یہ معاشرہ، یہ نظام، یہ جمہوریت۔ حسن نثار

Hassan Nisar

اخبار خبروں سے بھرے پڑے ہیں بلکہ چھلک رہے ہیں۔ اسد درانی کی کتاب سے ’’نیب‘‘ کے احتساب تک، 8ضلعوں میں دوبارہ حلقہ بندیوں سے اورنج ٹرین، میٹروبس منصوبوں میں کرپشن کی تحقیقات تک، نہروں کی بندش پر جمشید دستی کی قیادت میں کسانوں کے احتجاج سے لوڈشیڈنگ کے خاتمہ پر ’’شریفانہ‘‘ جھوٹ تک، گرمی کی وجہ سے گلیشیر پگھلنے کے اثرات سے ڈولفن فورس کی قاتل گولی تک، گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکلوانے کے لئے اقدامات کے فیصلہ سے پاک بھارت فوجی حکام کے ہاٹ لائن پر رابطہ تک، انتخابی نشانوں کی الاٹمنٹ سے غذائی قلت کے باعث بچوںکی ہلاکت تک، آسٹریلیا میں پانی کی بچت کا شعور بیدارکرنے کےلئے حدیث نبویؐ کے استعمال سے لوٹ مار، قتل و غارت میں ایشیا کے اندر پاکستان کو غیرمحفوظ ترین ملک ڈکلیئر کئے جانے تک، عائشہ گلالئی کو ’’بلے باز‘‘ کا انتخابی نشان نہ ملنے سے اداکارہ میرا کے کیس ہارنے پرردعمل تک، ’’سی پیک‘‘ کے تحت ابھی تک ایک بھی اکنامک زون نہ بننے سے فاٹا انضمام پر فضلو صاحب کی پریشانی تک، پارلیمینٹ لاجز کے 113ایئرکنڈیشنرز غائب ہونے سے مہاتیر محمد کے مقروض ملائیشیا میں میگاپراجیکٹ بند کرنے تک، ایٹمی دھماکوں کے پیچھے افواج پاکستان کے کردار سے اس 1230 سالہ بزرگ درخت تک جو اَب بھی مسلسل بڑھ رہاہے…..

خبریں ہی خبریں ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں لیکن میں نے آج اک اور قسم کی ’’خبر‘‘ کا انتخاب کیاہے۔گزشتہ کالم میں آپ نے اس غیور باشعور پاکستانی کے بارے میں پڑھا ہوگا جس نے ’’یوم تکبیر‘‘ کی تقریب میں میاں نوازشریف المعروف ’’مجھےکیوں نکالا‘‘ سے ہاتھ ملانے کی کوشش کے نتیجہ میں تھپڑوں، گھونسوں، ٹھڈوں، لاتوں سے ’’ووٹ کی عزت‘‘ کو جی بھر کرانجوائے کیا۔ اس عبوری خاطر تواضع کے بعد جب ایوب بھٹہ نامی اس ووٹر کے بارے ’’میزبانوں‘‘ کو یہ علم ہوا کہ وہ کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ ن لیگ کا سپورٹر بلکہ عہدیدارہے تو اسے بھرپور ’’پروٹوکول‘‘ کے ساتھ ’’اک واری فیرشیر‘‘ کے نعروں کی گونج میں ’’انقلابی‘‘ اور ’’نظریاتی‘‘ قائد کے حضور پیش کیا گیا۔ قائد نے ’’جمہوری انداز‘‘میں ملکی ترقی و استحکام کے لئے ’’اصولی موقف‘‘ پرڈٹے رہ کرسرعام چھتر کھانے پر ایوب بھٹہ نامی اقبال کے اس شاہین کو گلے لگایا اور روشن مستقبل کی نوید سنائی جس کے بعد غیرت و حمیت کا یہ پتلا اک نئے جذبے کےساتھ پھرسے بھنگڑے میں مصروف ہوگیا۔’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی‘‘ اور کبھی نہ کبھی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ضرور ہوگا۔’’ووٹ اورووٹر کی عزت‘‘ کےاس اصلی حقیقی تے وڈے سمبل کےبارے میں تازہ ترین بلکہ ’’بریکنگ نیوز‘‘ تواب آئی ہے جس پر بیشمار خبریں چھوڑکر میں نے آج کے کالم کے لئے اسے منتخب کیا ہے۔ پہلے سرخیاں پھر خبر…..

