ڈاکٹر شاکرہ نندنی

کل ایک جھلک زندگی کو دیکھا وہ راہوں پر کھڑی، گُنگنا رہی تھی پھر ڈھونڈا اُسے اِدھر اُدھر  وہ آنکھیں جھپکائے، مُسکرا رہی تھی اِک عرصے بعد آیا مُجھے قرار وہ سہلا کر مُجھے، سُلا رہی تھی ہم دونوں خفا ہیں ایک دوسرے سے  میں اُسے اور وہ مُجھے، سمجھاContinue Reading

Dr Shakira

پورٹو سٹی میں میرے گھر سے ایک فرلانگ آگے چھوٹی سی مارکیٹ میں ایک حجام تھا۔انوکھی بات یہ تھی کہ وہ اپنے گاہکوں سے پیسے بالکل نہ لیتااور کہتا کہ میں اپنے شوق کی تکمیل کے ساتھ خدمت خلق کر رہا ہوں۔ایک شخص نے بال کٹوائے شیو بنوائی اور جبContinue Reading

ڈاکٹر شاکرہ نندنی

وہ ایک درندہ تھا  انسان کے روپ میں ایک بھیڑیا اپنے دوست کی جس چھ سالہ بیٹی پر اس کی بری نظر تھی  وہ اس کی بیٹیوں سے بھی کہیں چھوٹی ہوتی  اگر وقت پر اس نے شادی کر لی ہوتی   اس کو وہ بہلا پُھسلا پر جس پارکContinue Reading

Parveen Shakir grave

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کےContinue Reading

مولانا سعدی کی حکایت

شام کے رہنے والے ایک بزرگ، جن کا لقب خدا دوست تھا، آبادی سے نکل کر ایک غار میں آباد ہوگئے تھے۔ اللہ کی یاد کے سوا اب انہیں کسی بات سے غرض نہ تھی اور ان کی یہی بے غرضی ان کی مقبولیت کا سبب بن گئی تھی۔ لوگContinue Reading

مولانا سعدی کی حکایتیں

ایک بادشاہ معمولی قبا زیب تن کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ایک درباری نے کہا کہ حضور والا خزانوں کے مالک ہو کر ایسے معمولی کپڑے کی قبا پہنتے ہیں۔ مناسب تو یہ ہے کہ اپنے لیے بہترین چینی ریشم کی قبائیں تیار کرائیں۔ یہ بات سن کر عادلContinue Reading

مولانا سعدی کی حکایتیں

ایک درویش سمندر کے کنارے اس حالت میں زندگی گزار رہا تھا کہ اس کے جسم پر چیتے کے ناخنوں کا لگا ہوا ایک زخم ناسور بن چکا تھا۔ اس ناسور کی وجہ سے درویش بہت تکلیف میں مبتلا تھا۔ مگر اس حالت میں بھی وہ اللہ کا شکر اداContinue Reading

شیخ سعدی

حاکمِ شیراز تکلہ بن زنگی نے ایک دن ندیموں کی مجلس میں یہ اعلان کیا کہ میں تختِ حکومت چھوڑ کر باقی عمر یادِ خدا میں بسر کروں گا۔ بادشاہ کی یہ بات سنی تو ایک روشن ضمیر بزرگ نے ناراض ہو کر کہا کہ اے بادشاہ! اس خیال کوContinue Reading

isma tariq columnist

بات ادھوری کرتی ہو پھر بھی شکوے ہزار کرتی ہو چاند سے کتنا دور رہتی ہو پھر بھی پاس رہتی ہو چپ چاپ  سب سہتی ہو پھر بھی ہستی مسکراتی رہتی ہو زبان پہ لاکھ قفل سجائے رکھتی ہو پھر بھی سب کہہ دیتی ہو محبت اچھی کرتی ہو پھر بھی چھپائے رکھتی ہو پر کٹے رکھتی ہو پھر بھی اڑانContinue Reading

شیخ سعدی

دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک بادشاہ کی سرکار میں ملازم تھا اور دوسرا محنت مزدوری کر کے آزادی سے اپنی روزی کماتا تھا۔ ایک دن امیر بھائی اپنے غریب بھائی سے ملنے آیا تو گفتگو کے دوران کہنے لگا بھائی! میں تو کہتا ہوں کہ تم بھی بادشاہContinue Reading