ہیرو شیما۔۔ قیسی رامپوری

ہیروشیما

امریکا جب دوسری جنگِ عظیم میں کود تو پڑا تو آگے چل کر سخت مصیبت میں پھنس گیا۔ اول تو اسے جنگ میں اپنی شمولیت کے تھوڑے ہی عرصے بعد احساس ہونے لگا کہ یورپ میں مختلف محاذوں پر اس کا مقابلہ جن جرمن افواج سے ہوا وہ نہ صرف بہت تجربہ کار اور منظم تھیں بلکہ ان کے (جرمنوں کے) پاس جدید ترین اسلحہ بھی تھا۔ یہ ایسا اسلحہ تھا کہ اگر وہ کسی محاذ پر امریکیوں کے ہاتھ لگ جاتا تو وہ اسے استعمال کرنے سے قاصر رہ جاتے کیونکہ اس کی تکنیک بالکل مختلف تھی جس سے اتحادی ناآشنا تھے۔ اس کے علاوہ ہٹلر نے ایک ہوّا اور چھوڑ رکھا تھا جو خفیہ ہتھیار کے نام سے موسوم تھا۔ بہر حال جنگ میں شامل ہونے کے بعد امریکا خاصی دشواری میں مبتلا ہو گیا ۔ ایک طرف تو یورپ میں اسے جرمنوں سے لڑنا پڑ رہا تھا۔ دوسری جانب افریقہ میں بھی جنگ آزمودہ جرمن ہی اس کے مدمقابل تھے۔ جرمنوں کے مقابلے میں اتحادیوں کی افواج مہارت اور تجربہ میں کچی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں اتحادیوں کو شدید جانی اور حربی نقصانات اٹھانے پڑے۔

بہر حال اب تو امریکا کو یہ سب کچھ برداشت ہی کرنا تھا۔ لہٰذا وہ برابر یورپ و افریقہ میں اپنی فوجیں جھونکے جا رہا تھا۔ لیکن ایشیا میں جنگ کا نقشہ دوسرا تھا۔ یہاں اس کا مقابلہ براہ راست ایک بڑے اور اپنے وقت کے طاقت ور دشمن سے تھا۔ ویسے تو امریکا کو جاپان کی قوت کا اندازہ پرل ہاربر کے واقعہ ہی سے ہو گیا تھا، مگر جنگِ عظیم میں پھنس کر اس کی ٹکر ایشیا کی اس عظیم طاقت سے ہوئی تو اسے دن میں تارے نظر آنے لگے۔ جاپانی مادرِ وطن کی خاطر جان دینا سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس امریکی سپاہی جان کی بازی لگا کر لڑتا تو ضرور تھا مگر دل کی گہرائیوں میں اسے یہ احساس بھی تھا کہ سرزمین غیر میں بے مقصد جان دینا کوئی اہم کارنامہ نہیں۔ شاید ہر جارحیت پسند اور حملہ آور فوج کے دل میں اسی قسم کا احساس ہوتا ہے۔ بہر طور امریکی فوجی اور افسر عیش پسند ہونے کے سبب جنگ کے لیے سردھڑ کی بازی نہیں لگا رہے تھے۔ اس کے برخلاف جاپانی بغیر اندیشہ سود و زیاں میدانِ جنگ میں جس طرح جان دینے کو جوق در جوق بڑھتے تھے اس کا اثر امریکی فوج کے مورال پر پڑنا ناگزیر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی اپنے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ جاپانیوں کو مار کر بھی مطمئن نہ ہوتے اور انہیں ہر دم یہی دھڑکا لگا رہتا کہ جاپانیوں کے ہاتھوں نہ معلوم کہاں کہاں سے انہیں موت کے گھاٹ اترنا پڑے گا۔ بہرحال یہ جنگ امریکا کو اپنی پوری طاقت سے جاری رکھنا تھی تاکہ کسی طرح اس کا خاتمہ ہو سکے۔ ادھر جاپان نے ہندوستان کے شمال مشرقی علاقوں کو بھی روندنا شروع کر دیا تھا، اس سے انگریز زچ ہوتے چلے جا رہے تھے۔ اس زمانہ میں انگریزوں کا راج کشمیر سے لے کر برما اور ملایا (حال ملائیشیا) کے آگے تک تھا۔ مگر یہ سارے علاقے جاپان نے روند ڈالے تھے اور ہندوستانی فوجیں ان کی یلغار کی تاب نہ لا کر پسپا ہوتی چلی جا رہی تھیں۔ یہاں تک کہ جاپانی سابقہ مشرقی پاکستان تک آ پہنچے کیونکہ سنگاپور،

