mirza ghalib

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا کبھی تو نہ توڑ سکتا اگرContinue Reading

mirza ghalib

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خداContinue Reading

mirza ghalib

آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تکContinue Reading