یہ جو آج ہے؟ کالم نذیر ناجی

nazir naji

الیکشن سے پہلے جو سیاسی پارٹیاں‘ انتخابی سرگرمیوں کا شیڈول مرتب کرتی ہیں‘ متعدد انتخابات ہونے کے بعد بھی کوئی باضابطہ طریقہ کار اختیارنہیں کرسکا۔انتخابات بارہا کبھی افہام و تفہیم سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نہیں ہوئے۔ صرف موجودہ انتخابات کی بات نہیں کر رہا ۔ ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی مقامی یا صوبائی گروپ‘ مخالف فریق کو محض جھنجلاہٹ میں مبتلا کرنے یا آپس کے تصادم کے لئے کشیدگی پیدا کر لیتا۔ بعض کی ذہنیت تو ایسی ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسری پارٹی کے بنے بنائے پروگرام میں‘اس لئے ٹانگ اڑا کر‘ شرافت پر یقین رکھنے والی جماعتیں یا ان کے نمائندگان‘روایتی رکھ رکھائو کی خاطر‘ اپنے پروگراموںمیں ردوبدل کر لیتے ہیں۔ایسا ہونے کی صورت میں یہ تبدیلی محض معاملے کو سلجھانے کے لئے نہیں کی جاتی بلکہ ووٹروں پر یہ دبائو ڈالنے کے لئے ہوتی ہے کہ شرافت پر یقین رکھنے والا فریق دبائو میں آجائے۔
پاکستان میں تواتر سے انتخابات نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ باربار کی فوجی مداخلت ہے۔ ایوب خان آئے تو انہوں نے طویل عرصے بعد ‘انتخابات کے نام پر بیوروکریسی کی انتظامی نگرانی کے تحت ‘ غیر معینہ عرصے کے لئے انتخابی شیڈول‘ اپنے پسندیدہ گروپ کے مفاد میں تیارہوتے۔ ابھی آئندہ انتخابات کے شیڈول تیار ہو رہے ہیں۔ میں نے شریف سیاسی کارکنوں کے حلقوں میں یہ باتیں سنی ہیں کہ میرا حلقہ تو پوری طرح توڑ پھوڑ کے رکھ دیا گیا ہے۔ کئی جگہ تین تین‘چارچار محلے ‘ درمیان میں چھوڑ کے ‘ اگلے کسی محلے میں اس حلقے کو شامل کر دیا گیا۔ دعوے یہ تھے کہ درمیان میں جو حلقہ ہم نے چھوڑا ہے‘اس میں ہمارے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔جبکہ اسی حلقے میں شامل کیا گیا اگلے محلے کے ووٹر‘ ان کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکتے۔یہ ہمارے دیرینہ طور طریقے ہیں۔