ملایا اور برما انگریزوں کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے۔ غرض ایشیا میں جاپان نے انگریزوں اور امریکیوں کی ناک میں دم کر دیا تھا اور ایسے آثار پیدا ہونے لگے تھے کہ جاپان کے ابھرتے سورج کی دھوپ پورے ایشیا پر پھیل کر رہے گی۔ یہ 1945ء کے واقعات ہیں جب یورپ میں جرمنی اور اتحادیوں میں جنگ ہو رہی تھی اور ہٹلر ابھی زندہ تھا۔ آخر مارچ، اپریل اور مئی 1945ء کے اوائل تک مغرب کی جانب سے اتحادیوں کی فوجیں اور مشرق کی طرف سے روسی افواج جرمنی میں داخل ہو گئیں اور تیزی سے برلن کی طرف بڑھنے لگیں۔ ہٹلر نے گھبرا کر اپنے ایشیائی حلیف جاپان کو پیغام بھیجا کہ وہاں امریکیوں کا پیچھا نہ چھوڑے اور جاپان نے بحرالکاہل میں امریکا کے خلاف جنگ کو شدید سے شدید تر کر دیا۔ یہ سب کچھ ہوا مگر اس سے برلن کی طرف امریکا کی پیش قدمی پر کوئی اثر نہ پڑا یہاں تک کہ بعد خونریزی بسیار برلن فتح ہو گیا اور اسی دوران ایک طرف تو ہٹلر نے خودکشی کر لی، دوسری طرف اس کے نامور ساتھیوں نے۔

ہٹلر اور جرمنی کے خاتمہ کے بعد یورپ میں تو جنگ ختم ہو گئی مگر ایشیا میں ابھی جاپان کی جنگ برابر جاری تھی اور بحرالکاہل میں امریکی مفاد بدستور جاپان کے ہاتھوں تباہ ہو رہا تھا۔ وہاں پھنسے ہوئے امریکی بحریہ کے جنگی بیڑے پر جاپانیوں کی مسلسل مار پڑ رہی تھی، اس سے امریکا اکتا گیا تھا اور عاجز آ کر سوچتا تھا کہ کس طرح اس سے پیچھا چھڑائے! یہ حالات دنیا کے دوسرے ملکوں کے بھی علم میں تھے اور وہ اس امر سے باخبر تھے کہ امریکا چاہے تو اپنی پوری فوجی طاقت کا رخ بحرالکاہل کی طرف موڑ کر جاپان کو شکست دے سکتا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسری بات کسی کے وہم میں آ بھی نہ سکتی تھی۔ کسی کو گمان تک نہ ہو سکتا تھا کہ امریکا عام جنگی اسلحہ کو بالائے طاق رکھ کر جنگ ختم کرنے اور ایک برابر کی ٹکر لینے والی قوم کو تباہ کرنے کے لیے کوئی ایسا انسانیت سوز قدم بھی اٹھا سکتا ہے جس کی نظیر دنیا کی کسی جنگ میں نہ ملے۔ غرض دنیا ایک خوش فہمی میں مبتلا رہی لیکن کسی نے جو کچھ سوچا تھا اس میں سے کچھ بھی نہ ہوا بلکہ امریکا نے وہ کر دکھایا جس کی طرف دنیا کا دھیان تک نہ جا سکتا تھا۔ ایک دن جاپان کا مشہور شہر ہیروشیما حسب معمول زندگی سے معمور تھا کہ آسمان پر ایک امریکی ہوائی جہاز نمودار ہوا جو کوئی استعجاب کی بات نہ تھی۔ امریکی ہوائی جہاز بم برسانے آتے جاتے ہی رہتے تھے لیکن آج ہیروشیما والوں نے اس ہوائی جہاز میں ایک عجیب قسم کا بم دیکھا۔ اس سے جو چمک خارج ہوئی وہ چمکیلے سورج سے بھی کہیں زیادہ تیز تھی اور جس کی چمک سے سینکڑوں آدمی اندھے ہو گئے۔ شہریوں کی حیرانی ابھی مٹنے بھی نہ پائی تھی کہ ایک بلا کا دھماکا ہوا۔ پھر دیکھنے ہی دیکھتے بے شمار مکانات اور شجر و حجر پتوں کی مانند ہوا میں اڑ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ اس بم کا دھواں، جس کی شکل ایک درخت جیسی تھی، قہر ناک گرج کے ساتھ پھٹ کر پھیلا اور ہوا میں اس بلا کی حدت و گرمی پیدا ہو گئی گویا ایک ساتھ کئی سورج زمین پر اتر آئے ہوں۔ پھر کیا تھا، ہر طرف آگ ہی آگ، شعلوں کے متلاطم سمندر، جن میں انسان کی تو کیا حقیقت تھی، پتھر کی چٹانیں اور لوہے کی چادریں اور ستون بھی پگھل کر پانی ہو گئے۔ یہ ایٹم بم تھا جسے امریکا نے صحرا یا پہاڑوں پر نہیں چھوڑا تھا بلکہ انسانوں سے بھرے ہوئے شہر ہیروشیما پر گرایا تھا۔

یہ ایٹم بم آج کے ایٹم بموں کے مقابلے میں کئی گنا کمزور تھا، پھر بھی اس نے ہیروشیما کے ہزاروں باسیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا اور جو لوگ بچ رہے وہ طرح طرح کی لاعلاج و مہلک بیماریوں کا شکار ہو گئے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بیماریاں ان کی آئندہ نسلوں کو منتقل ہونے والی تھیں۔ یہی حشر امریکا نے جاپان کے دوسرے شہر ناگا ساکی کا بھی کیا جس کے بعد جاپان کیا، دنیا کی کسی طاقت کے بھی میدان میں ٹھہر سکنے کا امکان نہ تھا۔ شکر ہے کہ ایٹم کے راز پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہی ورنہ پوری دنیا کسی لمحہ بھی ہیروشیما بن جانے کے خطرات میں مبتلا رہتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.