’’نواز شریف نے گھر لے کر دینے کا وعدہ کیاپورا نہیں ہوا: ایوب بھٹہ‘‘’’یو سی 182میں جنرل سیکرٹری ہوں اور 1992سے نوازشریف کے ساتھ ہوں‘‘’’نواز شریف نے میری دستار بندی بھی کی تھی‘‘، اسٹیج پرمار کھانے والے کارکن کی گفتگو….. اور اب خبر’’یوم تکبیر کی تقریب کے دوران ایک ن لیگی کارکن دوڑتاہوا اسٹیج پر آگیا اور نوازشریف سے ہاتھ ملانےکی کوشش کی لیکن قیادت کےگارڈز نے اسے پکڑ کر خوب مارا پیٹا۔ اس شخص کا نام ایوب بھٹہ ہے جوبہت پرانا مسلم لیگی کارکن ہے۔ ایوب بھٹہ نے ’’خصوصی گفتگو‘‘ کرتے ہوئے بتایاکہ اس کا تعلق یو سی 182سے ہے اور وہ ماشاء اللہ جنرل سیکرٹری بھی ہے۔ نوازشریف نے اس سے 2008میں رہائش لے کردینے کا وعدہ کیا تھالیکن ابھی تک نہیں ملی تاہم حمزہ شہباز نے2018میں مجھ سے درخواست لی تھی۔ سب سے پہلے تو غلطی میری تھی کیونکہ مجھے اس طرح اسٹیج پر نہیں جانا چاہئے تھا۔ سیکورٹی گارڈز نے جو مجھے گھونسے ٹھڈے مارے وہ مجھے پھولوں اور کلیوں کی طرح لگے۔

نوازشریف، شہباز شریف اور مریم باجی پر میری جان قربان ہے۔‘‘قارئین!خبر ختم کرکے کچھ سوچنا شروع کرتے ہیں۔بات کسی سیاسی جماعت یا سیاسی لیڈر کی نہیں اس معاشرہ، اس نظام، اس عوام دشمن جمہوریت کی ہے جس نے انسانوں کو انسان ہی نہیں رہنے یا بننے دیا۔ ’’اشرف المخلوقات‘‘ کو “Submen” اور “Manimals” میں تبدیل کردیا۔ ’’روٹی کپڑا مکان‘‘ دیتے دیتے ان سے عزت ِ نفس بھی چھین لی۔ شاید میں غلط لکھ گیا کیونکہ چھن جانے کےلئے تو کسی شے کا ہونا ضروری ہے۔ جو شےسرے سے موجود ہی نہ ہو، اس کا چھننا کیسا؟

ایوب بھٹہ نامی اس مخلوق کو اگر مناسب سی معیاری تعلیم مل گئی ہوتی، کسی ذمہ دار ریاستی ادارے نے اسے کوئی ہنر سکھا دیا ہوتا، یہ کم سے کم سطح پر بھی خودکفیل ہو گیا ہوتا تو کیا یہ اسی طرح ایکٹ، ری ایکٹ اور بی ہیو کرتا؟70سال میں ایک ایٹم بم اور کروڑوں ’’ایوب بھٹے‘‘ ہی ہماری اصل کمائی ہیں۔ملک صرف میدانوں، پہاڑوں، صحرائوں، جنگلوں، دریائوں، سمندروں، پلوں، اوور ہیڈز، انڈر پاسز، میٹروز، اورنج ٹرینوں سے نہیں….. جھنڈوںاورقومی ترانوں سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں۔ یہ معاشرہ، یہ نظام، یہ جمہوریت کیا بنا رہی ہے؟ کس تعداد میں بنارہی ہے؟ اور اس کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا؟بشکریہ روزنامہ جنگ

Author: admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.