جب پاکستان قائم ہوا تو سب سے پہلے لوکل باڈیز کے انتخابات ہوئے۔ تب میں جھنگ شہر اور مگھیانہ کے انتخابی حلقوں میں سرگرم تھا۔ ان دونوں شہر وںمیںمیونسپل کمیٹیوںکے جو حلقے بنے‘ ان میں یہی احتیاط رکھی گئی کہ ایک برادری یا ایک محلے کے پڑوسی آپس میں مل جل کر‘ ایک پارٹی کے حامی بن جاتے اور ووٹنگ کا دن صلح صفائی کے ساتھ گزر جاتا۔ یوں بھی ہوتا ایک پولنگ کیمپ کے لوگ‘ دوسرے پولنگ کیمپ والوں کو چائے بھجواتے یا سوڈے کی بوتلیں تواضع کے لئے بھجوائی جاتیں۔ا س زمانے میں کوکا کولا‘ پیپسی اور سیون اپ وغیرہ نہیں آئے تھے۔دوپہر کو کھانے کے بعد چائے پی جاتی۔ اس کا طریقہ کار بھی یہی تھا کہ ایک کیمپ کا آدمی پڑوس والے کیمپ میں بیٹھے اپنے کسی دوست کو چائے بھجوا دیتا۔ اسی گپ شپ کے ماحول میں پولنگ ہو جاتی۔جب معینہ وقت ختم ہو جاتا تو ڈبے کھول کر‘ سارے امیداواروں کے نمائندوں کے سامنے ووٹ گنے جاتے۔ کامیابی اورناکامی کے نعرے لگنے لگتے۔ ان میں تلخی یابدمزگی نہیں ہوتی تھی۔ جیت والے ہارنے والے کو مبارکیں دیتے۔ جیتنے والے کیمپ کے لوگ فاتحانہ نعرے لگاتے ۔ کبھی یوں بھی ہوتا کہ ہارنے والے بھی جیتنے والوں کے ساتھ مل کر نعرے لگاتے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایوب خان نے عام انتخابات کا نظام بدل کر‘ لوکل باڈیز یا بلدیاتی نظام قائم کر دیا۔ سیاسی جماعتیں قائم کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مختلف گروپ آپس میں الیکشن لڑتے۔جو کامیاب ہوتے ‘ وہ ایوب خان کے حامی کہلاتے۔ نہ کوئی اپوزیشن۔ اور نہ کوئی حکمران پارٹی۔ جو ہار گئے وہ گھروں کو چلے گئے ۔ جو جیت گئے‘ وہ بھی اپنے گھروں کو چلے گئے ۔اس کے بعد جس گروپ کے لوگ‘ ایوب خان کے حامی بنتے‘ وہ ان کی پارٹی بن جاتے اور باقی آرام سے رہنے لگتے۔ایوب کے حامیوںنے اپنے اپنے گروپ بنائے۔ انہی گروپوں میں سے حکمران پارٹی بنتی۔ ڈی سی اور تحصیلدار ‘ ایس پی اور تھانیدار اپنے حلقوں میں رہنے والوں کو اکٹھا کر کے حکم دیتے کہ تم ایوب خان کی پارٹی کے ہو۔اس کا نام کنونشن لیگ رکھا گیا۔ سبب یہ تھا کہ ہر حلقے کے چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر‘ ایوب خان کے حمایتی بنتے اور وہ کنونشن لیگ کے اراکین ہو جاتے۔ کیونکہ یہ ایوب خان کی پارٹی کا نام تھا۔

لوکل باڈیز کے یہی منتخب نمائندے حکمران پارٹی کے اراکین بن گئے ۔ جو باقی ماندہ میٹریل تھا‘ ان کے لئے بلدیاتی حلقے بنا کر میونسپل اور ڈسٹرکٹ کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ڈسٹرکٹ کمیٹی کا راج پورے ضلع میں ہوتا۔ اس کے بعد محلہ کمیٹیاں بنتیں اور یوں لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ تم حکومتی پارٹی کے رکن ہو۔یہی لوگ قومی اور صوبائی حلقوں میں وارڈ کمیٹیوں کے نمائندے بنائے گئے۔ بڑے شہروں کی میونسپل کمیٹیاں ‘ اپنے اپنے شہروں کے انتظامات چلاتیں۔ پورے ضلع میںڈسٹرکٹ کونسل یاشہری حلقے بنا کر ان کا انتظام شہری سطح پر ہو گیا۔ وہ پہلا طرز انتخاب تھا جس میںدھڑے بندیاں وجود میں آئیں۔ پہلے تو سب ایوب خان کے حامی تھے ۔ زبردست احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ایوب خان اقتدار سے نکالے گئے۔ شاید پہلے عرصے کے لئے وہی لوکل باڈیز کا سلسلہ چلایا گیا۔ پھر اس کے بعد بھی جمہوری نظام قائم ہوا۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد آج تک کی تاریخ اگر لکھی جائے تومختلف ادوار میں ہر تبدیلی‘ شخصیات اور طبقوں کے مفادات کے تحت مختلف گروپ منظم ہوئے۔اس کی تفصیل تو لامحدود ہے۔مگراسے مختصر ترین الفاظ میں پاکستان کے مختلف نظام ہائے حکومت کی تلخیص انشااللہ کل پیش کروں گا۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.