرک تھے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی ہڈیوں کا حجم 20 فیصد زیادہ تھا۔ تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ نیو لیتھک، کانسی اور لوہے کے زمانے کی عورتوں کی ہڈیاں آج کل کی خاتون اتھلیٹس سے بھی پانچ سے 10 فیصد زیادہ مضبوط تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ بازوؤں وغیرہ کو بہت زیادہ استعمال کرتی تھیں۔ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ جدید انسان ہڈیوں کی مضبوطی کھو رہا ہے۔ کیا کرنا چاہیے: طرزِ زندگی میں تبدیلی اور سادہ ورزش کے ذریعے ہم اپنی ہڈیوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ فٹ بال جیسے دوڑنے والے اور دیگر وزن اٹھانے والے کھیل ہمارے لیے مدد گار ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کھیل کے میدان یا جِم نہیں جا سکتے تو کم از کم چلنا زیادہ کریں اور خریداری وغیرہ پیدل چل کر کریں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں۔ گھریلو باغبانی بھی مفید ہے، اسی طرح گھر کے کام کرنا بھی۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں معاون ہوں گی اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا امکان کم ہو جائے گا۔ خیال رہے کہ دنیا میں اوسٹیوپوروسس سے ہونے والے فریکچر 2010ء میں کم و بیش 15کروڑ 80 لاکھ تھے۔ 2040ء میں یہ تعداد دگنی ہونے کا امکان ہے۔ اس کی ایک وجہ تو شاید اوسط عمر میں اضافہ ہے لیکن ہماری عادات بھی ہڈیوں کی مضبوطی کو کم کر رہی ہیں۔

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.